Get Alerts

بجٹ 2025: معاشی ترقی، روزگار اور نظام محصولات!

ریفارمز اینڈ ریسورس موبلائزیشن کمیشن جو وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار کی طرف سے تشکیل دیا گیا تھا، نے متعدد کارپوریٹ مخالف تجاویز پیش کیں۔ سب سےمضحکہ خیز تجویز غیر منقسم (undistributed) منافع پر ٹیکس لگانا تھا ،جن پر کمپنیاں پہلے ہی ٹیکس ادا کر چکی تھیں

بجٹ 2025: معاشی ترقی، روزگار اور نظام محصولات!

پاکستان کا شمار دنیا کے کم ترین ٹیکس تناسب والے ممالک میں ہوتا ہے، جو کہ پانچ اہم کمزوریوں کی وجہ سے ہے: پیچیدگی، ایک محدود ٹیکس کی بنیاد، کم تعمیل، غیر موثر ٹیکس انتظامیہ، اور کم ہوتے ہوئے صوبائی ٹیکس محصولات— پاکستان پالیسی نوٹ 16: موبلائزنگ ریونیو، جوز آر لوپیز-کیلیکس اور ارم توقیر، ورلڈ بینک

پاکستان کا مشکل کاروباری اور مالیاتی ماحول، کمزور گورننس اور ریاست کا غیر معمولی حجم، سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں، جو کہ ہم عصروں کے مقابلے میں بہت کم ہے، اورٹیکس کی بنیاد انتہائی محدود اور نا انصافی پر مبنی ،محصولات کی فراہمی کے قابل ہی نہیں جو مالی استحکام ، بڑی سماجی اور ترقیاتی اخراجات کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے درکار ہیں—آئی ایم ایف کنٹری رپورٹ نمبر 24/310، اکتوبر 10، 2024

10 جون 2025 کو مالی سال 2025-26 کی سالانہ وفاقی بجٹ اعلان رسم کے موقع پر، حکومت وقت (اس کو وزیر اعظم کی نظر سے فیلڈ مارشل پڑھنا ہو گا) کو موجودہ ناقص ، پچیدہ، غیر عملی اور عوام دشمن ٹیکس پالیسی اور مشینری کو بہتر بنانے کے لئے اس کا نہ صرف از سر نو جائزہ لینا ہو گا، بلکہ معاشی ترقی کو تیز کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے، ان کی تشکیل نو کرنا ہو گی، مفکر  علامہ محمّد اقبال کی اس نصیحت کو مد نظر رکھتے ہوئے:

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خِشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

پاکستان میں ٹیکس کا نظام یکطرفہ ، ظالمانہ ،غیر پیداواری، اور معاشی ترقی کے لیے زہرقاتل ہے۔ کل کاروبار کی کارپوریٹائزیشن (corportization) دوفیصد سے بھی کم ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر پر بھاری ٹیکس لگا کر، یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں غیر دستاویزی شعبے کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہیں، اور یہ عمل بد قسمتی سے تا حال جاری ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریفارمز اینڈ ریسورس موبلائزیشن کمیشن (آر آر ایم سی) جو 1 دسمبر 2022 کو اس وقت کے چار مرتبہ منتخب (اس سے بڑا جھوٹ نہیں ہو سکتا) وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار، اب ملک کے چوتھے نائب وزیر اعظم اور 39 ویں وزیر خارجہ ہیں، کی طرف سے تشکیل دیا گیا تھا، نے متعدد کارپوریٹ مخالف تجاویز پیش کیں۔ سب سےمضحکہ خیز تجویز غیر منقسم (undistributed) منافع پر ٹیکس لگانا تھا ،جن پر کمپنیاں پہلے ہی ٹیکس ادا کر چکی تھیں۔

