ارسطو کا فلسفہ

ارسطو اپنے استاد سے زیادہ حقیقت پسند تھا اس لیے اس نے کسی مثالی ریاست کا تصور پیش نہیں کیا بلکہ قابل عمل مشورے دینے پر اکتفا کیا ہے۔ اسے انسانوں کی کم زوریوں کا بخوبی احساس ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آدمی عقلی استدلال کرنے والا حیوان ہے، معقول انسان نہیں ہے۔

ارسطو کا فلسفہ

ارسطو (ارسطاطالیس) 387 قبل مسیح میں ریاست مقدونیہ کے ایک شہر سٹاگیرا میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ نقو ماخوس مقدونیہ کے بادشاہ فلپ کے باپ کا درباری طبیب تھا۔ اوائل عمر میں ارسطو نے اپنے باپ سے طب کی تحصیل کی جس سے اس کے ذہن میں علمی تجسس کا ملکہ بیدار ہو گیا۔ 18 برس کی عمر میں ایتھنز جا کر افلاطون کے حلقہ درس میں شامل ہو گیا اور 20 برس تک اسی سے کسب فیض کیا۔

ارسطو نہایت سنجیدہ اور ذہین طالب علم تھا اور اپنے استاد کی تقریروں کو پورے انہماک اور توجہ سے سنتا تھا۔ ایک دن افلاطون روح کی ماہیت پر تقریر کرنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد استاد کے دقیق استدلال سے اکتا کر طلبہ یکے بعد دیگرے سٹکنے لگے لیکن ارسطو آخر وقت تک ہمہ تن گوش بیٹھا تقریر سنتا رہا۔ شده شده ارسطو کی علمیت کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا۔ فلپ شاہِ مقدونیہ نے اسے طلب کیا اور اپنے بیٹے سکندر کا اتالیق مقرر کیا۔ فلپ نے ارسطو سے کہا، میں سکندر کو فلسفہ پڑھانا چاہتا ہوں تاکہ وہ ان حماقتوں سے اپنا دامن بچا سکے جو فلسفہ سے نابلد ہونے کے باعث مجھ سے سرزد ہوتی رہی ہیں۔

اس وقت سکندر 12 برس کا تھا۔ اس کی طبیعت سیمابی تھی اس لیے وہ ارسطو سے پوری طرح فیض یاب نہ ہو سکا۔ بہرحال اس کے افکار سے متاثر ضرور ہوا۔ بعد میں وہ ارسطو کی عزت و تکریم اپنے باپ کی جیسی کرتا تھا اور کہتا تھا باپ نے مجھے زندگی عطا کی لیکن استاد نے مجھے زندگی گزارنے کا فن سکھایا۔

سکندر نے ایران پر فوج کشی کی تو وہاں بھی اپنے استاد کو یاد رکھا۔ جہاں کہیں اسے حیواناتی یا نباتاتی نوادر ملتے وہ انہیں ارسطو کے پاس بھجوا دیتا تھا۔ ان کے مشاہدے سے ارسطو نے اپنی کتاب الحیوان لکھی تھی۔ ارسطو کی شادی رؤسا کے ایک گھرانے میں ہوئی تھی۔ اس نے اپنی محبوب بیوی کے ساتھ انتہائی مسرت اور آسودگی کے دن گزارے۔ جب وہ وفات پا گئی تو ارسطو نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد میری میت کو بھی اس کے مزار کے پہلو میں دفن کیا جائے۔

مالی لحاظ سے ارسطو فارغ البال تھا۔ اس نے زرِ کثیر کے صرف سے اپنا بیش قیمت کتب خانہ قائم کیا جس میں علومِ مروجہ پر بہترین کتابیں فراہم کی گئی تھیں۔ 50 برس کی عمر میں اس نے اپنی مشہور درس گاہ لیسیم کے نام سے قائم کی جس میں افلاطون کی اکیڈمی کے برعکس علوم طبیعی، علم الحیات، سیاسیات اور الٰہیات کی تعلیم پر زور دیا جاتا تھا۔

ارسطو اس کے باغ کی سرسبز روشوں پر ٹہلتے ہوئے درس دیا کرتا تھا۔ طلبہ اس کے ساتھ ساتھ مودبانہ قدم اٹھاتے ہوئے غور سے اُس کی باتیں سنتے جاتے تھے۔ اسی لیے اس کے فلسفے کو مشائی (رواں دواں) کہا گیا ہے۔

ایتھنز کے شہری ارسطو کو یونانی تسلیم نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ مقدونیہ کا باشندہ تھا جسے وہ گنواروں کی ریاست خیال کرتے تھے۔ ایتھنز کے سیاست دانوں کی ایک جماعت اس کی سخت مخالف تھی کیونکہ سکندر اعظم ارسطو کی سرپرستی کرتا تھا۔ مشہور خطیب دیماستھنیز سکندر اور ارسطو کے خلاف تقریریں کیا کرتا تھا۔

سکندر اعظم کی موت پر ایتھنز والے کھلم کھلا اس کی مخالفت کرنے لگے۔ وہ سقراط کی طرح اس کے خلاف بھی مقدمہ دائر کرنا چاہتے تھے کہ ارسطو ایک دن چپکے سے ایتھنز سے سٹک گیا۔ جاتے وقت اس نے کہا، میں ایتھنز والوں کو یہ موقع نہیں دوں گا کہ وہ دوسری بار ایک فلسفی کو قتل کریں۔ اس کے بعد جلد ہی اسے موت نے آ لیا۔

ارسطو نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ تفکر و تعمق اور تالیف و تصنیف میں گزارا تھا۔ اس نے کم و بیش 500 رسالے اور کتابیں تالیف کیں جن میں سے اکثر دست برد زمانہ کی نذر ہو گئیں۔ انہی میں اُس کے مکالمات بھی تھے جن میں فلسفے کے دقائق عام فہم زبان میں لکھے گئے تھے۔ اس کی کتابوں میں سیاسیات، اخلاقیات، فلسفۂ اول، ابرہان، القیاس، الخطابت، النفس اور کتاب الشعر مشہور ہیں۔ علمی فضیلت اور جودت فکر کے باعث اسے معلمِ اول کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ افلاطون کا فلسفہ

