Get Alerts

برطانیہ دائیں بازو کی طرف بڑھ رہا ہے؟ اینڈی برنہم کے لیے خطرے کی گھنٹی

وزیرِ اعظم بننے کے بعد اینڈی برنہم کو سب سے بڑا چیلنج اپنی روایتی حریف جماعت کنزرویٹو پارٹی سے نہیں، بلکہ نائجل فراج کی ریفارم یو کے پارٹی سے ہوگا۔ برطانوی تاریخ کے تقریباً سو سالہ عرصے میں صرف دو جماعتیں، لیبر پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی، حکومت سازی میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہیں، مگر حالیہ مقامی کونسلوں کے انتخابات میں ریفارم یو کے نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

برطانیہ دائیں بازو کی طرف بڑھ رہا ہے؟ اینڈی برنہم کے لیے خطرے کی گھنٹی

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے 9 جولائی کو مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں کیئر اسٹارمر چھٹے وزیرِ اعظم ہیں جو وزارتِ عظمیٰ چھوڑ رہے ہیں۔ اب 9 جولائی کے بعد ساتویں وزیرِ اعظم کا انتخاب کیا جائے گا، اور یہ کافی حد تک واضح ہو چکا ہے کہ وہ کون ہوگا۔

اگرچہ لیبر پارٹی نے ابھی باقاعدہ اعلان نہیں کیا، مگر صاف عیاں ہے کہ اینڈی برنہم برطانیہ کے متوقع ساتویں وزیرِ اعظم ہیں۔ وہ اس وقت لیبر پارٹی کے مقبول ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں وزیرِ اعظم بننے کے لیے ایوان میں انتخاب لڑنے سے پہلے اپنی جماعت کے کم از کم 81 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، اور اینڈی برنہم یہ حمایت حاصل کر چکے ہیں۔ اب صرف ایک رسمی انتخاب باقی رہ گیا ہے۔

اینڈی برنہم اس سے قبل وزیرِ صحت اور وزیرِ داخلہ رہ چکے ہیں، مگر جس چیز نے انہیں ملک گیر شہرت عطا کی، وہ وفاقی وزارت چھوڑ کر گریٹر مانچسٹر کے لارڈ میئر کا انتخاب لڑنا، اسے جیتنا، اور گریٹر مانچسٹر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا تھا۔ انہوں نے وہاں اس قدر کام کیا کہ انہیں "King of the North" کا لقب دیا گیا، کیونکہ مانچسٹر برطانیہ کے شمال میں واقع ہے۔

اینڈی برنہم صرف سفید فام مسیحیوں میں ہی نہیں بلکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد میں بھی بے حد مقبول ہیں۔

غزہ میں ہونے والے قتلِ عام کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں اینڈی برنہم کی آواز سب سے توانا رہی۔ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوران بھی وہ بہت متحرک رہے اور برطانوی حکومت کو غیر جانب دار رہنے پر زور دیتے رہے۔

وزیرِ اعظم بننے کے بعد اینڈی برنہم کو سب سے بڑا چیلنج اپنی روایتی حریف جماعت کنزرویٹو پارٹی سے نہیں، بلکہ نائجل فراج کی ریفارم یو کے پارٹی سے ہوگا۔ برطانوی تاریخ کے تقریباً سو سالہ عرصے میں صرف دو جماعتیں، لیبر پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی، حکومت سازی میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہیں، مگر حالیہ مقامی کونسلوں کے انتخابات میں ریفارم یو کے نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

نائجل فراج کی ریفارم یو کے ایک سخت گیر دائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے۔ یہ جماعت مقامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکی ہے، تاہم وفاقی پارلیمان میں ابھی اقلیت میں ہے۔ اگر اینڈی برنہم اس چیلنج کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے تو تین سال بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات برطانیہ کی سیاسی ہیئت تبدیل کر سکتے ہیں۔

ایسی صورت میں سیکولر برطانیہ کی بجائے ایک زیادہ سخت گیر دائیں بازو کا رجحان سامنے آ سکتا ہے، جو دیگر اقوام، خصوصاً مسلمانوں، کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

اینڈی برنہم کے پاس تین سال ہیں۔ اس دوران انہیں برطانوی معیشت کے مسائل سے بھی نمٹنا ہوگا، جو بریگزٹ کے بعد تقریباً 7 فیصد نقصان برداشت کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تارکینِ وطن کا مسئلہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، کیونکہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی روک تھام کے نعرے ہی پر نائجل فراج کی ریفارم یو کے پارٹی نے مقبولیت اور کامیابی حاصل کی ہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