Get Alerts

اردو، پنجابی کے بعد پاکستان کا پشتو سنیما بھی برباد

“کھوئے ہو تم کہاں” سپر ہٹ فلم تھی جس کی کاسٹ میں بابر علی، میرا اور خود عجب گل شامل تھے۔ فلم بڑے اسکیل پر شوٹ کی گئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب اردو سنیما پر سید نور کا طوطی بول رہا تھا، مگر عجب گل نے “کھوئے ہو تم کہاں” کے ذریعے سید نور کو بھی چوکنّا کر دیا۔ جس طرح گانے شوٹ کیے تھے، ویسی عکس بندی تو سید نور بھی نہیں کر سکتے تھے

اردو، پنجابی کے بعد پاکستان کا پشتو سنیما بھی برباد

اردو، پنجابی کے بعد ہمارا پشتو سنیما بھی تباہ ہو گیا۔ پشتو فلم میکرز خیبر پختونخوا اور کراچی کی مارکیٹ کو ٹارگٹ کرتے تھے، جزوی طور پر لاہور بھی—وہاں بھی رٹز سنیما میں پشتو فلم لگتی تھی۔ پشتو فلموں کی دو بین الاقوامی منڈیاں متحدہ عرب امارات اور افغانستان بن سکتی تھیں۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دور میں ہماری پشتو فلم وہاں لگی اور پیسے بھی کمائے، مگر بعد میں پھر طالبان آ گئے جو آرٹ اور کلچر کے دشمن ہیں۔

پشتون فلم میکرز نے متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ کو فوکس نہیں کیا، یہی ان کی غلطی تھی۔ دوسرا، عجب گل جیسے سمجھدار اور ذہین فلم میکر سے استفادہ نہ کرنا بھی پشتو فلم کو لے ڈوبا۔ اب یہ عالم ہے کہ پشاور اور کراچی کی مارکیٹ ختم ہو چکی ہے، لاہور کا رٹز سنیما بھی گرا دیا گیا، یوں اردو، پنجابی کے بعد پشتو سنیما بھی ختم ہو گیا۔

جہاں تک عجب گل کی بات ہے، تو وہ ایک ایسا ذہین فلم میکر تھا جس سے اردو سنیما بہت کچھ لے سکتا تھا۔ پشتو سنیما میں تو وہ بہت بعد میں گیا۔ اس سے پہلے وہ دو اردو فلمیں بطور مصنف، ہدایتکار اور پروڈیوسر بنا چکا تھا۔ “کھوئے ہو تم کہاں” سپر ہٹ فلم تھی جس کی کاسٹ میں بابر علی، میرا اور خود عجب گل شامل تھے۔ فلم بڑے اسکیل پر شوٹ کی گئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب اردو سنیما پر سید نور کا طوطی بول رہا تھا، مگر عجب گل نے “کھوئے ہو تم کہاں” کے ذریعے سید نور کو بھی چوکنّا کر دیا۔ جس طرح گانے شوٹ کیے تھے، ویسی عکس بندی تو سید نور بھی نہیں کر سکتے تھے—بالکل یوں لگتا تھا جیسے بولی وُڈ کی فلم دیکھ رہے ہوں۔

پھر اس کے بعد عجب گل کی فلم “کیوں تم سے اتنا پیار ہے” ریلیز ہوئی، جو بڑے بجٹ اور بڑے اسکیل کی فلم تھی۔ وہ فلم سپر ہٹ تو نہ ہو سکی، مگر اوسط درجے کی کامیاب رہی۔ وجہ صرف ایک تھی: 2005 کا خوفناک زلزلہ جس نے پورے ملک کو خوف اور اداسی میں مبتلا کر دیا، یوں فلم کا بزنس توقع سے کم ہو گیا۔

بدقسمتی سے عجب گل جیسا ذہین ترین فلم میکر کھو گیا اور ہم اردو اور پشتو سنیما میں اس کی صلاحیتوں سے استفادہ نہ کر سکے۔ مجھے یاد ہے میری عجب گل سے راہول پارک، لاہور میں ان کے دفتر میں یادگار ملاقاتیں رہی تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ عجب گل پاکستانی اردو اور پشتو سنیما کا شو مین بن سکتا ہے، مگر افسوس ہم نے اسے استعمال نہیں کیا۔

اب 20 سال بعد کراچی میں عجب گل کے دوبارہ متحرک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دیکھیں، شو مین اب کیا لے کر آتا ہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