ارسطو اپنے استاد کی طرح مثالیت پسند ہے لیکن اس کی مثالیت پسندی افلاطون کے نظریے کی بہ نسبت واقعیت سے قریب تر ہے۔ افلاطون نے کئی سوال ایسے بھی اٹھائے تھے جن کا شافی جواب اس سے بن نہیں پڑا تھا۔ مثلاً یہ کہ جیسا کہ افلاطون کا خیال ہے امثال کو حقیقی مانا جائے تو سوال پیدا ہو گا کہ کائنات مادی یا عالم محسوسات ان مجرد امثال سے کیسے نکلا؟ اس کے جواب میں وہ محض یہ کہنے پر اکتفا کرتا ہے کہ مادی اشیاء امثال کے عکس ہیں اور ایک افسانوی معمار مادے پر امثال کی چھاپ لگاتا رہتا ہے اور مادی اشیاء ظہور میں آ جاتی ہیں۔ یہ جواب شاعرانہ ہے، تحقیقی نہیں ہے۔

مزید براں افلاطون کہتا ہے کہ مثل کسی شے کا جوہر ہوتا ہے۔ یہ مان لیا جائے تو ارسطو کے بقول یہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ کسی شے کا جوہر اس شے سے ماوراء ہو؟ جوہر کو تو اس شے کے بطون میں ہونا چاہیے۔ ارسطو نے ان ترددات کو رفع کرنے کی کوشش کی۔ افلاطون پر نقد لکھتے وقت وہ کہتا ہے کہ مجھے اپنا استاد اور حق و صداقت دونوں عزیز ہیں، لیکن صداقت عزیز تر ہے۔

افلاطون کے افکار پر جو جرح ارسطو نے کی ہے اس کی تفصیل سے پہلے اس کے نظریۂ علل کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہے۔ ارسطو کہتا ہے کہ علل چار ہیں۔ اس کے خیال میں ہر شے اپنے مقصد یا غایت کی طرف حرکت کر رہی ہے۔ اس کی تشریح کے لیے وہ سنگ تراشی کی مثال دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ پہلا سبب تو خود سنگ تراش ہے جو سنگ مرمر کی سل کو حرکت دے رہا ہے۔ دوسرا سبب کامل بت کا تصور ہے جو خود سنگ تراش کی اپنی تحریک کا باعث ہے۔ اسے علت غائی کہیں گے۔ تیسرا سبب سنگ مرمر کی سل ہے جس سے بت تراشا جا رہا ہے۔ چوتھا سبب وہ ہئیت ہے جو یہ سل مکمل ہونے کے بعد اختیار کرے گی۔ بعد میں ارسطو نے ان چاروں اسباب کو دو اسباب میں محدود کر دیا۔ یعنی مادہ اور فارم یا ہیئت۔

یہ ارسطو کے وہ اساسی اصول ہیں جن کی مدد سے وہ تمام کائنات کی تشریح کرنا چاہتا ہے۔ ان کی خصوصیات پر بحث کرتے ہوئے کہتا ہے کہ (1) مادہ اور ہیئت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ ارسطو کی ہئیت وہی ہے جسے افلاطون نے مثل کہا ہے۔ (2) ہیئت آفاقی اور ماده اختصاصی ہے، البتہ ہیئتِ آفاقی کسی نہ کسی خاص شے ہی میں موجود ہو سکتی ہے، اس سے ماوراء نہیں ہو سکتی۔ مثلاً کبوتر کا مثالی تصور ضرور موجود ہے لیکن خاص کبوتر سے الگ اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔

افلاطون پر اس کا سب سے اہم اعتراض یہی ہے کہ استاد کے امثال اشیاء سے ماوراء ایک مستقل عالم میں موجود ہیں اس لیے امثال اشیاء کی توجیہ کرنے سے قاصر ہیں۔ افلاطون نے امثال اور اشیاء کے ربطِ باہم کو واضح نہیں کیا۔ وہ استاد کے اس خیال پر بھی گرفت کرتا ہے کہ امثال غیر مرئی اور نامحسوس ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ فی الحقیقت ایک گھوڑے اور اس کے مثل میں کچھ بھی فرق نہیں ہے۔ منطقی لحاظ سے بے شک گھوڑے کی ایک مثالی ہیئت موجود ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہیئت گھوڑے سے علیحدہ نہیں ہے بلکہ ہمیشہ گھوڑوں کے وجود ہی میں ملے گی۔

فلسفے کی زبان میں بیئت یا Universal (منطق میں اسے یہی نام دیا جاتا ہے) بے شک حقیقی ہے، لیکن یہ کسی نہ کسی خاص شے (Particular) ہی میں موجود ہو سکتا ہے۔ اس طرح ارسطو نے اپنے استاد کی ماورائیت کو رد کر دیا۔ وہ کہتا ہے کہ امثال مادی اشياء سے علیحدہ یا ماوراء نہیں ہیں بلکہ خود ان اشیاء کے بطون میں موجود ہیں۔ یہی اس کے فلسفے کا اصل اصول ہے۔

ارسطو نے افلاطون کی مثالیت کو قبول کر لیا اور ازلی امثال کو حقیقی تسلیم کر لیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امثال مادی اشیاء سے علیحدہ کسی عالم مثال میں موجود نہیں ہیں بلکہ انہی میں طاری و ساری ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ مثل اور مادہ ازل سے موجود ہیں۔ کائنات ازلی و ابدی ہے۔ ہر مادی شے اپنے مثل یا فارم (ارسطو نے مثل کی جگہ فارم کا لفظ استعمال کیا ہے) کی طرف حرکت کر رہی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حرکت نام ہے فارم اور مادے کے آپس میں مل جانے کا۔

