Get Alerts

بلدیہ سے گُل پلازہ تک: ہم کب سیکھیں گے؟

گُل پلازہ کی آگ محض ایک حادثہ نہیں تھی؛ یہ برسوں کی غفلت، کمزور نگرانی اور ایسے نظام کی علامت تھی جس میں انسانی جانوں سے زیادہ اہمیت کاغذی ضابطوں کو دی جاتی ہے۔

بلدیہ سے گُل پلازہ تک: ہم کب سیکھیں گے؟

گُل پلازہ کراچی میں لگنے والی آگ محض ایک عمارت کو نہیں جلا گئی بلکہ اس نے پاکستان میں ریاستی نگرانی، شہری تحفظ اور حکمرانی کے پورے نظام کو بے نقاب کر دیا۔ یہ سانحہ کوئی اچانک حادثہ نہیں تھا بلکہ برسوں کی غفلت، غیر قانونی تعمیرات، کمزور قوانین اور مجرمانہ خاموشی کا منطقی نتیجہ تھا۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں، جہاں روزانہ لاکھوں افراد کمرشل پلازوں، دفاتر اور مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں، گُل پلازہ ایک معروف تجارتی مرکز تھا۔ اس عمارت میں سینکڑوں دکانیں، درجنوں دفاتر اور بڑی تعداد میں ورکرز موجود تھے۔ جب آگ بھڑکی تو لوگوں کو بچنے کا موقع اس لیے نہ مل سکا کہ عمارت میں نہ مؤثر فائر الارم تھا، نہ خودکار سپرنکلر سسٹم اور نہ ہی واضح اور کھلے ایمرجنسی ایگزٹس۔ دھواں پھیلتا گیا اور قیمتی انسانی جانیں لمحوں میں ختم ہوتی چلی گئیں۔

سوال یہ نہیں کہ آگ کیوں لگی؛ اصل سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی عمارت کو بغیر فائر سیفٹی کے چلنے کی اجازت کس نے دی؟ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی میونسپل کارپوریشن، سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتے۔ اگر قوانین موجود تھے تو ان پر عمل کیوں نہ ہوا؟ اور اگر قوانین ناکافی تھے تو انہیں وقت پر بہتر کیوں نہ کیا گیا؟

بدقسمتی یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف کراچی تک محدود نہیں۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، جو قانون، نظم و ضبط اور ریاستی رِٹ کی علامت سمجھا جاتا ہے، خود ایک خاموش خطرے کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ریڈ زون اور بلیو ایریا میں بلند و بالا پلازے، سرکاری و نجی دفاتر، کالجز اور تعلیمی ادارے موجود ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں ملازمین اور طلبہ آتے ہیں۔ مگر ان عمارتوں میں فائر ایگزٹ، ایمرجنسی سیڑھیاں، فائر الارم اور ریسکیو پلان اکثر کاغذوں تک محدود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دارالحکومت ہی محفوظ نہیں تو باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟

گُل پلازہ کے بعد سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کوئی بنیادی اور ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔ نہ کوئی جامع قومی فائر سیفٹی قانون نافذ ہوا، نہ ملک گیر سطح پر عمارتوں کا آڈٹ شروع کیا گیا اور نہ ہی ذمہ داروں کو مثال بنا کر سزا دی گئی۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جو ہم نے ماضی میں بلدیہ فیکٹری جیسے سانحات کے بعد بھی دیکھا — چند دن شور، کچھ وعدے، اور پھر اجتماعی فراموشی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ جذباتی بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ ہر کمرشل، تعلیمی اور رہائشی بلند عمارت کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ قومی سطح پر فوری فائر سیفٹی آڈٹ ہو، غیر محفوظ عمارتوں کو سیل کیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف محض معطلی نہیں بلکہ فوجداری کارروائی کی جائے۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کو جدید آلات، تربیت اور فوری رسپانس کی صلاحیت دی جائے، جبکہ عوامی سطح پر فائر ڈرلز اور بنیادی تربیت کو لازمی بنایا جائے۔

گُل پلازہ کے متاثرین صرف اعداد و شمار نہیں تھے۔ وہ مزدور تھے، دکاندار تھے، طلبہ تھے، خاندانوں کے کفیل تھے۔ اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو یہ سانحات دہراتے رہیں گے اور ہم ہر بار ایک نئے کالم، ایک نئی خبر اور ایک نئی قبر کے ساتھ خود کو تسلی دیتے رہیں گے۔

سوال آج بھی وہی ہے:
آخر کب تک ہم معصوم انسانی جانوں کا یوں ضیاع دیکھتے رہیں گے؟

مصنفہ سینیئر صحافی ہیں اور ملک کے متعدد ٹی وی چینلز پر کام کر چکی ہیں۔ انٹرنیٹ پر ان کے مختلف ویب سائٹس پر مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