حکومت کا اصل امتحان اب شروع ہے، اسٹیبلشمنٹ کافی دیر سے وفاقی اور پنجاب حکومت کی خامیوں کی نشاندہی کر رہی ہے، ساتھ ہی ساتھ وہ اصلاحِ احوال کے لئے حکمت عملی کا حوالہ بھی دے رہی ہے لیکن حکومت نے چند چھوٹے چھوٹے مشوروں کے علاوہ باقی اہم پالیسی ایشوز کے بارے میں ایک کان سے سننے اور دوسرے کان سے نکال دینے کا رویہ اختیار کر رکھا ہے، یوں لگتا ہے کہ حکومت کو یا تو یہ پالیسی بدلنی پڑے گی یا پھر اِس کے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات خراب ہو سکتے ہیں۔