یہ بات مثال سے واضح ہو گی۔ شاہ بلوط کا ننھا سا بیج اکھوا بن کر دھرتی سے پھوٹتا ہے اور نشو و نما پاتا ہے تو اس کی نشو و نما یا حرکت کا مقصد یہ ہے کہ وہ شاہ بلوط کے درخت کی فارم یا ہیئت کو پا لے یعنی پودا درخت بن جائے۔ اسی طرح جب کوئی سنگ تراش مرمر کی سل کو تراشتا ہے تو اس کے تراشنے کے عمل کا محرک کیا ہے؟ وہ کون سی شے ہے جو اسے چھینی اٹھانے اور پتھر کو تراشنے کی تحریک دے رہی ہے؟ ارسطو جواب دیتا ہے وہ فارم جو اس عمل کی تحریک دے رہی ہے اور خود سنگ تراش کے ذہن میں موجود ہے۔

فارم اور مادے کے ربط پر بحث کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ مادہ بالقوہ طور پر موجود ہے یعنی وہ فارم کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فارم فعلیت ہے، یعنی وہ کچھ ہے جس کے حصول کی صلاحیت مادے میں موجود ہے۔ اسی طرح ارسطو کے ہاں فارم یا مثل اور مادہ کا تعلق ایسا نہیں ہے کہ فارم کو مادے میں ڈالا بھی جا سکتا ہے، جیسا کہ افلاطون کا نظریہ ہے۔ یہ تعلق عضویاتی ہے۔ فارم اور مادے یا بالقوہ (potential) اور بالفعل (actual) کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ارسطو کہتا ہے کہ کوئی شے عدم سے وجود میں نہیں آ سکتی بلکہ وه بالقوہ سے بالفعل ہو جاتی ہے۔

حرکت و تغیر نام ہے بالقوہ کا بالفعل یا مادے کا فارم کی صورت اختیار کرنے کا۔ یہ حرکت میکانکی نہیں ہے بلکہ مقصدی اور غائی ہے۔ اس طرح مقصد یا غایت ہی تغیر و حرکت کا اصل سبب ہے۔ جب کوئی شے حرکت میں آتی ہے یا تغیر پذیر ہوتی ہے تو کوئی قوت اسے پیچھے سے نہیں دھکیل رہی ہوتی، بلکہ اس کا مقصد یا غایت سامنے سے اسے کشش کر رہی ہوتی ہے۔ لہٰذا منطقی لحاظ سے مقصد یا غایت آغاز سے پہلے ہو گا، اگرچہ وقت کے لحاظ سے وہ بعد میں آئے گا۔

ارسطو کہتا ہے کہ حقیقتِ اولیٰ تمام کائنات کا مقصد یا غایت ہے، جو کائنات کو اپنی طرف کشش کر رہی ہے۔ یہی خیال افلاطون کا بھی ہے۔ وہ بھی کہتا ہے کہ آفاقی عقل ہی وجود مطلق ہے جو تمام کائنات کی اساس ہے۔ ارسطو افلاطون کے اس نظریے کو قبول نہیں کرتا کہ مقصد یا غایت اور فارم، مادے سے علیحدہ موجود ہے۔

بقول سٹیس ایک عام آدمی کو یہ بات عجیب سی لگے گی کہ وجود مطلق، جس سے کائنات متجلی ہو رہی ہے، کائنات کے عمل ارتقاء کے آخر میں ہو اور ثابت کرنا چاہے کہ یہ غایت یا مقصد حقیقتاً آغاز سے پہلے ہی ہے۔ لیکن یہی تو مثالیت کا سب سے اہم خیال ہے۔

دراصل افلاطون اور ارسطو وقت کو غیر حقیقی اور محض ظاہری دکھاوا مانتے ہیں۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ وجود مطلق یا خدا کا کائنات سے تعلق وقت کا تعلق نہیں ہو سکتا۔ جبکہ اہل مذہب کا خیال ہے کہ خدا کائنات سے پہلے موجود تھا اور اس نے کائنات کو پیدا کیا۔ اس طرح وہ سبب بنا اور عالم مسبب بنا۔ لیکن مثالیت میں خدا کا تعلق عالم سے وہ نہیں ہے جو سبب سے مسبب کا ہوتا ہے۔

منطقی لحاظ سے وجود مطلق یا خدا کائنات سے پہلے تھا لیکن وقت کے لحاظ سے وہ پہلے نہیں تھا۔ وہ کائنات کی غایت ہے، اس کی اساس ہے، لیکن جہاں تک وقت کا تعلق ہے، کائنات کا نہ کوئی آغاز تھا اور نہ کوئی انجام ہو گا۔

ہیئت مطلق کو ارسطو نے خدا کہا ہے۔ اس کی مثالیت کی چوٹی پر یہ ہیئت مطلق ہے جو حقیقی اور غیر مادی ہے۔ اور سب سے نیچے ایسا مادہ ہے جس نے ابھی تک کوئی ہیئت قبول نہیں کی۔ یہ دونوں اصطلاحات منطقی ہیں۔ کیونکہ ارسطو کے نظریے کی رو سے ہیئت اور مادہ ایک دوسرے سے الگ موجود نہیں ہو سکتے۔

تمام اشیاء کی حرکت خدا کی طرف جاری ہے اور اشیاء اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ اس کی طرف کھنچتی چلی جا رہی ہیں۔ خدا اکمل ہے۔ علت العلل ہے۔ وہ پہلا محرک ہے لیکن خود غیر متحرک ہے کیونکہ پہلے محرک کا غیر متحرک ہونا ضروری ہے۔ ارسطو نے خدا کو فکر کی فکر اور ہیئتوں کی ہیئت بھی کہا ہے۔ خدا خود ہی موضوع ہے اور خود ہی معروض بھی ہے۔

