Get Alerts

شناخت کی قوت: اتحاد، تنوع، اور انسانیت کی مشترکہ اصل

"جہاں شناخت ایک نعمت ہے، وہیں یہ انسانوں کے درمیان علیحدگی کے بحران کا سبب بھی بن سکتی ہے—وہی ’ہم اور وہ‘ کا ذہنی مرض جو ہمیں مشترکہ انسانیت سے دُور کر دیتا ہے۔"

شناخت کی قوت: اتحاد، تنوع، اور انسانیت کی مشترکہ اصل

”انسانی شناخت ایک رواں اور کثیرالجہتی تصور ہے، جو ثقافت، عقیدے اور ادراک سے تشکیل پاتی ہے، مگر ہماری مشترکہ انسانیت ہمیں ان تمام اختلافات سے بالاتر ایک رشتے میں باندھ دیتی ہے۔ شناخت کبھی واحد نہیں ہوتی بلکہ مختلف متقاطع اور متضاد مکالمات، رویّوں اور حیثیتوں کے ذریعے تشکیل پاتی ہے۔“  - سٹوورٹ ہال

آسمان میں اُڑتی ایک جماعت کو ”پرندے“ کہا جاتا ہے؛ سمندروں میں تیرتی ٹولی ”مچھلیاں“ کہلاتی ہے؛ جنگل یا سفاری میں جُھرمٹ کی صورت میں موجود جاندار ”ہاتھیوں کا ریوڑ“ ہوتے ہیں؛ ”جھُنڈ“ عموماً ”بھیڑیوں“ یا ”کتّوں“ کے لیے استعمال ہوتا ہے؛ اور ”ہجوم“ مردوں اور/یا عورتوں پر مشتمل ہو سکتا ہے—بغیر کسی فرق کے، چاہے وہ نسل، عقیدہ یا قومیت کے اعتبار سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دُور سے دیکھنے پر سب ایک ہی نظر آتے ہیں۔ مگر جب کسی کو ایک خاص نام دیا جاتا ہے تو وہ ریوڑ کا حصہ نہیں رہتا بلکہ ایک انفرادی وجود بن جاتا ہے۔

گھر کے پالتو جانوروں کو جب ایک شناخت دی جاتی ہے تو پھر اُنہیں اُسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ مثلاً ”بلی، اِدھر آؤ“ یا ”کتے، گیند پکڑو“ نہیں کہا جاتا بلکہ اُن کے مخصوص نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ ایک عام سی بات ہے، مگر گلی میں پھرنے والے آوارہ جانور ہمیشہ ”بلی“ یا ”کتا“ ہی کہلائیں گے۔ اگر پالتو جانوروں کو بھی اُن کی جنس کے نام سے پکارا جائے تو وہ عموماً ردِعمل نہیں دیتے—یہی ہے شناخت کی طاقت۔

شناخت کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ فرد کو اُس کے ہم عمروں میں مسٹر ایکس یا مس وائی کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ یہ امتیاز انسانوں کے درمیان فرق کو ممکن بناتا ہے، لیکن اگر کوئی آسمانی مخلوق زمین پر آئے تو اُس کے لیے سب صرف ”انسان“ ہوں گے۔ اسی طرح ہم جانتے ہیں کہ تقریباً تمام مذاہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں—ہر ایک کے اپنے عقائد اور رسومات ہیں—لیکن باہر والوں کے لیے وہ بس ”مسلمان“، ”عیسائی“، ”یہودی“، ”ہندو“ یا ”بدھ مت“ کے پیروکار ہی نظر آتے ہیں۔

شناخت کیسے بنتی ہے؟ یہ ایک سادہ سا سوال ہے مگر اس کا جواب بے حد پیچیدہ ہے، کیونکہ یہ انسانی زندگی کے بے شمار پہلوؤں پر محیط ہے۔ شناخت کا ڈھانچہ اندرونی اور بیرونی عوامل پر مشتمل ہوتا ہے—جن میں شخصیت، ذاتی عقائد، تجربات، یادیں، تعلیم، معاشی حیثیت، ثقافتی پس منظر، خاندان، قومیت، جنس اور پیشہ شامل ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسا خودی کا ہالہ (aura of self) تشکیل دیتے ہیں جو بچپن سے پروان چڑھتا ہے اور زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔

ہم خود کو کیسے دیکھتے ہیں، اور دوسرے ہمیں کس نظر سے دیکھتے ہیں—یہ دونوں باتیں اس امر پر گہرا اثر ڈالتی ہیں کہ ہم اپنی شناخت کو کیسے متعین کرتے ہیں۔ اسی لیے وقت گزرنے کے ساتھ شناخت کے کچھ پہلو بدل بھی سکتے ہیں، یعنی انسان ایک طرح کی تبدیلی (metamorphosis) سے گزر سکتا ہے۔

بنیادی طور پر شناخت انسان کو اپنے ”خود“ کے احساس کو بیدار کرنے کے قابل بناتی ہے، جو اُس کے مخصوص سماجی گروہوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ان گروہوں سے بے دخلی یا علیحدگی کو انسان اپنی سماجی قدر و منزلت کے نقصان کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ اسی وابستگی کو بچانے کی خواہش انسان کو اپنی شناخت کے ساتھ شدید وابستگی پر مجبور کرتی ہے—جو اکثر اوقات تعصب، امتیاز اور تفریق کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