 یہ تجویز اس وقت پیش کی گئی جب اسی طرح کی ٹیکسیشن انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 5اے کے تحت عائد کی گئی ، مگر سندھ ہائی کورٹ نے اس کو خلاف دستور  (ultra vires )قرار دیا تھا اور اس کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ نے اجازت اپیل (leave to appeal) بھی مسترد کر دی تھی۔ کمیشن کے ارکان کی قابلیت اور معلومات کا اندازہ محض اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 30 اپریل 2025 کو پاکستان میں کل رجسٹرڈ کمپنیاں 252,321 تھیں، جن کی تعداد میں سالانہ اضافہ تقریباً 25,000 ہے ۔ ملائیشیا، انڈونیشیا اور ترکی جیسے ممالک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد ملین میں ہے۔ محض کارپوریٹ دشمن ٹیکس نظام کی بدولت زیادہ تر افراد پاکستان میں کمپنی کے طور پر کاروبار نہیں کرنا چاہتے ۔

 کاروباری پاکستانیوں کی کثیر تعداد ، جو کہ کروڑوں میں ہے ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ رجسٹرڈ ہی نہیں ہونا چاہتے۔اول تو وہ بینک اکاؤنٹ ہی نہیں کھولتے یا پھر بے نامی اکاؤنٹ سے کام کرتے ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد تو محض کیش میں ہی لین دین کر تی ہے۔ وہ ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ایف بی آر اپنی دانست میں ان پر بطور نان فیلر (non-filer) بلند شرح کا پیشگی انکم ٹیکس (advance withholding tax) لگا کر ذمہ داری سے عہدہ براہ ہو جاتا ہے۔یہ انتہائی غیر دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔اس سے اصل آمدنی پر ٹیکس بھی حاصل نہیں ہوتا اور ہر قسم کے پیشگی انکم ٹیکس کا بوجھ کارباری حضرات دوسروں پر منتقل کر دیتے ہیں۔یوں وہ دراصل انکم ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے۔

اگر پاکستان کو غیر دستاویزی معیشت کی حوصلہ شکنی کرنی ہے اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہے، تو اسے کارپوریٹائزیشن کے ذریعے تیزی سے کاروباری اور صنعتی توسیع کی ضرورت ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 20 فیصد تک کم کر کے اس عمل میں نظام محصولات کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔غیر کارپوریٹ کاروباری اداروں کے لیے شرح 20 فیصد ہموار (flat) ہونی چاہیے۔

پیشہ وارانہ شراکتیں (partnerships) جن کو کمپنیز بنانے کی ممانعت ہے، شرح انکم ٹیکس ہموار 20 فیصد ہونی چاہیے ۔ پیشہ وارانہ شراکت کو 20 فیصد(flat) ٹیکس کی رعایت تب ملے گی جب وہ کمپنیز پر لاگو تمام پیشگی ٹیکس کی کٹوتی کی شرطوں کو پورا کریں اور اپنے حسابات کا آڈٹ کروائیں۔

سامان اور خدمات پر ہم آہنگ سیلز ٹیکس کا نفاذ ضروری ہے، مگر اس کی شرح10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ جاپان، ویتنام اور سنگاپور وغیرہ میں ہے۔

تمام ٹیکس قوانین میں موجود مستثنات (exemptions) اور رعایتوں (concessions) کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ریاست کو سب سے مساوی اور مصفانہ ٹیکس وصول کرنے کے بعد ٹارگٹڈ سبسڈیز جہا ں ضرورت ہو دینی چاہیے۔ٹیکسوں کو صنعتی و کاروباری توسیع اور معاشی ترقی کے لیے ایک محرک (catalyst) کے طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ مزید ملازمتیں پیدا ہوں۔ پاکستان میں غیر منصفانہ، غیر منطقی، رجعت پسند اور غیر منصفانہ ٹیکس ریگولیشنز کے ساتھ درآمدی پابندیاں اور منبع (source)پر بھاری ٹیکس صنعتی اور کاروباری نمو پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