ارسطو کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ مادے کے بغیر ہیئت موجود نہیں رہ سکتی اور خدا کو اس نے ایک ایسی ہیئت کہا ہے جو بغیر مادے کے موجود ہے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ وہ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ وہ حقیقت مطلق ہے لہٰذا خدا نہ موجود ہے اور نہ فرد ہے۔ دراصل ارسطو کا خدا بھی افلاطون کے خدا کی طرح محض ایک منطقی اصطلاح ہے اور غیر شخصی ہے۔ یاد رہے کہ متاخرین میں ہیگل نے جو فلسفۂ ارتقا پیش کیا ہے اس میں بھی خدا یا وجود مطلق کائنات سے مقدم نہیں ہے بلکہ کائنات کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ارتقاء پذیر ہو رہا ہے۔

ارسطو کا طبیعی فلسفہ بنیادی طور پر غائی یا مقصدی ہے کیونکہ علت غائی ہی ہر شے کا سبب ہے۔ ہر شے اپنی غایت یا مقصد کی طرف حرکت کر رہی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ فطرت کے عمل میں ہئیت حرکت پر اکساتی ہے، ماده رکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔ تمام عالمی حرکت و تغیر فی الاصل ہیئت کی کوشش ہے مادے کو متشکل کرنے کی۔

ارسطو کی طبیعیات میں حرکت و تغیر نام ہے ہیئت کے مادے میں نفوذ کرنے کا۔ وہ کہتا ہے کہ حرکت کی چار قسمیں ہیں۔ پہلی وہ جو کسی شے کے جوہر کو متاثر کرتی ہے۔ اسے پیدا کرنے یا اسے ختم کرنے کا باعث ہوتی ہے۔ دوسری کیفیت کا تغیر ہے۔ تیسری کمیت کا تغیر یعنی اس میں زیادتی کرنا یا گھٹانا۔ چوتھی جگہ کا تبدیل کرنا۔ ان سب میں آخری زیادہ اہم ہے۔

ارسطو وقت کو حرکت کا زائیدہ سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ وقت کے بنیادی عناصر تغیر اور شعور ہیں۔ پہلا خارجی ہے اور دوسرا داخلی۔ دوسرے پر، یعنی شعور پر، برگساں نے اپنے نظریہ زبان کی بنیاد رکھی ہے۔ ارسطو کے خیال میں جنس اور انواع ازلی ہیں۔ ان کا نہ آغاز ہے اور نہ انجام ہو گا۔ افراد پیدا ہوتے رہتے ہیں، مر کر فنا ہوتے رہتے ہیں، لیکن نوع انسان ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہ خیال ڈارون کے نظریۂ ارتقا کے منافی ہے کیونکہ ارسطو کا ارتقا وقت کا عمل نہیں ہے، منطقی عمل ہے۔

ارسطو کی نفسیات میں نفس کے تین درجے ہیں۔ نفس کی ابتدائی صورت قوتِ نشو و نما ہے جو پودوں میں ہوتی ہے۔ پودوں سے ایک درجہ اوپر حیوانات ہیں جن میں قوت کے نمو کے ساتھ احساس بھی موجود ہے جسے نفسِ حسی کا نام دیا ہے۔ سب سے بالاتر انسان ہے جس میں ان دونوں نفوس کے علاوہ نفسِ ناطقہ یا عقلِ استدلالی بھی موجود ہے۔

ذہنِ انسانی کے قویٰ کا ذکر کرتے ہوئے ارسطو کہتا ہے کہ حواسِ خمسہ سے بالاتر فہمِ عامہ ہے جس کا مرکز دل ہے۔ اس میں منتشر حسی مدرکات مل کر تجربے کی وحدت بناتے ہیں۔ اس سے اوپر قوت متخیلہ ہے جس سے کسی فن کا تخلیقی تخیل مراد نہیں ہے بلکہ ذہنی پیکر اور تصاویر بنانے کی قوت ہے جو سب میں موجود ہے۔ اس کے بعد حافظہ ہے۔ اس میں اور قوت متخیلہ میں یہ فرق ہے کہ اس میں ماضی میں دیکھی ہوئی کسی شے کی نقل بھی شامل ہے۔ اس کے بعد متذکرہ ہے جو حافظے سے بلند تر ہے۔ اس کی مدد سے ایک شخص شعوری طور پر ماضی کی یادوں کو ذہن میں لا سکتا ہے۔ اس سے اوپر عقل استدلالی یا نفس ناطقہ ہے جس کے دو درجے ہیں۔ فروتر درجے کو عقل منفعل کہا ہے اور بالاتر کو عقل فعال کا نام دیا ہے۔

ذہن انسانی میں فکر کرنے سے پہلے فکر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس خفی صلاحیت فکر کو عقل منفعل کہیں گے۔ اس میں ذہن انسانی نرم موم کی مانند ہے جس میں نقش قبول کرنے کی صلاحیت تو ہے لیکن اس پر کچھ منقش نہیں کیا گیا۔ عقل فعال اس موم یا عقل منفعل پر نقش ثبت کرتی ہے۔ ان تمام قویٰ کے مجموعے کو روح کہا جاتا ہے جو جسم کی ہیئت یا فارم ہے۔

روح جسم کے بغیر موجود نہیں رہ سکتی کہ یہ جسم کا فعل ہے۔ اس طرح ارسطو نے ناصرف فیثاغورس اور افلاطون کے نسخ ارواح سے انکار کیا ہے بلکہ ان کے بقائے روح کے تصور کی بھی نفی کی ہے۔ کیونکہ اس کے خیال میں جسم کے خاکے کے ساتھ روح بھی جو جسم کا فعل ہے ختم ہو جاتی ہے۔ افلاطون روح کو شے سمجھتا تھا اگرچہ اسے غیر مادی مانتا تھا۔ اس کے خیال میں روح کو جسم میں داخل بھی کیا جا سکتا ہے اور نکالا بھی جا سکتا ہے۔ گویا روح اور جسم کا تعلق میکانکی ہے۔

