Get Alerts

ہمارے معاشرے میں صنفی امتیازی تربیت

ایک بیوی کو سماجی طور پر یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے نامناسب رویے کو برداشت کرے، چاہے وہ جذباتی غفلت ہو، گھریلو تشدد ہو، یا حتیٰ کہ غیر ازدواجی تعلقات،اسے بار بار یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ “عورت کے صبر سے گھر بستے ہیں” اور “اچھی بیوی وہی ہے جو معاف کرنا جانتی ہو،” اس عمل میں اس کی اپنی جذباتی اور اخلاقی عزت نفس قربان کر دی جاتی ہے، صرف اس لیے کہ شادی برقرار رہے

ہمارے معاشرے میں صنفی امتیازی تربیت

پاکستان میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پرورش کے انداز میں گہرا صنفی امتیاز پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال زندگی کے لیے ان کی تربیت میں موجود فرق ہے، جس میں اخلاقی معیارات، سماجی ذمہ داریاں، اور ذاتی توقعات مختلف ہوتی ہیں۔ یہ غیر مساوی پرورش صرف ایک ثقافتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی ناانصافی ہے جو مواقع، ذاتی وقار، اور یہاں تک کہ مذہبی فرائض کو بھی متاثر کرتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی ناانصافیوں میں سے ایک اخلاقیات کا صنفی بنیادوں پر انتخابی نفاذ ہے۔ ایک لڑکا، جو ناجائز تعلقات میں ملوث ہوتا ہے جو کہ اسلام میں سختی سے منع ہے اکثر خاندان کی طرف سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا اس کے لیے جواز تراشے جاتے ہیں۔ اس کی غلطیوں کو “جوانی کی غلطیاں” یا “فطری خواہشات” کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جب وہ شادی کرتا ہے، تو اس کے ماضی کے گناہوں کو اس کی بیوی اور سسرال برداشت کر لیتے ہیں، گویا مردوں کو اپنی بے راہ روی پر معافی کا پیدائشی حق حاصل ہے۔

یہ امتیاز شادی شدہ زندگی میں بھی جاری رہتا ہے، ایک بیوی کو سماجی طور پر یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے نامناسب رویے کو برداشت کرے، چاہے وہ جذباتی غفلت ہو، گھریلو تشدد ہو، یا حتیٰ کہ غیر ازدواجی تعلقات،اسے بار بار یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ “عورت کے صبر سے گھر بستے ہیں” اور “اچھی بیوی وہی ہے جو معاف کرنا جانتی ہو۔” اس عمل میں اس کی اپنی جذباتی اور اخلاقی عزت نفس قربان کر دی جاتی ہے، صرف اس لیے کہ شادی برقرار رہے۔

لیکن جب کردار اُلٹ جائیں تو کیا ہوتا ہے؟ اگر ایک عورت اپنے حقوق کا مطالبہ کرے تو اسے ”باغی“ یا ”بدتمیز“قرار دے دیا جاتا ہے۔ معاشرہ مردوں سے اپنی بیویوں کو معاف کرنے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ اکثر انہیں طلاق دینے کی ترغیب دی جاتی ہے، چاہے مسئلہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ دوسری طرف، عورتوں کو صبر و تحمل کا درس دیا جاتا ہے اور ہر طرح کی اذیت کو خاموشی سے برداشت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ عدم توازن اسلام کا حصہ نہیں بلکہ ثقافتی پدرشاہی کا نتیجہ ہے، جو مذہبی تعلیمات کو مردوں کے حق میں توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے۔

ہم اپنی بیٹیوں کی ذمہ داریوں کو بھی غلط سمجھتے ہیں، اسلام سکھاتا ہے کہ بیٹے اور بیٹیاں یکساں طور پر اپنے والدین کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں، خاص طور پر بڑھاپے میں۔ ایک بیٹی کی محبت، اخلاقی مدد اور جسمانی خدمت کا وہی درجہ ہے جو بیٹے کی خدمت کا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں جب ایک لڑکی شادی کر لیتی ہے تو اس پر اپنے سسرال کو اپنے والدین پر ترجیح دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اسے سکھایا جاتا ہے کہ اس کا پہلا فرض اپنے شوہر کے خاندان کی خدمت ہے، جبکہ اس کے اپنے والدین کو مدد کے بغیر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر وہ ان کی دیکھ بھال کرنا بھی چاہے تو اکثر اسے اس کے شوہر یا سسرال کی جانب سے روک دیا جاتا ہے، جو اس کے والدین سے محبت کو اپنی انا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

یہ عمل نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی سراسر خلاف ہے۔ اسلام میں عورت کو اپنے والدین کی خدمت کا ویسا ہی حق حاصل ہے جیسا کہ مرد کو حاصل ہے۔ کوئی مذہبی فریضہ ایسا نہیں جو عورت کو مجبور کرے کہ وہ اپنے سسرال کو اپنے حقیقی والدین پر فوقیت دے۔ یہ ایک ثقافتی ایجاد ہے جس کا ہمارے دین سے کوئی تعلق نہیں۔

اگر پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں ان فرسودہ روایات کو چیلنج کرنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مرد اور عورت دونوں کو یکساں اخلاقی اور سماجی اصولوں پر پرکھا جائے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کی پرورش بھی اتنی ہی سختی اور ذمہ داری کے ساتھ کریں جتنی اپنی بیٹیوں کی کرتے ہیں۔ عورتوں کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر، شادی کا رشتہ یکطرفہ قربانی اور برداشت پر نہیں بلکہ باہمی احترام اور انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔

 اسلام انصاف، برابری، اور دونوں جنسوں کے لیے مساوی حقوق کا درس دیتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارا معاشرہ ان تعلیمات پر محض زبانی دعوے نہ کرے بلکہ انہیں عملی طور پر بھی اپنائے۔