معیشت پر غیر منصفانہ ٹیکسز کے اثرات کا جائزہ لیے بغیر ، ان کے غیر منطقی اہداف کو پورا کرنے کے واحد دباؤ نے تجارت اور صنعت کو مفلوج کر دیا ہے۔ اگر یکے بعد دیگرے حکومتوں نے معاشی ترقی پر زیادہ توجہ دی ہوتی تو اس کے نتیجے میں ٹیکسوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا۔ معاشی اور صنعتی جمود کے ساتھ محصولات کو بڑھانا خود کشی کے برابر ہے ۔ بیمار معیشت کو اس کی استعداد سے زیادہ ٹیکس کرنا ، جیسا کہ پاکستان میں کیا گیا ہے، محصولات کے نظام کی تباہی کا سبب بھی ہے۔

پیداواری صلاحیت اور معاشی نمو کو بہتر بنانے کے لیے ضروری کوششوں کے بغیر اور تنہائی (isolation)میں محصولات کے اہداف کو طے کرنا ہمارا اصل مخمصہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں جان و مال کی حفاظت نہ ہو، کچھ ٹیکس مراعات کی دستیابی کے باوجود سرمایہ کار کبھی آگے نہیں آتے۔

ایف بی آر اسٹیٹوٹری ریگولیٹر آرڈرز (SROs) متعارف کر کے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے۔ غیر متنازعہ ریفنڈز کو روک کر، ضرورت سے زیادہ ٹیکس کے مطالبات کر کے اور اپنے بجٹ کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے ہر قسم کے منفی ہتھکنڈوں کا سہارا لے کر، جیسے بینکوں، ٹیلی کام اور تیل کی کمپنیوں جیسے بڑے ٹیکس دہندگان سے اربوں کی ایڈوانس لینا — صرف کچھ کا ذکر کرنا ہی مناسب ہے! — ٹیکس مشینری کے اس طرح کے اقدامات کاروبار کے لیے نقصان دہ ہیں۔

تمام جابرانہ اقدامات کے باوجود، ایف بی آر ماضی میں نظرثانی شدہ اہداف کو بھی پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، ٹیکس کی حقیقی صلاحیت کا ادراک کرنے کی کیا بات کی جائے۔ اگر ہم متوازی معیشت (قانونی اور غیر قانونی دونوں) کو مدنظر رکھیں  تو جی ڈی پی کا 16 فیصد ، 32 ٹریلین روپے بنتا ہے ۔ انکم ٹیکس قانونی یا غیر قانونی آمدنی پر ٹیکس لگانے میں کوئی فرق نہیں کرتا۔

اقتصادی منتظمین  کو پیداواری صلاحیت، کارکردگی، ترقی اور کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ اکیلے ریاست کے لیے زیادہ آمدنی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے حکومتوں کی سخت ٹیکس اور ریگولیٹری پالیسیوں نے لاکھوں لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ پاکستان کو اس رجحان کو ختم کرنے کے لیے تیزی سے اور فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

آمدنی کی کارکردگی وسائل کے بہترین استعمال کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چونکہ سرمایہ کاری کی تشکیل معیشت کی شرح نمو کا ایک اہم عامل ہے، اس لیے عوامی پالیسی کو کم ترجیحی علاقوں میں وسائل کے بہاؤ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، اس کے بجائے انھیں اہم پیداواری شعبوں کی طرف موڑنا چاہیے۔ پرتعیش اشیاء اور دیگر کم ترجیحی اشیاء (جیسے کھلے پلاٹ، مہنگی کاریں، زیورات وغیرہ) پر زیادہ ٹیکس لگا کر حکومت اعلیٰ ترجیحی شعبوں کے لیے وسائل کے اجراء کو یقینی بناتے ہوئے ایسی اشیاء کی کھپت اور پیداوار کو روک سکتی ہے۔

