ایشیا کپ ختم ہو گیا۔ ایک اور ناکامی ہمارے نام لگ گئی۔ بلکہ اس بار تو نئی تاریخ رقم ہوئی۔ کسی ایک ٹورنامنٹ میں مسلسل تین میچ بھارت سے ہارنے کا ریکارڈ بھی بن گیا۔ بھارت کے سوریا کمار یاویو دونوں اطراف کے پہلے کپتان بن گئے جو ایک ہی ٹورنامنٹ میں تینوں میچ کے فاتح بنے۔
عہدِ محسن نقوی میں ناکامیوں کی داستان طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش سے ہوم ٹیسٹ سیریز ہارے، امریکہ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شکست، بنگلہ دیش سے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ناکامی، ہوم گراؤنڈ میں سہ ملکی ون ڈے سیریز (جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ) سے ہار گئے۔ فائنل جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ نے کھیلا تھا۔ چیمپئنز ٹرافی (ون ڈے) جو ہوم گراؤنڈ میں منعقد ہوئی، اس میں پہلے راؤنڈ میں ہی بڑی شکست۔ اور اب ایشیا کپ میں بھارت سے مسلسل تین میچز میں پہلی بار شکستوں کا سلسلہ۔
پاکستان کے کرکٹ فینز بہت مایوس ہیں، مگر ہمارے طاقت کے اصل مراکز یہ بات سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ جن لوگوں کو کرکٹ کا "ک" بھی نہیں پتہ وہ کرکٹ بورڈ میں کیوں براجمان ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سوال ہے کہ محسن نقوی کا کرکٹ سے کیا واسطہ ہے؟ وہ وزیرِ داخلہ بھی ہیں، نہ ہی وطن عزیز میں امن و امان کا مسئلہ حل ہو رہا ہے اور نہ ہی کرکٹ میں ناکامیوں کا سلسلہ تھم رہا ہے۔
ہمارے کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ کے پاس ہوٹل منیجمنٹ کی ڈگری ہے، کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ گھڑ ریس کی کمنٹری بھی کرتے ہیں۔ ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ڈپٹی کمشنر رہے ہیں۔ چیف آپریٹنگ آفیسر بھی بیوروکریٹ ہیں۔ عامر میر صحافی ہیں مگر کبھی اسپورٹس رپورٹر نہیں رہے۔ ان احباب کا کرکٹ سے کوئی واسطہ نہیں، پھر بھی فارم 47 کے ناجائز حکمرانوں کی طرح ہم پر مسلط ہیں۔
اس قدر غلط تربیت کرکٹ کی کر رہے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ ہم ایشیا کپ میں بھارت سے پہلا میچ ہارے تو توجہ ہٹانے کے لئے میچ ریفری کے خلاف محاذ گرم کر دیا۔ پھر دوسرا میچ ہارے تو حارث رؤف کے احمقانہ اشاروں پر اسے ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ اب تیسرا میچ اسی حارث رؤف نے ہرا دیا ہے تو بھارتی ٹیم کو ٹرافی نہ دے کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا۔ یہ ایشو بھارت آئی سی سی میں اٹھائے گا جہاں ان کی حکمرانی ہے۔ کہانی ختم نہیں ہوئی، ابھی چلے گی۔
محسن نقوی نے ایک عجیب حرکت کی جو آج تک کسی ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ نے نہیں کی۔ فائنل سے ایک دن پہلے کہا کہ "میں جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی دوں گا۔" کیونکہ بھارت پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ ہم محسن نقوی، جو ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین ہیں، ان سے ٹرافی نہیں لیں گے کیونکہ وہ ہی سی بی کے چیئرمین بھی ہیں اور پاکستان کے وزیرِ داخلہ بھی۔ محسن نقوی کو کسی اور کے ہاتھوں بھارت کو ٹرافی دینی چاہیے تھی۔ کیونکہ جس ٹیم کو بھارت نے ایک ہی ٹورنامنٹ میں تین بار ہرایا، پاکستان اسی کے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہیں۔
نقوی صاحب! آپ کی ٹیم جیتتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔ چونکہ آپ ہار چکے ہیں، اس لئے تنازعات کو جنم دینے کے بجائے ٹیم کو بہتر کرنے پر کام کریں۔ چونکہ یہ کام آپ کو آتا نہیں، لہٰذا چپ کر کے کرکٹ کی جان چھوڑ دیں۔ نہ آپ کرکٹ کو ٹھیک کر سکتے ہیں نہ وزارتِ داخلہ چلا سکتے ہیں۔ قوم آج بھی اس ایس ایچ او کی تلاش میں ہے جس نے بلوچستان میں امن و امان قائم کرنا ہے۔
آپ کی احمقانہ حکمتِ عملی کا نتیجہ ہمیں آئی سی سی میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اس وقت آئی سی سی کا چیئرمین بھارتی جے شاہ ہے۔ جو فلم آپ نے ایشیا کپ میں چلا دی ہے وہ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یو اے ای، فروری 2026 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت اور سری لنکا میں ہونا ہے۔ تب تک بہت پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہو گا۔
تو نقوی صاحب! پکچر ابھی باقی ہے باس۔ ابھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