Get Alerts

عید الاضحیٰ قریب آتے ہی احمدیوں سے زبردستی حلف ناموں پر دستخط لینے کا عمل شروع، پنجاب حکومت کے اہلکار شامل

ضلع نارووال، فیصل آباد اور کلر کہار سے ایسے 'حلف ناموں' کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں اس قسم کی یقین دہانیاں از خود درج ہیں اور احمدی حضرات پر ان پرنٹ شدہ حلف ناموں پر زبردستی دستخط کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

عید الاضحیٰ قریب آتے ہی احمدیوں سے زبردستی حلف ناموں پر دستخط لینے کا عمل شروع، پنجاب حکومت کے اہلکار شامل

جوں جوں عیدالاضحی قریب آتی جا رہی ہے، پاکستان میں احمدیوں کی ہراسانی، گرفتاریوں اور پولیس کی جانب سے ان پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ غیر قانونی حلف ناموں پر دستخط کریں جن میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ وہ قربانی نہیں کریں گے، حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی نہیں۔

پنجاب کے مختلف اضلاع اور سندھ کے بعض علاقوں میں احمدیوں کو مختلف بیانات پر زبردستی دستخط کروائے جا رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کے اہلکار احمدی افراد کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور انہیں ہراساں کر رہے ہیں، جب کہ اس معاملے پر خود متضاد بیانات بھی جاری کر رہے ہیں۔

پاکستانی قوانین کے مطابق بھی احمدیوں سے اس قسم کی تحریریں لینے کے لئے کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔

اس حوالے سے ضلع نارووال، فیصل آباد اور کلر کہار سے ایسے 'حلف ناموں' کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں اس قسم کی یقین دہانیاں از خود درج ہیں اور احمدی حضرات پر ان پرنٹ شدہ حلف ناموں پر زبردستی دستخط کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پنجاب ہی کے ضلع سرگودھا میں احمدی ڈاکٹر شیخ محمد محمود کو بھی ان کے عقائد کی بنیاد پر بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