کبھی نصف شب آسمان پر بے شمار تاروں کے درمیان ایک چاند تیرتا ہو ا ہم کلام ہوتا ہے۔ تیز ہواؤں میں کہیں درخت جھومتے ہیں تو پرندوں کی چہکار میں ایک آواز جو بہت تیز اور دل میں اترتی ہوئی کُوک جیسی لگتی ہے۔ تیز بار ش میں پھولوں کے رنگ نکھر جاتے ہیں مگرچند پھول اپنے دلکش رنگوں سے دل کو لبھاتے ہیں۔ ایک مترنم گیت۔ باد صبا میں تیرتا ہوا ہو کوئی من موجی پرندہ۔ اور پانیوں میں لہراتا ہوا ایس ڈی برمن کا گیت۔ سُن میرے بندو رے سُن میرے متوا۔ زندگی کے خالی پن کو جیسے بھر دیتا ہے۔ اور اسی طرح ایک خوبصورت شعر اور اس کا خالق ہر دل عزیز بن جاتا ہے۔
شرجیل انظر اپنی باقی ماندہ زندگی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ جب وہ ریٹائر نہیں ہوئے تھے تو ان کا آفس ”حلقہ ارباب ذوق“ ہو ا کر تا تھا۔ اور میری ان سے مدتوں کی آشنائی مجھے ہفتے میں دو تین بار ان کے آفس میں لے جاتی تھی، جہاں ہر دلعزیز ’حاجی صاحب‘ جناب پرویز مجید صاحب بھی براجمان ہوتے تھے۔ شرجیل انظر صاحب مطالعہ اور نئی کتب اور قدیم دوستوں کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔ چند ماہ پیشتر انہوں نے اپنے دھیمے لہجے میں کہا کہ ایک عمدہ کتاب آئی ہے وہ نگارشات کے آصف سے جا کے لے آؤ اور کچھ دیکھو کیسی شاعر ی ہے۔ میں نگارشات ٹمپل روڈ پہنچا اور آصف صاحب سے چائے نوش کرنے کے بعد فواد حسن فواد کی ” کنج قفس“ وصول کی۔ کتاب کے سیاہ سرورق کو میں نے حیرت سے دیکھا۔ کسی شاعری کے مجموعہ کلام کا اس نوعیت کا سرورق میرے لئے اچنبھے کا باعث تھا لیکن جب میں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو’گویا دبستان کھل گیا‘۔ اور سرورق کی معنویت مجھ پر آشکار ہوئی۔ آغاز میں کچھ نامور شخصیات کی فواد حسن فود کے بارے میں مضامین تھے۔
اعتزاز احسن لکھتے ہیں کہ
” فواد حسن فواد کی حیران کر دینے والی شاعری ” کنج قفس“ کی شکل میں ہمارے سامنے آئی ہے۔ ایک ایسا صاحب جس نے افسر شاہی میں عروج کی انتہا پا لی ہو اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر اس بلند و بالا چوٹی کی نشست پر قریباً پانچ سال براجمان رہا ہو اور اس عرصے دوران تمام وفاقی محکموں میں اس کا کہا اور لکھا ہی قانون سمجھا جاتا ہو اگر شاعر بلکہ مزاحمتی شاعر نکلے تو حیرت ہو گی۔" فواد صاحب کے دو شعر یہاں انہوں نے درج کیے ہیں
ان کو مطلوب تھی اک جھوٹی گواہی مجھ سے
اور میں مجرم تھا کہ میں نے وہ اعانت نہیں کی
ساتھ جائے گا تمہارے ہی یہ اعزاز حسن
عمر بھر لفظ چُنے اور خیانت نہیں کی
حامد میر نے لکھا ہے کہ
”فواد صاحب کا باغیانہ اور مزاحمتی لہجہ صرف ان حاکموں کو نہیں للکارتا جنہوں نے اپنے ہی لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے بلکہ ان ظالموں کو بھی بار بار للکارتا ہے جنہوں نے اہل کشمیر کو غلام بنا رکھا ہے۔ جب وہ عمران خان کی قید میں تھے تو اپنی نظموں میں بھارتی وزیر اعظم مودی کو للکارہے ہوتے تھے۔“
نجم سیٹھی کی رائے ہے
