Get Alerts

کیا ارب پتیوں کی حوس زمین کو نگل جائےگی؟

دنیا کے کم لوگوں تک یہ حقیقت پہنچی ہے کہ امریکہ کے ارب پتی، فوسل فیول اور گرین ہاؤس گیسز کے خلاف چلنے والی مہم کو مشکوک بنانے کے لیے مختلف تنظیموں کو کروڑوں ڈالر فنڈ دیتے ہیں تاکہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی سے بچانے کے لیے چلنے والی عالمی جدوجہد کو کمزور کیا جا سکے، اس جدوجہد کو کمزور کرنے کے لیے ٹرمپ بہترین سیاسی انتخاب تھے، فوسل فیول کی صنعت سے جڑے امریکی ارب پتیوں کا یہ گروہ کیسے کام کرتا ہے، اس کو سمجھنا ضروری ہے

کیا ارب پتیوں کی حوس زمین کو نگل جائےگی؟

صدارتی عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جب ڈونلڈ ٹرمپ پیرس معاہدے سے نکلنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر رہے تھے، اس وقت لاس اینجلس میں 12,500 سے زیادہ گھر جل چکے تھے۔ یہ شاندار گھر، جو کچھ دن پہلے خوابوں جیسے لگتے تھے، اب ملبے میں تبدیل ہو چکے تھے۔ جلنے والے گھروں میں سے مالکان  کو صرف وہی مل سکا جو وہ اپنی جان بچانے کے دوران ساتھ لے جا سکتے تھے۔ 275 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا تھا، لیکن آگ کو کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔ اگرچہ اس آگ کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ تیز ہوائیں تھیں، جن کے بارے میں ابھی تک تحقیقات نہیں ہو سکیں کہ ان کا اصل سبب کیا تھا؟ تاہم امریکی سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ لاس اینجلس کی آگ کے پیچھے سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ لیکن ٹرمپ اس پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں عالمی رائے کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے پیچھے ارب پتی کاروباری گٹھ جوڑ کی ایک ذہنیت ہے۔

ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں یہ کہتے رہے کہ امریکہ کو توانائی میں خودکفیل کرنے کے لیے وہ پیرس معاہدے سے نکل جائیں گے۔ پیرس معاہدے سے نکلنے کے بغیر وہ فوسل فیول کی صنعت کو فائدہ نہیں دے سکتے  تھے۔ ”ڈرل بیبی ڈرل“ کے نعرے کے پیچھے یہی فلسفہ تھا۔ ”زیادہ تیل کے کنویں کھودو اور امریکہ کو توانائی میں خودکفیل کرو“ کے نعرے کے پیچھے فوسل فیول کی صنعت کے ارب پتیوں کو نوازنا تھا۔ ایک بڑے کاروباری ٹائیکون کو کیا فرق پڑتا ہے کہ 2025 میں امریکہ میں لاس اینجلس جل جائے یا 2022 میں سندھ کے شہروں میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو جائیں۔

7 جنوری کو جب یہ آگ شروع ہوئی تو لاس اینجلس کاؤنٹی شدید خشک تھی، جو 130 سال میں سب سے زیادہ گرمی کا سامنا کر رہی تھی۔ 2024 کے مئی کے بعد اس علاقے میں صرف 4.1 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ جنوبی کیلیفورنیا میں اس وقت شدید ترین خشک سالی ہے اور 22 لاکھ لوگ متاثرہ علاقوں میں پریشان ہیں۔ امریکہ دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جو کاربن کے اخراج کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں، ٹرمپ نے اب پیرس معاہدے سے نکل کر موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کی عالمی جدوجہد کو بڑا نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

دنیا کے کم لوگوں تک یہ حقیقت پہنچی ہے کہ امریکہ کے ارب پتی، فوسل فیول اور گرین ہاؤس گیسز کے خلاف چلنے والی مہم کو مشکوک بنانے کے لیے مختلف تنظیموں کو کروڑوں ڈالر فنڈ دیتے ہیں تاکہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی سے بچانے کے لیے چلنے والی عالمی جدوجہد کو کمزور کیا جا سکے۔

اس جدوجہد کو کمزور کرنے کے لیے ٹرمپ بہترین سیاسی انتخاب تھے، فوسل فیول کی صنعت سے جڑے امریکی ارب پتیوں کا یہ گروہ کیسے کام کرتا ہے، اس کو سمجھنا ضروری ہے۔

