Get Alerts

بلوچستان: رشتہ داروں کی جانب سے مردوں کے بعد کیمروں کے سامنے خواتین سے اظہارِ لاتعلقی کا پس منظر کیا ہے

"راجی مچی" کے اعلان کے بعد بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد میں ایک نئی امید پیدا ہو گئی۔ یہاں سے بلوچستان کا سیاسی میدان اور قیادت خواتین کے پاس ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اب تک بلوچستان میں خواتین سیاسی کارکن اتنی مقبول نہیں تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق راجی مچی کو آرگنائز کرنے والے زیادہ تر خواتین ہی تھیں۔

بلوچستان: رشتہ داروں کی جانب سے مردوں کے بعد کیمروں کے سامنے خواتین سے اظہارِ لاتعلقی کا پس منظر کیا ہے

بلوچستان میں ایسا کیا ہو رہا ہے کہ والدین اپنے پیاروں سے لاتعلقی کا اظہار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں؟ معزز خاندان، خاص طور پر بلوچ خواتین، کا کسی پریس کلب میں آ کر کیمروں کے سامنے بات کرنا ان کے لیے کتنا مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایسے اقدام اٹھانے والوں کو اتنا ادراک تو ہوگا کہ کل ان کی بوڑھی ماں اور باپ کس کرب میں مبتلا ہوں گے۔ اور وہ کیمروں کے سامنے آ کر، لاڈ پیار سے پالنے والے سے ہر رشتہ ختم کر کے، لاتعلقی کا اعلان کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا کروایا جاتا ہے۔ ہم نے اس اسٹوری میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں۔ بلوچستان کا مسئلہ اس نہج کو پہنچنے کے پیچھے محرومی یا وسائل پر بلوچ کی دسترس اور برابری کا بیانیہ کتنی اہمیت رکھتا ہے۔

حکومت کی جانب سے بلوچستان میں جاری سیاسی عدم استحکام کے پیشِ نظر مسلح تنظیموں سے وابستگی کے حوالے سے مرد حضرات کے خلاف وقتاً فوقتاً عائد پابندیوں اور کالعدم مسلح تنظیموں سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائیاں تو عام سی بات تھی۔ مگر ستمبر 2025 کو حکومتِ بلوچستان کی جانب سے ایک اشتہار جاری کرنے کے بعد اب یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اور اس میں شدت آنے کے بعد اب کئی خاندان تشویش میں مبتلا ہیں۔

یہ 2013، 2014 کی بات ہے کہ اُس وقت جو لوگ بلوچستان میں جاری مسلح کارروائیوں میں ملوث تھے، حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اس حوالے سے ایک ایمنسٹی کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کے تحت کالعدم مسلح تنظیموں سے وابستہ چند افراد نے ایمنسٹی حاصل کی تھی، جب کہ کچھ نے ری انٹیگریشن کے ذریعے دوبارہ اپنی معمول کی زندگی اپنانے کے لیے بغیر کسی شرط کے غیر مسلح ہو گئے تھے۔ کیا یہ ایمنسٹی آج کی بھی صورت ہے؟

ستمبر 2025 میں محکمۂ داخلہ، حکومتِ بلوچستان کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری ہوتا ہے، جس کے مطابق جس خاندان کے افراد مشکوک سرگرمیوں یا کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں کے ساتھ وابستہ ہیں، وہ ایک ہفتے کے اندر اندر پولیس یا سکیورٹی اداروں کو اطلاع دیں۔

تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ کے بعد خواتین کی پروفائلنگ کب شروع ہوئی؟

بلوچستان یا ملک کے دیگر صوبوں میں زیرِ تعلیم بلوچ طلبہ کو مشکوک نگاہوں سے دیکھ کر اور متعلقہ ادارے یا انتظامیہ کی جانب سے اُن کی پروفائلنگ کرنے کے حوالے سے ہم خبریں اور احتجاج دیکھتے آ رہے تھے، مگر اب یہ سلسلہ بہت آگے نکل چکا ہے۔

اس حوالے سے حکومت کا مؤقف مختلف ہے۔ اپریل 2022 کے بعد نہ صرف مرد، بلکہ اب مختلف تعلیمی اداروں میں خواتین طلبہ کو بھی طرح طرح سے ہراسانی کا سامنا ہے اور ان کی بھی پروفائلنگ کی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ خواتین کی پروفائلنگ میں اُس وقت شدت آ گئی جب اپریل 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں چائنیز کنفیوشس سینٹر میں ایک خاتون نے خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین چینی شہری اور ایک پاکستانی ڈرائیور جان سے چلے گئے۔ واضح رہے کہ سیکولر بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے خواتین کو اس عمل میں شامل کرنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