”فواد کی شاعری کا یہ مجموعہ اس کے تکلیف دہ تجربے کے شدید احساس کا آئینہ دار ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ہماری تاریخ کا ایک حصہ بھی ہے کیوں کہ بہت سے دوسرے لوگوں کو اسی طرح کے حالات سے گزرنا پڑا۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے اتنی ناانصافی کسی اور سے نہیں ہوئی جتنی فواد سے ہوئی۔ فواد کی نظموں کا ایک بنیادی خیال دل شکستگی ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے پوری عمر اپنے ملک کی خدمت میں گزار دی لیکن جسے اس کے بدلے میں ذلت و رسوائی سے دوچار کیا گیا کیونکہ وہ اس نظام کے خالقوں کی راہ میں رکاوٹ بن گیا تھا۔"
شرجیل انظر نے لکھا ہے
”اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اس نے امیر شہر سپہ سالار اعظم، شوریدہ سر شہزادوں اور حرم سرا کی سازشوح کو دیکھا ہے۔ جہانگیری و جہانبانی کی بالائی غلام گردشوں میں پھیلی بساند کو سونگھا ہے۔ اسی لئے فواد کی شاعری میں زندگی غصے اور المناکی میں گندھی ہوئی ملتی ہے۔ محرک داخلی ہو یا خارجی۔ اس کا بیان اجتماعی شعور کا احاطہ کرتا ہے۔ ایک منجمد معاشرت کا فعال حصہ ہونے کے باوجود اپنی انسانیت حساسیت اور تخلیقیت کو قائم رکھنے بلکہ خفیہ طور پر پروان چڑھانے میں کامیاب ہوا ہے۔ بڑا شاعر نجانے کون ہوتا ہے مگر اچھا شاعر زندگی کون ہوتا ہے مگر اچھا شاعر زندگی کے طرب الم کو ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے موازنے کی خاطر نہیں بلکہ دو مساوی اور لازمی پہلوؤں کے طور پر۔ یقین کہ اس شاعر کو پڑھنے کے بعد ہم فواد حسن فواد کو ایک جداگانہ انسان اور شاعر کے طور پر یاد رکھیں گے۔"
فواد حسن فواد کی شاعری ہجر وصال کی شاعری نہیں ہے اور نہ ہی محبوب چہرے دلکش آنکھیں، رخسار اور ہونٹ کسی شعر کا موضوع ہیں لیکن ان کی شاعری میں جو خیال اور فکر ہے وہ دل میں جا کرتے ہیں۔ اس شاعری کو کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی محض ”مزاحمتی شاعری کہتے ہوئے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔
سلال حسن کے لئے ایک نظم
(اُس کی سالگرہ پر)
مرے بیٹے مری جاں
تم مری تقلید نہ کرنا
اگر اس خطۂ ارضی پہ رہنا ہے
تو سچ کو سچ نہ کہنا
حرف کی حُرمت پہ کٹ مرنے کا سودا
سر میں مت رکھنا
جو جاں دینے پہ آمادہ ہوں
ردِ کفر کی خاطر کھڑے ہوں
اُن کی بھی تائید نہ کرنا
مری تقلید نہ کرنا
مر ے بیٹے
بھُلا دینا وہ قدریں
جن کی بنیادیں
گئے برسوں میں گھنٹوں بیٹھ کر ہم نے اٹھائی تھیں
وہ سارے خواب جو ہم نے تراشے تھے
اس ارض پاک کی تصویر جو ہم نے بنائی تھی
وہ جس میں میرے گزرے ساٹھ برسوں کی ریاضت
اور تمہاری حرف حق کہنے کی جرات کو
نئے اک عہد کی بنیاد بننا تھا
وہ جس میں
میں نے منزل کا پتا دینا تھا
اور تمہیں فرہاد بننا تھا
وہ سب قدریں وہ سب بنیادیں
منوں مٹی تلے جا کر کہیں پر دفن کر دینا
تمہارے سامنے پھر
جبر و استبداد کا کوئی نیا منظر
اگر تصویر ہو جائے
تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے کوئی مورخ
سلگتے چیختے ہر سچ کو آتش دان میں ڈالے
نئی تاریخ اک تحریر ہو جائے
تو اُس پر بھی مری جاں، تم مری خاطر
کوئی تنقید نہ کرنا
مِری تقلید نہ کرنا
مرے بیٹے
بس اتنا یاد رکھنا
مرے ذمے اب اس مٹی کا کوئی قرض بھی واجب نہیں ہے
مرے گزرے دنوں کا لمحہ لمحہ اس کا شاہد ہے
مگر پھر بھی
امیر شہر یا اُس کا کوئی بھی حیلہ گر
مجھ پر دُشنام دے
یا پھر کوئی بہتان باندھے
اُس کی بھی تردید نہ کرنا
مرے بیٹے مری جاں
تم مری تقلید نہ کرنا
مرے بیٹے
میں تم سے یہ نہیں کہتا
کہ ہجرت تم پہ واجب ہوچکی ہے
مگر اتنا تو کہتا ہوں
کسی جابر، کسی سلطان کے آگے
ادا تم کلمۂ توحید نہ کرنا
مرے بیٹے، مری جاں
تم مری تقلید نہ کرنا
اپنے بیٹے کو یہ تلقین درحقیقت بادی النظر میں اُس نوجواں کو اُن کٹھن آزمائشوں کے بارے میں آگاہی دینے کی کوشش ہے جو کسی بھی بڑے امتحان سے گزرنے کی قیمت ہوا کرتے ہیں۔ ”میں نے ایک مدت کے بعد ایک ایسی کتاب ” کنج قفس“ کی صورت میں پڑھی ہے جسے میں اپنے مایوس لمحات میں روشنی قرار دیتا ہوں۔ فواد حسن فواد نے نظریے کا نعرہ نہیں لگایا ہے اور نہ ہی سوشلزم یا ترقی پسندی کا ”منجن“ بیچا ہے۔ مگر ایک روشن سویرا اس قفس کے روزن سے طلوع ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے جہاں فواد حسن فواد اپنے ناکردہ جرم کی سزا بھگت رہے تھے۔
خیر وہ اس قفس سے تو یہ شاندار فکر و خیال کی زنبیل لے آئے جو ان پر وحی بن کر اُتری لیکن وہ کیا لے کر آئیں گے جن کے داغ دار دامن میں ان گنت بے گناہوں کے قصے ہیں۔
فواد صاحب کے چند مزید اشعار
میرا لہو جو صحن چمن میں بکھر گیا
ہر اک اداس پھول کا چہر ہ نکھر گیا
آنکھیں سلگ اٹھی ہیں کسی کے خیال میں
شام فراق تیرا مقدر سنور گیا
قدموں کی چاپ تھی کہ مرے دل کی دھڑکنیں
جھونکا تھا یا ہوا کا کہ آیا، گزر گیا
اپنی گلی کے لوگ بھی انجان بن گئے
سب نے نگاہیں پھیر لیں میں جس کے گھر گیا
فواد حسن فواد کی شاعری قطعی طور پر ہجر و وصال کی شاعری نہیں ہے اور ایسے قارئین کو یقیناً مایوسی ہوگی جو محبت کے اسرار و رموز سے بار دگر آشنا ہونا چاہتے ہیں انہیں لازمی مایوسی ہوگی لیکن میرے اور فواد صاحب کے دوست شرجیل انظر کی زنبیل سخن کی طرح ایک نظم تو ایسے دل کے معاملات کے بارے میں بھی ’ کنج قفس‘ میں موجود ہے
وہ ایک لڑکی
وہ دن جو میں نے بہار لمحوں کی
قربتوں میں بسر کیے تھے
انہی دنوں میں مرا تصور
گلاب بن کر مہکتا جب تھا
میں سوچتا تھا وہ ایک لڑکی
جو وحشتو ں کے سفر میں میرے
قدم سے اپنے قدم ملائے
مری طرح سے جنوں ہو جس کو
کہ خار زاروں میں
ننگے پاؤں سفر کر یں گے
وہ دن جو میں نے بہار لمحوں کی
قربتوں میں بسر کیے تھے
انہی دنوں میں وہ رنگ بن کر
مرے قلم میں ابھرتا جب تھا
میں لکھ رہا تھا وہ ایک لڑکی
جسے ہواؤں کی تیز یوں میں
جسے سُکھوں کی طرح سے دُکھ بھی عزیز ہوں گے
جو میری مانند اپنی آنکھیں اُفق پہ گاڑے مہیب سوچوں میں غرق ہوگی
جسے لبو کی حلاوتوں سے