ٹیکس نظام کا بنیادی کام حکومت کے لیے اس کے عوامی اخراجات کے ساتھ ساتھ مقامی حکام اور اسی طرح کے عوامی اداروں کے لیے محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔ لہذا، ٹیکس پالیسی کے حوالے سے ترقیاتی حکمت عملی کا پہلا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اس فنکشن کو مؤثر طریقے سے انجام دیا جائے۔

اس ضمن میں پاکستانی ٹیکس  منتظمین کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے، گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مالیاتی خسارہ بلند رہنے اور سالانہ مقررہ محصولات کے اہداف کی نظر ثانی کے باوجود اہداف حاصل نہیں ہو سکے ۔ ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب، مالی سال 2023-24 میں 9.5 فیصد پر انتہائی افسوسناک حد تک کم تھا۔

ٹیکس کا دوسرا اتنا ہی اہم کام آمدنی اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی پالیسی ہے جس کے ذریعے عدم مساوات کو کم کرنا مقصود ہوتا ہے۔ انکم ٹیکس کی بلند شرحیں، کیپٹل ٹرانسفر ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اختیار کیے گئے کچھ ذرائع ہیں۔

پاکستان میں، بتدریج منصفانہ ٹیکسوں سے انتہائی غیر مساوی ٹیکسوں کی طرف تبدیلی ہوئی ہے۔ترقی پسند ٹیکسوں کے ذریعے عدم مساوات کو دور کرنے کی بجائے فرضی (presumptive)اور کم سے کم (minimum) ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ متعدد ودہولڈنگ دفعات (آسانی سے جمع کیے جانے والے ٹیکس) نے ٹیکس کے فلسفے کو تباہ کر دیا ہے۔ اس انحراف نے ٹیکسوں کے بوجھ کو امیروں سے غریبوں پر مؤثر طریقے سے منتقل کر دیا ہے۔

معاشی انصاف کا تعلق زیادہ تر ٹیکس کے بوجھ اور عوامی اخراجات کے فوائد کی تقسیم سے ہے۔ یہ سماجی انصاف کے وسیع تر تصور کا ایک جزو ہے، جس میں تقسیم انصاف کے علاوہ خواتین اور بچوں کے ساتھ سلوک اور معاشرے میں نسلی اور مذہبی رواداری جیسے سوالات شامل ہیں۔ ٹیکس پالیسی آمدنی اور دولت کی مطلوبہ خطوط پر تقسیم کو متاثر کرنے کا ایک جمہوری طریقہ ہے۔

اس پالیسی کے اہم اجزاء ہو سکتے ہیں (a) آمدنی، دولت اور جائیداد کے لین دین پر براہ راست ٹیکس لگانا، (b) زیادہ آمدنی والے گروہوں کی طرف سے خریدی گئی اشیاء پر ٹیکس (کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز لیوی، اور سیلز ٹیکس)، اور (c) کم آمدنی والے گروہوں کی طرف سے خریدی گئی اشیا پر سبسڈی (منفی ٹیکس)۔ پاکستان میں ترقی پسند ٹیکسیشن سے رجعت پسند ٹیکسیشن کی طرف بڑھنا یقیناً تباہ کن ثابت ہوا ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ پہلے ہی معاشی، سیاسی، جغرافیائی اور مذہبی بنیادوں پر منقسم ہے۔

پاکستان میں انکم ٹیکس کی وصولی، زرعی آمدنی پر وفاقی انکم ٹیکس کے برابر شرح ٹیکس کے بعد، تقریباً 18 ٹریلین روپے ہونی چاہیے ۔ اگر 30 ملین افراد جن کی سالانہ قابل ٹیکس آمدنی 1.5 ملین سے 2.5 ملین روپے کے درمیان ہے (ایک بہت ہی قدامت پسند تخمینہ)، کل انکم ٹیکس کی وصولی 12 ٹریلین روپے سے کم نہیں ہوگی ۔ اگر ہم کارپوریٹ باڈیز، دیگر غیر انفرادی ٹیکس دہندگان اور افراد (جن کی آمدنی 1200,000 روپے سے 1,500,000 روپے کے درمیان ہے) سے انکم ٹیکس شامل کریں تو مجموعی اعداد و شمار 18 ٹریلین روپے ہوں گے! ایف بی آر نے مالی سال 2023-24 کے دوران انکم ٹیکس کے طور پر صرف 4.530 ٹریلین روپے اکٹھے کیے۔