ارسطو کہتا ہے کہ روح کو جسم سے جدا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ جسم کی ہیئت ہے۔ جسم کے بغیر روح موجود نہیں رہ سکتی۔ ان کے درمیان ربط و تعلق میکانکی نہیں ہے، عضویاتی ہے۔ روح کوئی شے نہیں ہے جو جسم میں داخل بھی ہوتی ہے اور پھر باہر بھی نکل جاتی ہے۔ روح جسم کا فعل ہے جو جسم کے فنا ہونے پر فنا ہو جاتا ہے۔

لیکن ارسطو نے عقل فعال کو مستثنیٰ کر دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ عقل منفعل فانی ہے لیکن عقل فعال غیر فانی ہے۔ عقل فعال خدا کے ہاں سے آتی ہے اور اسی کے پاس لوٹ جاتی ہے۔ لیکن اس استثنیٰ سے بھی بقائے روح لازم نہیں آتی کیونکہ عقل منفعل اپنے تمام قویٰ، متخیلہ، حافظہ، متذکرہ، وغیرہ کے ساتھ موت کے وقت فنا ہو جاتی ہے۔

اسی طرح ارسطو نے شخصی بقا سے انکار کیا ہے۔ بعد میں اس کے ایک پیرو ابن رشد نے بھی اسی بنا پر شخصی بقا سے انکار کیا تھا۔ ایک جگہ ارسطو نے کہا ہے کہ جس طرح روح جسم کی ہیئت ہے اسی طرح خدا کائنات کی ہیئت ہے۔ ہمارے ہاں صوفیہ وجودیہ نے اس قول کو وحدت وجود کے اثبات میں پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ عام فکری مغالطے؛ یہ کہ تصوف مذہب کا جزو ہے (I)

ارسطو کے اولیات میں منطق کی تدوین بھی اہم ہے۔ فکر و استدلال کے ابتدائی اصول الیاطی فلاسفہ اور ہیریقلیتس نے وضع کیے تھے جن پر سوفسطائیوں نے قابل قدر اضافے کیے۔ فکری استدلال کو ارسطو سے پہلے جدلیات کا نام دیا جاتا تھا۔ ارسطو نے ان تمام اصولوں کو مرتب کیا اور ان پر اضافے کر کے منطق قیاسی کی تشکیل کی جس کا اصل اصول یہ تھا کہ پہلے سے معلوم کیے ہوئے کلیات سے نتائج کا استخراج کیا جائے۔ علم الحیات میں کہیں کہیں اس نے استقرا سے بھی کام لیا ہے لیکن اس کا رجحان غالب قیاس کی طرف ہی تھا۔

جدید دور کے آغاز پر فرانسس بیکن نے ارسطو کے قیاس کو رد کر دیا اور استقرا پر زور دیا کیونکہ یہ جدید سائنس کا طرز تحقیق بھی ہے۔ بیکن نے ارسطو پر یہ الزام لگایا کہ وہ حقائق کا براہ راست مطالعہ کر کے اپنے نتائج فکر اخذ نہیں کرتا بلکہ پہلے سے قائم کیے ہوئے کلیات کے مطابق حقائق کو توڑ مروڑ لیتا ہے اور انہیں اپنے نام نہاد عقلیاتی نظام کے مطابق کر لیتا ہے۔ بیکن کی یہ تعریض درست ہے لیکن یہ کوتاہی ارسطو سے خاص نہیں۔ تمام یونانی فلسفی ذاتی مشاہدے اور تجربے کی بجائے کلیات ہی سے استدلال کرتے تھے۔ برٹرینڈ رسل بھی بیکن کی طرح ارسطو سے سخت خفا ہیں اور کہتے ہیں:

'ارسطو کا شمار نوع انسان کے عظیم ترین مصائب میں ہوتا ہے'۔

لارڈ رسل کے خیال میں ارسطو کی منطق قیاسی نے صدیوں تک سائنس کی ترقی کے راستے مسدود کر دیے۔

دوسری طرف رینان کہتا ہے کہ ارسطو سائنس کا بانی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ارسطو نباتات اور حیوانات کا مشاہدہ کیا کرتا تھا اور اس پہلو سے اس کا انداز مطالعہ تحقیقی اور سائنٹفک تھا۔ لیکن قیاس کی ہمہ گیر مقبولیت اور اس کی موت کے بعد کے فکری تنزل کے باعث اس تحقیقی رجحان کو پنپنے کا موقع نہ مل سکا۔

ما بعد الطبیعیات کی طرح سیاسیات، اخلاقیات اور جمالیات میں بھی ارسطو نے جا بجا اپنے استاد سے انحراف کیا ہے۔ وہ افلاطون کے اشتراک نسواں کا مخالف ہے اور کہتا ہے کہ بچے کی صحیح پرورش اور تربیت کے لیے کنبے کا ہونا ضروری ہے۔ بچے کو ماں باپ سے الگ کر دیا جائے تو وہ ان کی شفقت سے محروم ہو جاتا ہے جس کا اثر اس کے کردار پر اچھا نہیں ہو سکتا۔

وہ کہتا ہے کہ بہترین ریاست وہ ہے جو کم و بیش ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہو۔ یہ ریاست اتنی بڑی ہو کہ کسی ٹیلے پر کھڑے ہو کر اسے دیکھا جائے تو ساری کی ساری نگاہوں کے سامنے آ جائے۔ اس ریاست میں تین طبقات کا ہونا ضروری ہے۔ طبقۂ اعلیٰ علم و عقل سے آراستہ خوشحال یونانی نژاد ہو جس کے سپرد مملکت کا نظم و نسق اور دفاع کیا جائے۔ طبقۂ متوسط ہنر مندوں اور صنعت کاروں پر مشتمل ہو جو کاروبار اور لین دین کا کام کریں۔ سب سے نچلا طبقہ غلاموں کا ہو جو بالائی طبقات کی خدمت پر مامور ہوں۔

