گو کہ مسلم لیگ ایک قدیم سیاسی جماعت ہے اور پاکستان بنانے کا شرف بھی اسے ہی حاصل ہے لیکن قائد اعطم کی وفات کے بعد اس پر جاگیرداروں کا قبضہ ہو گیا اور جاگیردار علاقے کے عوام پر اپنا رعب اور دبدبہ قائم رکھنے کیلئے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس جماعت نے ماضی بعید میں کبھی جمہوریت کیلئے اپنے آپ کو کسی امتحان میں نہیں ڈالا۔
ہماری اسٹیبلشمنٹ ہر دس بارہ سال بعد اقتدار پر یہ کہہ کر قابض ہو جاتی تھی کہ ملک بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے اور سیاستدان اس پر قابو پانے میں ناکام ہو گئے ہیں حالانکہ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان کے ہر بحران کا سبب ہماری اسٹیبلشمنٹ ہی رہی ہے۔ آمرانہ ادوار میں کیونکہ صرف وہی سیاستدان اقتدار میں شریک کئے جاتے ہیں جو آمر وقت کی مرضی کے مطابق چلیں اس لیے کمزور طبقات میں محرومی کا تاثر گہرا ہو جاتا ہے۔ بلوچستان کے عوام نے اگر احتجاج کا پر تشدد راستہ اختیار کیا تو اسکی وجہ یہی تھی کہ انکی آواز کو اہمیت نہیں دی گئی۔ اس سے قبل سابقہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیسے بنا یہ اب کوئی راز نہیں۔
بات سے بات نکلتے کہاں پہنچ گئی، بات اس مسلم لیگ کی ہو رہی تھی جو جاگیرداروں کی جماعت کہلاتی تھی۔ 1999 کے فوجی قبضے کے بعد جب مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف کو جلا وطن کر دیا گیا تو چودھری برادران کیساتھ چند دیگر سیاستدانوں نے آمر مشرف کا ساتھ دیا لیکن باقی اپنی پارٹی کے ساتھ جڑے رہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب اس جماعت کے رہنماؤں نے تمام تکالیف کے باوجود آمر کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔
اس دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں میں مخدوم جاوید ہاشمی، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، صدیق الفاروق اور رانا ثناءاللہ نمایاں ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد سے ہی مسلم لیگ اور اسکے قائد کے خلاف پھر سے سازشیں شروع ہو گئیں جو آج تک جاری ہیں۔ 2018 کے متنازع انتخابات کے بعد جس جماعت کو اقتدار سونپا گیا وہ وہی کنگز پارٹی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے۔ چشم فلک نے یہ نظارہ پہلی بار دیکھا ہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد تمام ترغیبات اور دھمکیوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا ایک بھی رہنما باغی نہ ہوا اور اپنی پارٹی کیساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ اس پارٹی کیلئے یہ قابل فخر ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ اب مسلم لیگ (ن) کے رہنما اپنے قائد کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں چاہے اس نظریہ سے مخالفین کو کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔ آنے والے وقت میں یہ جماعت مزید توانا ہو کر ابھرے گی اور یہ بات ملک اور جمہوریت کے لئے خوش آئند ہے