Get Alerts

پاکستان کی مایہ ناز شخصیت، عوام دوست سیاستدان اور مفکر ڈاکٹر مبشر حسن

 والد اور والدہ دونوں پیپلز  پارٹی کے کارکن تھے اور 1970 کے الیکشن میں ڈاکٹر مبشر حسن کے پولنگ ایجنٹ  بنے تھے تب سے ہی ان کا ڈاکٹر صاحب سے دیرینہ تعلق قائم ہو گیا تھا پھر جب ڈاکٹر صاحب وزیر خزانہ بنے تو والد خواجہ جمیل کو نیشنل بینک  میں نوکری بھی دلائی تھی، زمانہ طالب علمی ختم ہوا تو پھر ڈاکٹر صاجب سے ملاقاتیں شروع ہو چکی تھیں وہ بھانپ چکے تھے کہ میں نے کوئی روایتی نوکری نہیں کرنی مجھے لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا، صحافی اور ادیب بننے  کا جنون تھا ،خیر ایک دن کہنے لگے تم صحافت بھی کرتے رہو میرے ساتھ بطور رسرچر بھی کام کرتے رہو تم کو  تحقیق کا کام کرنا ہو گا دونوں مل کر کتابیں لکھیں گے اس طرح تمہارا شوق اور معاش دونوں چلتے رہیں گے ، اندھا کیا چاہتا دو آنکھیں میں فورًا تیار ہو گیا

پاکستان کی مایہ ناز شخصیت، عوام دوست سیاستدان اور مفکر ڈاکٹر مبشر حسن

مارچ 2020 کے دن تھے کرونا وبا نے عالمی دنیا کو لپیٹ میں لینا شروع کیا تھا ابھی ہوائی سفر پر پاہندی نہیں لگی تھی ائرپورٹ رواں تھے لاک ڈاؤن کی صورتحال نہیں تھی میں شریک حیات گونیلا اور لخت جگر سورج کو برطانیہ جانے کے  لئےپی آئی اے کی پرواز پر بیٹھا ہوائی اڈے سے نکلا ہی تھا کہ بردرام عدنان عادل کی موباہل پر کال موصول ہوئی کہ ڈاکٹر مبشر حسن کا انتقال ہو گیا ہے۔ ایک لمحے  تو کوئی لفط منہ سے  نکلا ہی نہیں یادوں کی کتاب کھلتی چلی گئی جانے کتنے ارورق تھے جو پلٹتا چلا گیا کب کہاں اور کیسے ڈاکٹر مبشر صاحب سے ملاقات ہوئی بہت چھوٹا تھا ،والد صاحب خواجہ جمیل اور والدہ فریدہ جمیل کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے گلبرگ والے گھر جانا شروع کیا تھا ۔

 والد اور والدہ دونوں پیپلز  پارٹی کے کارکن تھے اور 1970 کے الیکشن میں ڈاکٹر مبشر حسن کے پولنگ ایجنٹ  بنے تھے تب سے ہی ان کا ڈاکٹر صاحب سے دیرینہ تعلق قائم ہو گیا تھا پھر جب ڈاکٹر صاحب وزیر خزانہ بنے تو والد خواجہ جمیل کو نیشنل بینک  میں نوکری بھی دلائی تھی۔ زمانہ طالب علمی ختم ہوا تو پھر ڈاکٹر صاجب سے ملاقاتیں شروع ہو چکی تھیں وہ بھانپ چکے تھے کہ میں نے کوئی روایتی نوکری نہیں کرنی مجھے لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا، صحافی اور ادیب بننے  کا جنون تھا ،خیر ایک دن کہنے لگے تم صحافت بھی کرتے رہو میرے ساتھ بطور رسرچر بھی کام کرتے رہو تم کو  تحقیق کا کام کرنا ہو گا دونوں مل کر کتابیں لکھیں گے اس طرح تمہارا شوق اور معاش بھی چلتا رہے  گا ۔ اندھا کیا چاہتا دو آنکھیں میں فورًا تیار ہو گیا ، چند دن بعد میں نے کہا سر وہ چھوٹا بھائی خواجہ حنین  نے ایم بی اے کر لیا ہے مگر وہ تو روایتی نوکری کرے گا اسکی نوکری کا کچھ کر دیں تھوڑی دیر سوچنے کے بعد انہوں نے کسی کو فون کیا چند دن بعد چھوٹے بھائی کی پہلی باقاعدہ  نوکری شروع ہوگئی ۔