ارسطو غلاموں کو مملکت کی فلاح و بہبود کے لیے اشد ضروری سمجھتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں جب تک طبقہ اعلیٰ کو روزمرہ کے کاموں سے فراغت میسر نہ آ سکے، وہ مملکت کے نظم و نسق کا کام احسن طریقے سے نہیں کر سکتا۔

ارسطو تاجروں کا ذکر حقارت سے کرتا ہے کیونکہ وہ دوسروں کی محنت مشقت سے بنائی ہوئی اشیاء کا محض تبادلہ کر کے دولت کما لیتے ہیں۔ اس نے سود خوروں کی سخت مذمت کی ہے اور کاشت کاروں، کان کنوں اور مویشی پالنے والوں کی تعریف کی ہے۔

اس کے خیال میں طرزِ حکومت یا تو جمہوری ہونا چاہیے اور یا حکومت کی باگ ڈور رؤسا کے ہاتھ میں دے دینی چاہیے۔ وہ ڈکٹیٹرشپ کا سخت مخالف ہے اور کہتا ہے کہ جب کبھی کوئی ڈکٹیٹر بر سر اقتدار آ جاتا ہے، لوگ یا تو منافق بن جاتے ہیں اور یا خوشامدی ہو جاتے ہیں۔ اظہار رائے کی جرات اور حریت فکر کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

ارسطو نے بچوں کی تعلیم و تربیت کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اس کے مجوزہ نصاب تعلیم میں پہلے 5 برس کھیل کود کے لیے وقف ہیں۔ 5 سے 7 برس تک ابتدائی آسان تعلیم، 7 سے 14 تک موسیقی اور ورزش، 14 سے 21 تک موسیقی، ادب اور نقاشی کی تعلیم دی جائے۔ اس کے بعد طالب علم جس شعبہ علم و ادب سے خاص شغف رکھتا ہو اسے اختیار کرنے کا مجاز ہے۔

ارسطو نے بجا طور پر کہا ہے کہ کردار کی تعمیر کے بغیر تحصیل علوم ایک بے کار مشغلہ ہے۔ جو اشخاص رسمی علوم پڑھ لیتے ہیں لیکن ان کا کردار گھٹیا ہوتا ہے وہ علوم و فنون سے فیض یاب نہیں ہو سکتے۔ پختہ کردار اور اعلیٰ اخلاق کے حصول کے لیے وہ مناسب عادات کے اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بچے کے ذہن و فکر میں شروع ہی سے اچھی عادتوں کا راسخ کر دینا ضروری ہے تا کہ بڑی عمر میں اس کے کردار میں محکمی اور شخصیت میں بالیدگی آ جائے۔

اس کے خیال میں آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ سید بالطبع اور عبد بالطبع۔ سید بالطبع پیدائشی سردار ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں زمام حکومت دینا ضروری ہے کیونکہ سید بالطبع حوصلہ مندی، بلند نظری، شہامت اور استقامت سے بہرہ یاب ہوتے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ کہ کون سا طالب علم سید بالطبع ہے اور کون سا عبد بالطبع، مکتب میں ہوتا ہے۔

ارسطو مرد کو آقا اور عورت کو کنیز سمجھتا ہے۔ عورت کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ مرد کی خدمت پر کمربستہ رہے۔ وہ کہتا ہے کہ عورت میں قوت ارادی نہیں ہوتی اور اس میں شخصیت اور کردار کا فقدان ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے:

'جب قدرت کسی کو مرد بنانے میں ناکام ہوتی ہے تو اسے عورت بنا دیتی ہے'۔

ارسطو کی تعلیم میں سیاسیات اور اخلاقیات کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ریاست کو فرد پر فوقیت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ فرد کا مفاد بہرصورت جماعت یا ریاست کے مفاد کے تحت رکھنا چاہیے اور اس کی تمام تر کوششیں ریاست کی بہبود و فلاح کے لیے وقف ہونی چاہئیں۔ اسی بنا پر اسے ڈکٹیٹروں سے نفرت ہے جو فوجی طاقت کے بل بوتے پر ریاست کو ذاتی مفاد کی پرورش کا آلہ کار بنا لیتے ہیں۔

وہ کہتا ہے کہ زندگی اور عمران کی تمام آسائشوں میں تمام افراد کو برابر کا شریک کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی معاشرہ صحیح معنوں میں منظم صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ جو معاشره عدل و انصاف کی بنا پر قائم کیا جائے گا اس میں تمام افراد کے اخلاق خودبخود سدھر جائیں گے۔ دوسری طرف جس معاشرے میں نا انصافی ہو گی اس میں پند و نصیحت اور وعظ و ارشاد سے افراد کے اخلاق کو سدھارنے کی تمام کوششیں بے کار ثابت ہوں گی۔

ارسطو اپنے استاد سے زیادہ حقیقت پسند تھا اس لیے اس نے کسی مثالی ریاست کا تصور پیش نہیں کیا بلکہ قابل عمل مشورے دینے پر اکتفا کیا ہے۔ اسے انسانوں کی کم زوریوں کا بخوبی احساس ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آدمی عقلی استدلال کرنے والا حیوان ہے، معقول انسان نہیں ہے۔ یاد رہے کہ افلاطون عالم حواس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اسے غیر حقیقی کہتا تھا۔ اس کے برعکس ارسطو عالم مادی کو حقیقی سمجھتا ہے۔ اس لیے انسانی معاشرے کی بہبود کے لیے ایسے اصول وضع کرتا ہے جن پر عمل بھی کیا جا سکے۔

وہ کہتا ہے کہ انسان کی تمام کوششیں حصول مسرت کے لیے وقف ہیں۔ لیکن یہ مسرت حظِ نفسانی سے مختلف ہے۔ اس سے ارسطو کا مطلب وہ ذہنی سکون اور آسودگی ہے جو نیکی کی زندگی بسر کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ جس طرح ایک صحت مند توانا نوجوان کے رخساروں پر ازخود گلاب کے پھول جیسی سرخی آ جاتی ہے اسی طرح نیک آدمی کا دل ازخود مسرت سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ اس مسرت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ پر جوش شہوات و جذبات کو عقل و خرد کے تابع رکھا جائے۔ جس شخص کے جذبات عقل و خرد کی گرفت سے آزاد ہو جاتے ہیں وہ حظ نفسانی سے تو آشنا ہو سکتا ہے لیکن سچی مسرت سے ہمیشہ محروم رہتا ہے۔