اس واقعے کے بعد بلوچستان سمیت ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طالبات کو بھی مشکوک دیکھا جانے لگا۔

سیاسی میدان میں قیادت کب خواتین کے پاس آ گئی؟

مرکزی دھارے کی سیاست میں خواتین کا شامل ہونا نئی بات نہیں ہے، مگر موجودہ دور میں متبادل سیاسی سوچ رکھنے والی نظریاتی سیاست میں بلوچ خواتین کا عملی طور پر شامل ہونے میں کریمہ بلوچ اور بی بی گل نمایاں کردار ادا کرتی آ رہی تھیں۔ آج سے تقریباً دو دہائی قبل بلوچستان کے مسئلے پر وہ خواتین کو منظم و متحرک کرنے میں صفِ اول میں تھیں۔

بعد میں کریمہ بلوچ کے کام کو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، آمنہ بلوچ، شلی بلوچ و دیگر آگے لے جانے کے لیے میدان میں اتریں۔

طویل و جزوی خاموشی کے بعد خواتین کی سربراہی میں متبادل سیاسی سوچ، جس کے تحت وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں و دیگر مسائل پر سڑکوں اور گلیوں میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی مزاحمت کا اعلان کیا گیا۔ یوں ہی ایک بار پھر بلوچستان میں خواتین کی سیاست میں شمولیت میں تیزی اُس وقت آنا شروع ہوئی جب تربت کے علاقے ڈنک میں "برمش" کا واقعہ ہوا۔

برمش یکجہتی کمیٹی سے بلوچ یکجہتی کمیٹی تک کیا ہوا؟

2020 میں برمش کے نام پر بلوچستان میں ایک نمایاں سیاسی و سماجی تحریک "برمش یکجہتی کمیٹی" کے نام سے اُٹھی۔

2023 میں تربت میں بالاچ مولا بخش کے ماورائے آئین و عدالت قتل کا واقعہ رونما ہوا۔ اس کے بعد برمش کی تحریک کو بالاچ کی تحریک مزید تقویت دیتی ہے۔

بالاچ مولا بخش کی فیملی انصاف کے لیے تربت میں فدا احمد چوک پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اُن کا مطالبہ تھا کہ متعلقہ پولیس کے افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔ یہ احتجاج زور پکڑتا گیا۔ کوئٹہ سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ و دیگر خواتین اسی دھرنے میں شامل ہونے کے لیے تربت پہنچیں۔ یہاں سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں بالاچ مولا بخش کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے تربت سے بلوچستان کے مختلف علاقوں اور پنجاب کے بلوچ علاقوں، ڈی جی خان، سے پیدل مارچ کرتے ہوئے شہرِ اقتدار اسلام آباد پہنچ گئے۔

اسلام آباد میں اُس کی کسی نے نہیں سنی۔ سردیوں کے موسم میں حکومت کے احکامات پر اسلام آباد پولیس نے اُن کو منتشر کرنے کے لیے اُن پر ٹھنڈا پانی پھینکا اور کچھ کو جیلوں میں ڈال دیا۔ انصاف نہ ملنے اور مایوسی کے بعد کوئٹہ میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین شامل تھے۔

پھر 28 جولائی 2024 کو "راجی مچی" کا اعلان کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے گوادر میں جلسہ کرنے کی اجازت نہ ملنے پر بلوچستان کی مختلف شاہراہوں اور مواصلاتی نظام کو بند کرنا، مختلف مقامات پر شرکا کو "راجی مچی" جلسے میں شرکت کرنے کے لیے روکنا، انتظامیہ کی جانب سے لاٹھی چارج، کئی کارکنان کا زخمی ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ دوسری جانب آئی ایس پی آر کے مطابق، "ایک پرتشدد ہجوم نے گوادر ضلع میں سکیورٹی فرائض پر مامور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایف سی کے ایک سپاہی جان سے چلے گئے۔"

واضح رہے عدالت نے اسی مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی کو عمر قید کی سزا دی۔