لبوں کی سُرخی عزیز ہوگی
لغت میں جس کی
خلوص و مہر و وفا و الفت کے لفظ ہوں گے
وہ جس کی چاہت میں
کوئی مقصد چھپا نہ ہوگا
مری نظر کے حصار میں جو
زمانے بھر کی غلیظ نطروں سے دور ہوگی
وہ دن جو میں نے بہار لمحوں کی
قربتوں میں بسر کیے تھے
انہی دنوں میں مری زباں پر وحی اُتری۔۔۔۔
باقی نظم پڑھنے سے پہلے ہی مجھے یہ احساس ہو گیا تھا کہ یہ بھی مزاحمتی نظم ہے اور اس کی تصدیق آخری سطر پڑھنے تک ہو گئی۔
میں ایک مزاحمتی شاعر کے لئے رومان ”شجر ممنوعہ“ قرار نہیں دے رہا۔ ”چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے“ کہنے والا شاعر چکی کی مشقت ہرگز فراموش نہیں کر سکتا۔ ” کنج قفس“ کی کہانی میں بے شمار کہانیاں ہیں اور وہ سچ ہیں جو ہماری تاریخ کا عنوان ہیں
فواد حسن فواد ”حرف جنوں سے کنج قفس تک“ میں لکھتے ہیں کہ
”سچ تو یہ ہے کہ 16 ماہ کی وہ قید تنہائی میری زندگی کا ایک سرمایہ ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس میں خود کو دیکھتے کبھی ندامت محسوس نہیں ہوئی۔ میری شاعری کس حد تک میرے عہد کی تاریخ ہے اس کا فیصلہ تو آپ لوگ یا آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن ایک بات کا یقین آپ کو ضرور دلاتا ہوں کہ یہ سب کچھ سچ ہے۔ آدھا اور ادھورا نہیں پورا کا پورا سچ ہے۔ شاید اس لئے بھی کہ ہمارے عہد کی ماؤں کی گود میں سچ کے علاوہ کسی خمیر کی کاشت ہی نہیں کی گئی اور نہ ہی ہمیں وفا کے علاوہ کوئی اور سبق دیا گیا۔ سو جو کچھ بھی سوچا، لکھا اور اور کیا وہ ایمان و یقین سے کیا۔ اس میں نہ تو کسی کی خوشنودی مطمع نظر تھی اور نہ ہی کہیں کوئی خوف کی دیوار کھڑی تھی۔
” کنج قفس“ کی نظموں میں ”مرے کشمیر نے آزاد ہونا ہے“، ”یہ معجزہ بھی تو اک دن خدا دکھائے گا“، ”کوٹ لکھپت جیل“، "اُجڑتے شہر کا نوحہ“، ”افغانستان کے نام“، ”مرقد گم نام سے (سید علی گیلانی کا پیغام)"، ”جُہد مسلسل (یٰسین ملک کے نام)" سمیت کُل پانچ نظمیں آزادی کشمیر کے موضوع پر کتاب میں شامل ہیں جس سے ان کی پاکستان کی نظریاتی اساس سے حقیقی تعلق اور فکر کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
تاریخ کا قتل کچھ یوں بھی ہوا ہے کہ ہمارے ہیرو ولن بنا دیے گئے اور ولن ہیرو ہو گئے۔ لیکن تاریخ کا سچ ہمیشہ انمٹ رہتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں شرجیل انظر کی وساطت سے فواد صاحب کی دوسر ی کتاب آنے سے پیشتر ان سے ایک مکالمہ ضرور کر سکوں گا
اُس کی آنکھ کا نم دیکھا تھا
لیکن ایسا کم دیکھا تھا
اپنے کل کو جان گیا تھا
لفظ کی حُرمت پہ کٹ مرنا
تیرے دور میں کم دیکھا تھا
میرا دل بھی بوجھل سا تھا
اُس کو بھی برہم دیکھا تھا
جب میں لوٹ کے گھر آیا تھا
اپنے پیر کا خم دیکھا تھا
میں جھیلا تھا زہر کے خنجر
تُم نے بس ماتم دیکھا تھا
وہ تو مجھ کو جان گیا تھا
میں نے اُس کو کم دیکھا تھا
برگد بھی سب بھیگ گئے تھے
مٹی کو بھی تم دیکھا تھا
حسن فواد کے ہاتھ میں ہم نے
سچ کا ہی پرچم دیکھا تھا