ارسطو کو جمالیات کا بانی بھی کہا گیا ہے۔ اس نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی جو ضائع ہو گئی۔ بوطیقا کے چند باب دست برد زمانہ سے محفوظ ہم تک پہنچے ہیں۔ اس کتاب میں اس نے تمثیل نگاری سے تفصیلی بحث کی ہے۔ وہ اپنے استاد کی طرح آرٹ اور شاعری کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ وہ کہتا ہے آرٹ بے شک محاکات (نقالی) ہے لیکن جیسا کہ افلاطون نے کہا تھا، نقالی کی نقالی نہیں ہے بلکہ اصل کی نقالی ہے۔ نقالی سے اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اصل کی ہو بہو نقالی کی جائے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ آرٹ میں جدت اور ندرت کا عنصر لازم ہے۔

ارسطو کے خیال میں ایک مصور کسی شے کے محسوس و مرئی پہلوؤں کی نقالی نہیں کرتا بلکہ اس مثل یا ہیئت یا فارم کی نقالی کرتا ہے جو اُس شے کا اصل جوہر ہے۔ آرٹ فطرت میں انہی امثال کی تلاش کرتا ہے اور اشیاء میں جو آفاقی اور ازلی عنصر ہوتا ہے، اس کی نقالی کرتا ہے۔ ایک عامی کسی شے میں صرف اس کے مخصوص پہلوؤں ہی کو دیکھتا ہے جبکہ فن کار اس شے کا جوہر یا ازلی پہلو دیکھ کر اسے فن کی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ہر شے مادے اور ہئیت پر مشتمل ہے۔ فن کار ہئیت سے اعتنا کرتا ہے، مادے کو در خور توجہ نہیں سمجھتا۔

ارسطو تمثیل کو المیہ اور فرحیہ میں تقسیم کرتا ہے۔ المیہ کے ہیرو کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی عظیم شخصیت ہو، اس سے قطع نظر کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے۔ کسی عظیم آدمی کی عذاب ناک ذہنی کشمکش اور قلبی اذیت ہی المیہ کے بھرپور تاثر کا باعث ہو سکتی ہے۔ المیہ رحم اور خوف کے جذبات کو ابھار کر ناظرین کی روح کو پاک کرتا ہے کیونکہ ان جذبات کے جوش مارنے کے بعد سکون اور طمانیت کی جو کیفیت محسوس کی جاتی ہے اسے تزکیہ نفس سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں ارسطو کے مثالی انسان کے تصور کا ذکر ضروری ہے کہ اس میں خود ارسطو کے ذاتی کردار و شخصیت کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ ول ڈیورنٹ کے الفاظ میں:

'وہ ہر ایک کی خدمت کرتا ہے لیکن کسی سے خدمت لینا ننگ و عار سمجھتا ہے۔ کیونکہ احسان کرنا برتری کی علامت ہے اور ممنون احسان ہونا کمتری کا نشان ہے۔ وہ اپنے آپ کو خواہ مخواہ جوکھم میں نہیں ڈالتا کیونکہ وہ دنیا کی بہت کم چیزوں کو در خور توجہ سمجھتا ہے۔ لیکن مناسب موقع پر جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بعض حالات میں زندہ رہنا باعث ننگ ہے۔ وہ عوام کے سامنے اپنے آپ کی نمود و نمائش نہیں کرتا اور اپنی پسند اور نا پسند کا برملا اظہار کرتا ہے۔ وہ صاف گو ہوتا ہے اور کسی شخص کا پاس و لحاظ اسے حق گوئی سے باز نہیں رکھ سکتا۔ وہ کسی کی مبالغہ آمیز تعریف نہیں کرتا کیونکہ اس کی نگاہ میں بہت ہی کم چیزوں کو عظیم سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ دوستوں کے سوا کسی کی تالیف قلب کا قائل نہیں ہوتا کیونکہ صرف غلام ہی دوسروں کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ کینہ پرور نہیں ہوتا اور قصور معاف کر دیتا ہے۔ وہ باتونی نہیں ہوتا اور لوگوں کی مدح و ذم سے بے نیاز ہوتا ہے۔ وہ دشمنوں کی غیبت نہیں کرتا بلکہ انہیں سب کچھ منہ پر کہہ دیتا ہے۔ اس کی چال باوقار، آواز گہری اور گفتگو نپی تلی ہوتی ہے۔ وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا کیونکہ کسی شے کو وقیع نہیں سمجھتا۔ وہ دوڑ دھوپ اور تگ و دو سے گریز کرتا ہے، کیونکہ وہ کسی بات کو چنداں اہمیت نہیں دیتا۔ چیخ چیخ کر باتیں کرنا اور جلد جلد قدم اٹھانا اندرونی خلفشار کی علامتیں ہیں۔ وہ حوادث زمانہ کو تحمل اور وقار سے برداشت کرتا ہے۔ وہ خود اپنا بہترین دوست ہوتا ہے اور گوشہ تنہائی کو پسند کرتا ہے جبکہ مرد ناکارہ خود اپنا بدترین دشمن ہے اور تنہائی سے خوف کھاتا ہے'۔

فلسفۂ ارسطو کے اہم پہلوؤں کی تلخیص درج ذیل ہے:

1۔ ارسطو اپنے استاد افلاطون کی طرح مثالیت پسند ہے کیونکہ وہ بھی امثال کو ازلی و ابدی سمجھتا ہے۔