"راجی مچی" کے اعلان کے بعد بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد میں ایک نئی امید پیدا ہو گئی۔ یہاں سے بلوچستان کا سیاسی میدان اور قیادت خواتین کے پاس ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اب تک بلوچستان میں خواتین سیاسی کارکن اتنی مقبول نہیں تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق راجی مچی کو آرگنائز کرنے والے زیادہ تر خواتین ہی تھیں۔

خواتین کی مسلح تنظیموں سے وابستگی کے پیشِ نظر خاندانوں کی جانب سے لاتعلقی کرنے کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا

یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں شدت آ رہی ہے۔ ایک واقعہ دوسرے واقعے سے جُڑا ہوا ہے۔ جب کراچی یونیورسٹی میں شاری بلوچ کا واقعہ ہوا، یہ پہلا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے کی دو وجوہات تھیں۔ ایک یہ کہ بلوچ معاشرے میں اور بلوچ سیکولر تحریک میں ایک خاتون کا خودکش حملہ کرنا، اور دوسری یہ تھی کہ اس خطے میں بڑھتے ہوئے چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی طرف ایک اشارہ دینا اور بلوچستان میں چینی سرمایہ کاری کے خلاف ایک پیغام دینا۔

شاری بلوچ کا واقعہ گو کہ پہلا تھا، مگر اب یہ تسلسل کے ساتھ ہو رہا ہے۔ شاری کے بعد تربت میں صمیہ، قلات میں ماہل بلوچ، اور پھر 31، 2026 جنوری کو بلوچستان میں مربوط کارروائیوں میں 60 سالہ خاتون سے لے کر کم عمر خواتین بھی شامل ہونے کا دعویٰ سامنے آ چکا ہے۔ اس کے بعد اس حوالے سے حکومت کی کارروائیوں میں تیزی نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔

اب بلوچ خواتین کا مسلح کارروائیوں، خاص طور پر خودکش حملوں، میں شامل ہونا کوئی نئی بات نہیں رہی۔ بلکہ اب ہر دوسرے واقعے کے بعد اس نیوز کا انتظار ہوتا ہے کہ مزید کتنی شامل ہو گئی ہیں اور کب شامل ہونے والوں کے خاندان اُن سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے لیے پریس کلب پہنچ جاتے ہیں۔

خاندانوں کا اپنے پیاروں سے لاتعلقی کا اعلان اور اس کا پس منظر

دیکھا جائے تو بلوچستان میں جاری شورش کے دوران والدین کا اپنے بیٹوں سے لاتعلقی کا اعلان ہوتا رہا ہے۔ مگر اب والدین کو اپنی بیٹیوں سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس کے پس منظر پر جائیں تو اس میں شدت اُس وقت آئی جب مئی 2026 میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک خاتون کو کالعدم مسلح تنظیم کی جانب سے کمانڈر کے طور پر پیش کیا گیا اور اسی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ وہ دیگر خواتین کو جنگی پریڈ و تربیت دے رہی ہے۔ اس سے پہلے کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں میں خواتین کا باضابطہ طور پر جنگی میدان میں قیادت کرنا نہیں دیکھا گیا۔ یہ ایک نیا پہلو ہے۔

مئی 2026 میں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو

مئی 2026 میں بلوچستان کے ضلع کیچ (حال تمپ) کے علاقے کلاہو سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، جس کا نام شہناز بتایا جاتا ہے، کو سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ وہ کسی میدانی علاقے میں دیگر خواتین کو جنگی نما تربیت دے رہی ہے۔ بعد میں بتایا گیا کہ اُس کا تعلق کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے ہے۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے فوراً بعد، 30 مئی کو ان کی والدہ نے اپنے بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تربت پریس کلب میں اُن سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ اُن کے مطابق، "شہناز کی شادی آج سے 12 سال پہلے ہوئی تھی اور وہ مسقط، عمان، چلی گئی تھی۔ اُس کے دو بچے ہیں۔ ہمیں اُن کے بارے میں کوئی علم نہیں۔"

بلوچستان کی شاہراہوں پر بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے مرد کی روڈ پر ناکہ بندی و سنیپ چیکنگ معمول کی بات ہے، مگر اب مقامی سطح پر گردش کرتی رپورٹس کے مطابق مسلح تنظیموں کی جانب سے خواتین بھی ناکہ بندی کر رہی ہیں۔