 ڈاکٹر مبشر حسن ایک باکمال شخصیت تھے ایک تہذہبی ورثے کے امین تھے پانی پت کی تہذیب تمدن ثفافت انکے ساتھ ساتھ رہتی تھی کبھی بھی نہیں لگا کہ 1947 کی تقسیم نے پانی پت ان سے چھین لیا ہے یوں لگتا تھا کہ پانی پت بھارت سے نکل کر انکے ٹیمپل روڈ یا گلبرگ والے گھر میں ٓاچکا ہے ۔ ٹیمپل روڈ والا گھر ان کو ہجرت کے بعد ملا تھا جہاں پاک انڈیا پیپلز  فورم کا دفتر بھی تھا، ادھر بھی کامران اسلام کے ساتھ یاد گار وقت گزرا ہے ،ٹیمپل روڈ والے گھر کے باہر مہتہ ہاؤس کی تختی ڈاکٹر صاحب نے کبھی نہیںُ اتاری تھی ۔

گلبرگ والا گھر ڈاکٹر صاحب کے بڑے بھائی شبر حسن کا تھا جس کا اگلا رہائشی حصہ مبشر حسن کےپاس تھا اور پاہیں باغ والی رہائش شبر حسن کی تھی ، اس تاریخ ساز گھر جہاں پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ، کیا وقت ہے جو میرا وہاں گزرا ہے دو ادور تھے ایک وہ جو میں انکے ساتھ بطور تحقیق کار کام کرتا رہا اور ایک وقت تھا جب میں ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چلاتا تھا ،جس کی ذمہ درای مجھے عدنان عادل نے  دی  تھی ۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان کے روائتی سیاستدان نہیں تھے صرف ایک الیکشن لڑا جیت کر وزیر بنے 4 سال بعد مستعفیٰ  ہو گئےکیونکہ  بھانپ چکے تھے کہ وطن عزیز میں طاقت کے اصل مراکز کہاں ہیں یہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہ ایوان بالا اور ایوان زریں سب ناٹک ہے ،کٹھ پتلیاں ہیں ۔

 طاقت تو ملٹری اور سول بیورہ کریسی کے پاس ہے پھر اسکے بعد کبھی ایوان اقتدار کا رُخ نہیں کیا ،کتابیں لکھتے رہے اور ہم سب کو رمز زندگی سمجھاتے رہے  یہ انکی کتاب کا نام بھی ہے ڈاکٹر صاحب کی ایک اور کتاب شاہراہ انقلاب جلد اول اور جلد دوم بھی قابل مطالعہ ہیں، ڈاکٹر صاحب اردو کلاسیکی شاعری کے بڑے مداح تھے انہوں نے میر تقی میر کے اشعار منتخب کرکے ایک کتاب بھی مرتب کی تھی ، میر اور غالب کے تو حافظ تھے ۔

ڈاکٹر صاحب کے گھر کے لان میں سامنے والے باغ میں ڈرائینگ روم میں عقبی کمرے میں پاین باغ میں آخر میں بیڈروم جب وہ صاحب فراش تھے کیا کیا محفلیں  جمتی تھیں ، عدنان عادل ،حسین نقی ، آئی اے رحمان، خالد محبوب لڈو، کامران اسلام ،جاوید اقبال  معظم ، ایک صاحب تھے صوفی جن کا پرنٹنگ پریس تھا اور ڈاکٹر صاحب کے بھانجے علی رضا بھتجے عباس بھی  کبھی شریک محفل ہوتے تھے ، مگر خالد مجبوب ،عدنان عادل اور علی رضا تو روز شام کی محفل آباد کرتے تھے ،مجھے یاد ہے غنویٰ بھٹو ڈاکٹر صاحب کے گھر پر ٹھہری تھیں تو شریک حیات گونیلا نے روزنامہ دنیا کے لئے ان کا انٹرویو کیا تھا، مارچ 2025 میں ڈاکٹر مبشر کے انتقال کو 5 برس ہو چکے مگر انکی یادیں آج بھی تروتازہ ہیں۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