2۔ ارسطو کے خیال میں امثال مادی اشیاء سے علیحدہ یا ماوراء نہیں ہیں بلکہ خود ان کے بطون میں موجود ہیں۔

3۔ نظام کائنات غائی اور مقصدی ہے۔ ہر شے اپنی غایت کی طرف حرکت کر رہی ہے۔

4۔ افلاطون عالم حواس کو غیر حقیقی کہتا تھا اور اسے عالم ظواہر سمجھتا تھا۔ ارسطو عالم حواس یا عالم مادی کو حقیقی عالم مانتا ہے۔

5۔ ہر شے مادے اور ہیئت یا فارم پر مشتمل ہے۔ مادے اور ہیئت کا تعلق عضویاتی ہے یعنی وہ ایک دوسرے کے بغیر موجود نہیں ہو سکتے۔

6۔ زمان غیر حقیقی ہے۔ کائنات ازل سے موجود ہے اور ابد تک رہے گی۔

7۔ ارسطو نسخ ارواح اور بقائے روح کا منکر ہے۔ اس کے خیال میں جسم کی موت کے ساتھ روح بھی فنا ہو جاتی ہے۔

8۔ خدا کائنات کا خالق نہیں، نہ وہ فرد یا شخصیت ہے۔ وہ غیر مادی ہئیت ہے، مقناطیسی کشش ہے جس کی طرف کائنات کھنچی چلی جا رہی ہے۔

9۔ انسان کی تمام تگ و دو حصول مسرت کے لیے ہے جو صرف نیکی اور فکر و تدبر سے میسر آ سکتی ہے۔

10۔ فرد کے مفاد پر جماعت کا مفاد مقدم ہے۔ فرد جماعت کے لیے ہے۔ آدمی انسان کہلانے کا مستحق جبھی ہو سکتا ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ وابستہ ہو، کسی ریاست کا شہری ہو۔

11۔ آرٹ نقالی ہے۔ فن کار کسی شے کی مثل یا ہئیت یا دوامی پہلو کو اسلوب کی گرفت میں لا کر عظیم آرٹ کی تخلیق کرتا ہے۔

12۔ کردار کی پختگی کے بغیر علم بے کار ہے۔ اچھی عادتوں کے راسخ کرنے سے کردار محکم ہوتا ہے۔

جیسا کہ مادیت پسندی کے ضمن میں ذکر ہو چکا ہے، ارسطو کی وفات کے بعد فلسفۂ یونان تنزل پذیر ہو گیا۔ رومۃ الکبریٰ کے عہد سطوت میں بھی افلاطون اور ارسطو کی درس گاہوں میں تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رہا، لیکن جودت فکر کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ قدماء کی کتابوں پر حواشی لکھنا طلبہ کا محبوب مشغلہ قرار پایا۔ سکندریہ میں فلاطینوس نے افلاطون کے فلسفے کے عقلیاتی پہلو سے صرفِ نظر کر کے اس کے اشراق اور باطنیت کی تجدید کی اور نو اشراقیت کی بنیاد رکھی۔ رومی شہنشاہوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا تو ایتھنز کی درس گاہیں بند کر دی گئیں اور فلاسفہ کو جلاوطن کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں؛ فلسفہ نو فلاطونیت جس نے یہودی، مسیحی اور مسلم نظریات بدل ڈالے (I)

وحشی اقوام نے سلطنت رومہ کا خاتمہ کیا تو یورپ میں تاریک صدیوں کا آغاز ہوا۔ یورپ کے اس عہد جاہلیت میں مسلمانوں نے یونانی فلاسفہ کی کچھ کتابیں عربی میں منتقل کیں اور فلسفۂ یونان کا احیاء کیا۔ ابنِ رشد ارسطو کا بڑا شیدائی تھا۔ اس نے ارسطو کی کتابوں پر سیر حاصل حواشی لکھے جن کے ترجمے ابنِ سینا کی کتابوں کے ساتھ مغرب میں شائع ہو گئے اور اہل مغرب کے فکر و نظر میں صدیوں کے جمود کے بعد از سر نو ہلچل مچ گئی۔

مذہبی پیشواؤں نے ارسطو اور افلاطون کے افکار سے اپنے عقائد کی توثیق کا کام لینا شروع کیا۔ افلاطون خاص طور پر عیسائیوں میں بڑا مقبول ہوا۔ آگسٹائن نے اسے بغیر صلیب کا مسیحا کہا ہے۔ اس کا یہ نظریہ عیسائی مذہب کے عین مطابق تھا کہ عالم ماوراء سے بالاتر ایک حقیقی عالم بھی ہے۔ مزید براں افلاطون کے حیات بعد ممات، جزا و سزا اور بہشت و دوزخ کے افکار بھی عیسائی مذہب کے موافق تھے۔

یہ حالات تھے جب مغرب میں احیاء العلوم کی تحریک برپا ہوئی اور سائنس اور فلسفہ دونوں مذہب اور باطنیت کے تصرف سے آزاد ہو گئے۔ کوپرنیکس، گلیلیو، کپلر اور نیوٹن نے کائنات کے متعلق انسان کا نقطۂ نظر یکسر بدل دیا۔ فلکیات اور طبیعیات کے نئے نظریات کی روشنی میں فلسفے کو نئے سرے سے مرتب کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ فرض بیکن، ہابس اور ڈیکارٹ نے انجام دیا۔ جیسا کہ مادیت پسندی کے ضمن میں ذکر آ چکا ہے۔

*

منبع:

سید علی عباس جلالپوری، 'روایاتِ فلسفہ'، باب: مثالیت پسندی، خرد افروز، جہلم۔

سید علی عباس جلالپوری گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کے استاد تھے۔ انہوں نے فلسفہ، مذہب اور تاریخ سے متعلق 14 کتب تحریر کی ہیں جنہیں علمی حلقے فلسفے میں سنجیدہ کام قرار دیتے ہیں۔ علی عباس جلالپوری کو پاکستان کا ول ڈیورانٹ بھی کہا جاتا ہے۔