اب تک کتنے خاندانوں نے لاتعلقی کا اظہار پریس کانفرنس کے ذریعے کیا؟

صرف تین سے چار ماہ کے کم عرصے میں ہم نے مختلف علاقوں میں اس طرح کے واقعات کے حوالے سے معلومات و رپورٹس اکٹھی کیں تو پتا چلا کہ اب تک آٹھ ایسے کیسز سامنے آ چکے ہیں، جس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ ان کا تعلق زیادہ تر مکران ڈویژن کے تربت اور گوادر سے ہے۔ پریس کانفرنسز کے حوالے: 1، 2، 3، 4، 5، 6، 7، 8

اس ویڈیو میں رشتہ داروں کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس کے دوران ایک خاتون کے بیٹے کا ویڈیو پیغام بھی دکھایا گیا ہے، جس میں وہ اپنی ماں سے التجا کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’ماں، آپ کہاں ہو؟ آ جاؤ، ہمیں آپ کے بغیر نہیں رہنا۔ ہم آپ کو چاہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے، یہ وہ کیسز ہیں جن میں خاندانوں کی جانب سے باضابطہ طور پر لاتعلقی کے بیانات سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں وہ کیسز شامل نہیں ہیں جو مبینہ طور پر وقتاً فوقتاً علاقائی سطح پر سوشل میڈیا پر رپورٹ ہوتے آ رہے ہیں۔ ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ جن لوگوں کے خاندان اپنے رشتہ داروں یا بیٹیوں سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں، وہ باضابطہ طور پر مسلح تنظیموں میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس بارے میں ابھی تک کسی بھی تنظیم کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ ماسوائے شہناز بلوچ کے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ واضح رہے کہ ماضی قریب میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں خواتین شامل تھیں۔

اسی تناظر میں گزشتہ دنوں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے 9 خواتین کی لسٹ شائع کی گئی، جو حکومتِ بلوچستان کو مطلوب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کا تعلق گوادر، جیوانی سے ہے اور ان کے بارے میں اطلاع دینے والوں کو انعام دیا جائے گا۔

جس میں خاندان کے افراد پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے وہ خاتون رشتہ دار سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں جو اُن کے مطابق کچھ دنوں یا اس سے زیادہ گھر سے رابطہ منقطع ہے۔ ایسے واقعات کے بعد اب بلوچستان میں مرد کے ساتھ ساتھ خواتین کے لاپتا ہونے کی بھی خبریں سوشل میڈیا پر رپورٹ ہو رہی ہیں۔

واضح رہے کہ حکومتِ بلوچستان اور وفاقی حکومت بھی بلوچستان کے اس مسئلے کو ریاست یا حکومت مخالف قرار دیتے آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے 20 جنوری کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ طویل عرصے سے ریاست کے خلاف ایک پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، تاہم اب ان کی حکومت نے اس معاملے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک تیار کیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیرِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ "زیادہ تر مسنگز پرسنز ملک سے باہر رہتے ہیں"۔

محرومی کی جدوجہد یہاں تک کیسے پہنچی اور حکومت کا بیانیہ

بلوچستان کا مسئلہ اچانک اس نہج کو نہیں پہنچا کہ لوگ بندوق اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ مختلف ادوار اور مختلف حکمرانوں کی جانب سے بلوچستان کے مسئلے کو جان بوجھ کر ہوا دینے اور یہاں تک پہنچانے میں مختلف ادوار میں کی گئی نابرابری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سمیت دیگر مسائل کو بروقت نہ سننے اور نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ حقوق کی اس آواز کو بروقت نہ سننے کی غلطی نے ایک ایسی تحریک کو جنم دیا جو آج کسی کی سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

بات نہ صرف علیحدگی کی تحریک تک آن پہنچی ہے، بلکہ اس میں حیران کن بات یہ ہے کہ بلوچ معاشرے کی خواتین نہ صرف اس تحریک میں شامل ہیں، بلکہ ایک لحاظ سے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ اب خودکش حملے بھی کر رہی ہیں۔

اس بارے میں حکومت اور ریاست کا بیانیہ مختلف ہے۔ ان کے مطابق یہ کسی حقوق اور محرومی کی تحریک نہیں، بلکہ یہ ایک پراکسی ہے، اور بلوچ قوم کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے، جس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

گہرام اسلم بلوچ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے میڈیا اینڈ جرنلزم سٹڈیز میں ماسٹرز کیا اور تحقیقاتی صحافی ہیں۔