برسوں سے فوسل فیول گٹھ جوڑ نے بڑی سرمایہ کاری کے تحت تھنک ٹینکس اور میڈیا کے ذریعے جھوٹے دعوے اور غیر سائنسی معلومات کو پیش کیا، جن میں سوائے دھوکہ دہی کے کچھ نہیں تھا۔ اس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے چلنے والی عالمی جدوجہد کو سست اور مشکوک بنانا تھا۔ اس سلسلے میں مالی امداد دینے والے، امریکی قوانین کا فائدہ اٹھا کر ٹیکس دہندگان کے پیسے کو انسانی نقصان کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بیشتر ڈونرز فوسل فیول صنعت کے حق میں جھوٹ کو حقیقت میں تبدیل کر کے سائنسی حقیقتوں کو مشکوک بناتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مثال ”اسٹینڈ ٹوگیدر نیٹ ورک' کی ہے، جس نے گزشتہ تین سالوں میں 87 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم عطیات کی صورت میں وصول کی۔ اسی طرح 'کمپیوٹر انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ“نے 2020 سے 2022 تک 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی گرانٹ وصول کی۔ یہ ادارہ 2016 میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پیرس معاہدے سے دستبرداری کے معاملے میں کریڈٹ حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح 'ہیریٹیج فاؤنڈیشن' نامی ایک اور ادارہ ہے جس نے ان تین سالوں میں 23 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی گرانٹ وصول کی۔

پیرس معاہدے میں یورپی یونین سمیت دنیا کے 195 ممالک شامل ہیں۔ کاربن کے اخراج کے نتیجے میں پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لاکھوں عام شہری متاثر ہوئے ہیں، ان کے گھر اور کاروبار تباہ ہو گئے، لیکن عالمی مالیاتی اداروں کے وعدوں کے باوجود ابھی تک ان کا مکمل ازالہ نہیں کیا گیا ہے۔ 2022 میں پاکستان میں آنے والا سیلاب اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ 15 جون سے اکتوبر 2022 تک آنے والے سیلاب کی وجہ سے 1,739 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 33 لاکھ افراد متاثر ہوئے، تقریبا 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ سیلاب کی وجہ معمول سے زیادہ بارشیں اور گلیشیئرز کا پگھلنا تھا۔ اس سیلاب میں 28 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین پانی میں ڈوب گئی۔

ٹرمپ کی جانب سے پیرس معاہدے سے نکلنے کے فیصلے کے بعد دنیا بھر میں اس پر زیادہ حیرانی کا اظہار نہیں ہوا۔ خود امریکہ کے اندر جو ریاستیں ہیں، انہوں نے بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ پیرس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کی بڑی اکثریت کو امید ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو روکنے کے لیے شروع کی گئی جدوجہد کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

 ٹرمپ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو روکنے کے لیے چلنے والی عالمی جدوجہد کو کتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس بارے میں فی الحال کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، مگر یہ بات یاد رہے کہ خود امریکہ میں ٹرمپ کو اپنے ہی حمایتی علاقوں میں اپنی پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بائیڈن نے اقتدار میں آتے ہی ٹرمپ کی جانب سے 2017 میں پیرس معاہدے سے نکلنے کے حکم کو منسوخ  کردیا تھا، اور اس کے  بعد انہوں نے اپنے  دور میں صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا ۔ الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری، بیٹریاں، سولر توانائی اور گھروں میں توانائی کے اپ گریڈیشن کے لیے اربوں ڈالر فراہم کیے گئے تھے۔ سب سے زیادہ فنڈز امریکی کاروباروں کو دیے گئے تاکہ وہ اپنے گھریلو مینوفیکچرنگ اور صاف توانائی کی سرمایہ کاری کو بڑھا سکیں۔ یہ سرمایہ کاری ریپبلکن کانگریسی علاقوں میں 85 فیصد ہے۔ بڑے پیمانے پر موجود یہ سرمایہ کاری واپس کرنا انتہائی مشکل ہے۔

ایک تحقیقی فرم ”رہوڈن گروپ“ کی رائے ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی پالیسیوں کو ترک کیا گیا تو اس کے ابتدائی اثرات سامنے آئیں گے، جن میں 2035 تک گھریلو توانائی کے اخراجات   489 ڈالر تک بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں 24 سے 36 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ٹرمپ کے اعلان کے نتیجے میں موسمیاتی سرمایہ کاری واپس لیتا ہے تو یہ میدان چین کو مل جائے گا۔ چین جو سولر توانائی کی پیداوار میں دنیا میں اس وقت سب سے آگے ہے، متبادل توانائی کا عالمی لیڈر بن کر سامنے آئے گا۔

دنیا کو صنعتی دور سے قبل کے درجہ  حرارت  کو  2 فیصد تک کم کرنے والا عالمی معاہدہ انسانوں کی آفات سے قبل تیاری کا معاہدہ ہے، اس معاہدے پر عمل کر کے دنیا کی 8 ارب آبادی کی زندگی کو مشکل ہونے یا ختم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن امریکہ سمیت فوسل فیول کے ارب پتیوں کی لالچ نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا سبب بن رہی ہے، بلکہ اس کی وجہ سے عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ زمین، جسے لاکھوں سالوں سے انسان نے اپنی ذہنی اور جسمانی محنت سے ایک طلسم میں تبدیل کیا، کیا وہ طلسم لالچ کا مقابلہ کر پائے گا؟ دنیا کے ہر انسان کو اس پر سوچنا ہوگا۔

مصنف اسلام آباد میں مقیم سینیئر سیاسی رپورٹر ہیں۔ ملکی سیاست پر ان کے مضامین و تجزیے مختلف ویب سائٹس اور اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