ایک اور چونکا دینے والی حقیقت ایف بی آر کے فیلڈ آفیشلز کی مالی سال 2023-24 میں اپنی کوششوں سے انکم ٹیکس جمع کرنے میں مایوس کن کارکردگی (2.8 فیصد!) ہے۔ انہوں نے انکم ٹیکس کے تحت 4530 ارب روپے کے کل مجموعہ میں سے صرف 95 بلین روپے (موجودہ طلب میں سے) اور 31.8 بلین روپے ( بقایا جات میں سے) حاصل کیے۔ اس سے ایف بی آر کی افسوسناک  کارکردگی کی تصدیق ہوتی ہے ، جہاں افسران کو دوگنی تنخواہ، بونس اور اعزازیہ مل رہا ہے!

کل انکم ٹیکس کی وصولی 4530 ارب روپے میں سے ایف بی آر کو ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس سے 2740 بلین روپے (%79.7) موصول ہوئے۔ اس میں بھی ٹیکس حکام کی ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی عروج پر ہے، کچھ ود ہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ ٹیکس وصول کرتے ہیں یا کٹوتی کرتے ہیں لیکن سرکاری خزانے میں جمع نہیں کراتے، یا ٹیکس دینے والے اور وصول کرنے والے آپس میں مل کر کرپٹ ٹیکس اہلکاروں کی ملی بھگت سے خزانے کو لوٹتے ہیں۔ مالی سال 2023-24 میں کل جی ڈی پی کے تخمینے کی بنیاد پر ودہولڈنگ ٹیکس کی حقیقی صلاحیت6500 ارب روپے سے کم نہیں تھی۔

اسی طرح سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹی میں بے تحاشہ بدعنوانی کی وجہ سے مالی سال 2023-24 میں مجموعی وصولی اصل صلاحیت سے بہت کم تھی۔ مالی سال 2023-24 میں ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کے تحت 3086.8 ارب روپے اکٹھے کئے ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت 577.5 ارب روپے اور کسٹم ڈیوٹی کے تحت 1104 ارب روپے۔ کل بالواسطہ ٹیکسز کی وصولی 4768 بلین روپے پریشان کن حد تک کم تھی ۔ صرف سیلز ٹیکس کی وصولی10 کھرب روپے ہونی چاہیے تھی اور کل بالواسطہ ٹیکس14 ٹریلین روپے۔

کمزور نفاذ جس میں نااہلی اور بدعنوانی شامل ہے ہمارے ٹیکس نظام کی اصل خرابی ہے۔ ٹیکس قوانین میں ہر سال فنانس بل کے ذریعے اور اس کے درمیان ایس آر اوز کے ذریعے بغیر سوچے سمجھے ترمیم کی جاتی ہے۔ اس کا حل سسٹم کی مکمل ری انجینئرنگ میں ہے۔

 2016 میں دیے گئے روڈ میپ، کشادہ ،ہموار، کم شرح اور قابل اعتبار ٹیکسز ، کو حال ہی میں اپ ڈیٹ کیا گیا، (تیسرا ایڈیشن نومبر 2024، PRIME، اسلام آباد]، بدقسمتی سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے عائد کردہ قلیل مدتی مجبوریوں یا شرائط کا بہانہ بنا کر سال بہ سال موخر کیا جاتا رہا ہے!

مضمون نگار وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایڈجنکٹ فیکلٹی، ممبر ایڈوائزری بورڈ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سینیئر وزٹنگ فیلو ہیں۔