یعنی، جہاں شناخت ایک نعمت ہے، وہیں یہ انسانوں کے درمیان علیحدگی کے بحران کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ایک طرف کسی گروہ کے عقائد، اقدار اور معیار سے ہم آہنگ رہنا فرد کے مقام کو اُس جماعت میں بلند کرتا ہے، تو دوسری طرف یہ رویہ تکبّر اور عدمِ تحفظ کو بھی جنم دیتا ہے—وہی ”ہم اور وہ“ یا ”میرا اور تمہارا“ کا ذہنی مرض۔ ایسے حالات میں لوگ دوسرے گروہوں سے فاصلہ اختیار کر لیتے ہیں، انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور اپنی شناخت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ان تصورات کا سب سے تباہ کن اثر یہ ہے کہ وہ ہمیں یہ بھلا دیتے ہیں کہ ہم سب انسانیت کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں—ایک ایسی رشتہ داری میں جس سے انکار ممکن نہیں، اور یہی بھول ہمارے ذہنوں پر تعصبات کا دھندلا پردہ ڈال دیتی ہے۔ اس کی ایک عمدہ مثال ایسے شخص کی ہے جو دھندلے یا رنگین چشمے لگا کر مصوری دیکھتا ہے۔ ایسا ناظر کبھی رنگوں کی چمک، قلم کی نزاکت یا فنکار کی باریکیوں کو محسوس نہیں کر پاتا۔ اُس کے لیے وہ تصویر صرف ایک دھندلا کینوس ہے، نہ کہ وہ فن پارہ جو صرف ”روشن آنکھیں“ دیکھ سکتی ہیں۔

انسانوں کے ساتھ ہمارا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے: جب ہم کسی کو ”اپنے سے مختلف“ سمجھتے ہیں تو اُن کی خوبیوں کو سراہنے کے بجائے اُنہیں اپنی دنیا سے نکال دینا پسند کرتے ہیں۔ یوں ہم خچّر کی سی ضد سے اپنی منفی سوچ کو رومانوی بنا کر اُن کی مثبت خصوصیات سے خود کو محروم رکھتے ہیں۔

دنیا کے دیگر خطّوں میں انسان مختلف ماحول، عقائد، طرزِ زندگی، اقدار، ثقافتوں اور معاشی و سیاسی حالات میں پیدا اور پروان چڑھتا ہے، لیکن اخلاقی اصول ہر جگہ ایک جیسے ہی ہیں۔ یہ اصول—سچائی، دیانت، محبت، احترام، فرمانبرداری اور ہمدردی—دنیاوی ہو یا مذہبی، تمام نظریات میں یکساں طور پر تعلیم دیے جاتے ہیں۔ اگرچہ کئی مذاہب میں جانداروں کی قربانی کے عمل کا ذکر ہے، لیکن کوئی بھی مذہب قتل، چوری، ڈاکا، تباہی یا نسل کشی کی اجازت نہیں دیتا۔ اکثر لوگ برائی کو ردّ کرتے ہیں اور نیکی کو سراہتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ظاہری فرق موجود ہیں، مگر باطنی نیکی سب میں مشترک ہے۔

”آنکھ صرف وہی دیکھتی ہے جسے ذہن سمجھنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔“ — رابرٹسن ڈیوس (Tempest-Tost)
اور جیسا کہ ویرونیکا روتھ نے (Allegiant) میں کہا: ”انسان چاہے کتنا ہی سمجھدار ہو، وہ عام طور پر وہی دیکھتا ہے جسے وہ دیکھنا چاہتا ہے۔“

تو سوال یہ ہے: کیا ہم واقعی اپنی ہی نوع کے اندر اجنبیت تلاش کر رہے ہیں، یا ہم ایک متحد وجود بننا چاہتے ہیں؟ ریاضی میں بھی ”۱“ کو مکمل سمجھا جاتا ہے، جبکہ کسر میں آنے والے اعداد اُس کے ٹوٹے ہوئے حصے ہیں۔ اسی طرح Continental Drift Theory کے مطابق وہ زمینی خطّے جو کبھی جُڑے ہوئے تھے، وقت کے ساتھ علیحدہ ہو گئے، لیکن اب بھی وہ سمندروں کے وسیع پھیلاؤ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں—اور ان سب کا مشترکہ عنصر ”پانی“ ہے۔

دنیا کتنی خوبصورت بن سکتی ہے اگر ہم اپنی توجہ اختلافات کے بحران کے بجائے انسان ہونے کی مشترکہ شناخت پر مرکوز کر لیں—وہی سب سے بڑی اور اصل نعمتِ انسانیت ہے۔


 ترجمہ:  زینت منظور استاد اردو، قلعہ دیدار سنگھ

مصنفہ وکالت کے شعبے سے وابسطہ اور متعدد کتابوں  کی مصنف، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایڈجنکٹ فیکلٹی، ممبر ایڈوائزری بورڈ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE)  کی سینئر وزیٹنگ فیلو ہیں۔