تقسیم کا گھاؤ پنجاب، بنگال اور کشمیر نے اپنے سینے پر سہا ہے۔ اس کی چبھن آج بھی محسوس ہوتی ہے۔
دو نسلوں کے بعد آج بھی اس گھاؤ سے کہانیاں نکل رہی ہیں۔
منٹو اور کرشن چندر نے تو وہ انسانی المیہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، پھر اس پر ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘، ’پشاور ایکسپریس‘ جیسے افسانے لکھے۔
اصغر وجاہت بھی ہندی اور اردو کے ایسے ہی ادیب ہیں، جو افسانہ نگار، ناول نگار اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انہوں نے تقسیمِ ہند 1947 کے گھاؤ کی ایک کہانی ڈرامے کی صورت میں لکھی تھی، ’جس لاہور نہیں دیکھا، وہ جمیا ہی نہیں‘۔ یہ کہانی لاہور کی تھی؛ جس میں تقسیم کا اعلان ہوتے ہی انسانیت، حیوانیت کے خونی اور بھیانک ناچ کے سامنے شرما جاتی ہے۔
یہ ڈرامہ بہت پسند کیا گیا۔ اصغر وجاہت کے دیگر افسانوں، ڈراموں، کتابوں اور ناولوں کی طرح کئی فلم ساز اس پر فلم بنانا چاہتے تھے۔
راج کمار سنتوشی بھی ایک ایسے ہی قابل اور کامیاب فلم میکر ہیں، جو اسکرپٹ لکھنے اور ہدایت کاری میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ ’گھائل‘، ’دامنی‘ اور ’گھاتک‘ جیسی سپر ہٹ فلمیں بنا چکے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے عامر خان سے تذکرہ کیا۔
عامر خان ایک کامیاب ہیرو، فلم ساز اور ہدایت کار ہیں اور اپنی ذات میں ایک مکمل فلم میکر ہیں۔ دونوں کا اشتراک ہوا اور مرکزی کردار، سکندر مرزا، کے لیے انتخاب ہوا سنی دیول کا۔
سنی دیول 1983 سے ہیرو کے طور پر کام کر رہے ہیں اور 67 سال کی عمر میں بھی سپر ہٹ اور سپر فٹ ہیں۔ ان سے بہتر اس فلم کے لیے کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
عامر خان، سنی دیول اور راج کمار سنتوشی ملے، یوں فلم بنی: ’ بٹوارہ 1947‘۔
جس کی نغمہ نگاری کی ہے جاوید اختر جیسے مہا شاعر نے، اور سروں کے جادوگر اے۔ آر۔ رحمان اس کے موسیقار ہیں۔ کس قدر نابغۂ روزگار ہستیاں اس فلم سے جڑی ہوئی ہیں!
’ بٹوارہ 1947‘ کو فلمی قالب میں راج کمار سنتوشی نے ڈھالا ہے۔ یہ فلم 14 اگست کو ریلیز ہوگی۔