وزیراعظم عمران خان کاکہنا ہے کہ آج نہیں کئی دفعہ پہلے بھی مجھے پیسوں کے عوض سینیٹ کی سیٹ بیچنےکی آفرہوئی، مجھ سے براہ راست اور ان ڈائریکٹ سینیٹ نشست بیچنے کیلئے رابطے کیے گئے۔
کلرسیداں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ویڈیو گزشتہ روز پہلی بار دیکھی، اگر یہ میرے پاس پہلے ہوتی تو کیسز میں عدالت میں پیش کرتا، ویڈیو کی ٹائمنگ پر نہیں، ووٹ بکنےپر سوال ہونا چاہئے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن نے اوپن بیلٹ پر میری بات نہ مانی تو روئیں گے، سیکرٹ ووٹنگ کےتحت حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں، ہمارے اراکین ہمارے ساتھ ہیں، حکومت کے دوران کوئی چھوڑ کر نہیں جاتا.
عمران خان نے کہا کہ اب معاملہ 40 کروڑ سے نکل کر 80 کروڑ کی آفر تک پہنچ چکا ہے، بلوچستان میں سینیٹ کے ایک ووٹ کی قیمت 50 سے 70 کروڑ لگ رہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی چارٹر آف ڈیموکریسی میں اوپن بیلٹ کا معاہدہ کرچکی ہیں، میں مسلم لیگ نون کے اوپن بیلٹ کے مطالبے کی تائید بھی کرچکا ہوں۔
عمران خان نے کہا کہ اصل ایشو یہ ہے کہ کیا اس موجودہ سسٹم کے تحت الیکشن ہونا چاہیے یا نہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ووٹوں کی خرید و فروخت میں سب سے زیادہ مال مولانافضل الرحمٰن نے بنایا ہے، وہ سب سے بڑے سوداگر ہیں