Get Alerts

فیملی ویلاگنگ: معاشرتی اقدار کا سودا یا کچھ اور ؟

فیملی ویلاگنگ کا بنیادی مقصد خاندانی محبت، روابط، اور مثبت معاشرتی پیغامات ہونے چاہئیں، لیکن موجودہ ولاگز میں لالچ، حسد، فضول خرچی، بدتمیزی، اور گالم گلوچ کی بھرمار ہے،جب 10-15 سال کے بچے ہزاروں کے جوتوں، کروڑوں کے گھروں، اور ڈائمنڈز کی نمائش دیکھتے ہیں، تو وہ اپنے عام گھریلو ماحول سے بیزار ہو کر احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں

فیملی ویلاگنگ: معاشرتی اقدار کا سودا یا کچھ اور ؟

شام ادریس، ڈکی بھائی، یا دیگر فیملی ولاگرز کی لڑائیوں اور تنازعات کا دائرہ صرف ”ویلاگ میں بیوی کو لانے“ تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک رواج بن چکا ہے جسے اب یوٹوبر کی ”مجبوری“ سمجھ لیا جائے۔ ڈکی بھائی اگرچہ مذہبی یا معاشرتی اقدار کا پرچار نہیں کرتے، لیکن ڈاکٹر افان قیصرجیسے ولاگرز اپنی ویڈیوز میں پردے کی اہمیت کا درس دیتے ہوئے بھی اپنی بیوی کو کیمرے کے سامنے بیٹھا کر دوہرا معیار اپناتے ہیں۔ یہ سلسلہ یہاں تک پھیلا ہوا ہے کہ معروف صحافی اقرار الحسن جیسے افراد نے نہ صرف اپنی بیوی بلکہ چھوٹے بیٹے بالاج کو بھی اس دوڑ میں شامل کر لیا۔ گویا ہر شخص اپنے قریبی رشتوں کے چہروں کو”ٹرینڈ“ کرنے اور ان کی قیمت وصول کرنے میں مصروف ہے، بغیر اس بات کی پرواہ کیے کہ اس کا معاشرے پر کیا اثر پڑے گا۔    

فیملی ویلاگنگ کا بنیادی مقصد خاندانی محبت، روابط، اور مثبت معاشرتی پیغامات ہونے چاہئیں، لیکن موجودہ ولاگز میں لالچ، حسد، فضول خرچی، بدتمیزی، اور گالم گلوچ کی بھرمار ہے۔ یہ ولاگرز گھریلو تنازعات، پلانٹڈ لڑائیوں، اور مہنگے تحفوں کی نمائش کر کے ناظرین کو ”گلیمر“ کے جھوٹے سپنے دکھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، رجب بٹ کی شادی کے بعد سے میاں بیوی کی”پلانٹڈ“ لڑائیاں اسی کا حصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ”فیملی“ کا لبادہ اوڑھ کر ڈالرز کمانے والے کاروباری ہیں۔ ان کے ”مزاحیہ“ یا ”تربیتی“ ویڈیوز میں بھی ڈانس، پرینکس، اور جھوٹی کہانیاں ہی ہوتی ہیں۔  

اس کا سب سے خطرناک پہلو نوجوانوں پر پڑنے والا نفسیاتی اثر ہے۔ جب 10-15 سال کے بچے ہزاروں کے جوتوں، کروڑوں کے گھروں، اور ڈائمنڈز کی نمائش دیکھتے ہیں، تو وہ اپنے عام گھریلو ماحول سے بیزار ہو کر احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ نہ صرف ان کی ترجیحات بگاڑ رہے ہیں بلکہ انہیں مستقبل میں غلط راستے پر ڈالنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں ۔ یاد رکھیں، یہ ویڈیوز الگورتھم کی وجہ سے خودبخود ٹرینڈ ہوتی ہیں، چاہے آپ انہیں سبسکرائب یا سرچ نہ بھی کریں۔    

اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بچانا چاہتے ہیں، تو صرف ”انہیں کرنے دیں“ کہہ کر خاموش بیٹھنا دانشمندی نہیں ہوگا۔ ایسے چینلز کی اجتماعی طور پر رپورٹ کرنے پڑے گی، ان کے خلاف آواز اٹھائیں، اور معاشرے میں اس ناسور کے خلاف شعور بیدار کریں۔ یہ صرف ”انٹرٹینمنٹ“ نہیں، بلکہ ہمارے گھروں میں زہر گھولنے کا ایک ذریعہ ہے جسے روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ 

عبدالغفار بگٹی کا تعلق بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی سے ہے۔