Get Alerts

فسطائیت کا ایک سال

مقتدرہ نے جو کالک چہرے پر ایک سال قبل ملی تھی ان کا خیال تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کالک دھل جائے گی مگر یہ انکی خام خیالی ثابت ہوئی ایک سال بعد وہ چہرے کی سیاہی مزید نمایاں ہو چکی ہے جس نےمقتدرہ کا چہرہ خاصا ڈراونا کر دیا ہے کبھی تو تنہا بیٹھ کر اپنا مکررو چہرہ آئینے میں دیکھتے ہوں گے تو شرم سے مر جاتے ہوں گے

فسطائیت کا ایک سال

8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتحابات کو ایک سال ہو گیا یہ پاکستان کی تاریخ کے متنازعہ ترین الیکشن تھے ، مقتدرہ نے جو کالک چہرے پر ایک سال قبل ملی تھی ان کا خیال تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کالک دھل جائے گی مگر یہ انکی خام خیالی ثابت ہوئی ایک سال بعد وہ چہرے کی سیاہی مزید نمایاں ہو چکی ہے جس نےمقتدرہ کا چہرہ خاصا ڈراونا کر دیا ۔کبھی تو  تنہا بیٹھ کر اپنا مکررو چہرہ آئینے میں دیکھتے ہوں گے تو شرم سے مر جاتے ہوں گے ، گذشتہ سال ہونے والے الیکشن دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا باعث بنے تھے یہ قومی تاریخ کے واحد انتخابات تھے جو منعقد ہونے  سے پہلے ہی  اپنی شفافیت کھو چکے تھے، عام طور پر الیکشن ہونے کے بعد دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں جو ہمارا قومی وطیرہ ہے مگر یہ منعقد ہونیوالے  واحد الیکشن تھا جو پہلے ہی سیاسی آلودگی کا شکار ہو  گیا جب مقتدرہ کے اشارہ پر اس وقت کے قاضی القضا فائز عیسیٰ اور چیف الیکشن  کمشنر سکندر سلطان راجہ نے قومی تاریخ میں پہلی بار ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان ہی چھین لیا گیا ۔

عمران خان کو پابند سلاسل کر دیا گیا تحریک انصاف کے امیدواروں سے کاغذات نامذدگی  چھیننے سے لے کر گرفتاروں تک کیا کچھ نہیں کیا گیا مگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور اس وقت کے چیف جسٹس  فائز عیسیٰ  کے کانوں پر جوں تک نہ  رینگی  پھر وقت نے دیکھا کیسے ، تحریک انصاف کے آزاد امید وار جن کو  عجیب  وغریب انتخابی نشان الاٹ ہوئے تھے وہ مقتدرہ کی  پسندیدہ جماعتوں مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو ہر جگہ سے شکست فاش دیتے گئے۔ کام ادھر ہی ختم نہیں ہوا الیکشن ٹربیونل کو بھی ایک سال سے فعال نہیں ہونے دیا گیا کہیں فارم 47 کا پول نہ کھول جائے ، جب  ایک غیر سرکاری تنظیم جو الیکشن کی مانیٹرنگ کرتی ہے اسکی پریس ریلیز کے مطابق غیر سرکاری تنظیم پتن کی 8 فروری 2024 کے عام انتخابات پر پریس ریلیز۔۔۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر شائع شدہ انتخابی نتائج برائے جنرل الیکشن 2024 کا پتن نے آڈٹ کیا جس میں انتہائی تشویش ناک  معاملات  سامنے آئے۔ الیکشن کمیشن ستمبر 2024 تک اپنی ویب سائٹ پر انتخابی نتائج کے فارم تبدیل کرتا رہا۔ الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ 2017 اورا لیکشن رولز 2017 میں دی گئی زیادہ تر لازمی ڈیڈلائنز پوری کرنے میں ناکام رہا۔ خاص طور پر وہ رولز جو انتخابی نتائج کے اعلان کے اوقات اور تاریخوں کے بارے میں واضح ہدایات دیتے ہیں۔

ماضی کے برعکس الیکشن کمیشن نے انتخابات کے ایک سال بعد ووٹ ڈالنے والے مرد اور خواتین ووٹرز کے الگ الگ ٹرن آؤٹ کا اعلان نہیں کیا۔ یا تو یہ الیکشن کمیشن کی نااہلی کا نتیجہ ہے یا کمیشن نے دھاندلی چھپانے کی کوشش کی۔ یا دونوں۔ لاہور کے متعدد قومی حلقوں کے سینکڑوں پولنگ اسٹیشنز پر رائے دہندگان کا ٹرن آؤٹ 80 فیصد سے زیادہ تھا  کچھ میں 100 فیصد سے زیادہ بھی تھا۔ جو ناممکن ہے لیکن ان کے متعلقہ صوبائی حلقوں کے مشترکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ اوسطاً 40 فیصد تھا۔ یہ رجحان پنجاب اور کراچی میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ 

پتن کے مطابق جنرل الیکشن2024 میں اول ٹرن آؤٹ مختلف تنظیموں کے مختلف اندازوں سے کہیں کم ہونے کا امکان ہے۔ کیونکہ قومی اور صوبائی حلقوں کے ہزاروں مشترکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ کا فرق 40 فیصد سے زیادہ پایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بینچ کے احکامات کے باوجود پارلیمینٹ اور 2 صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور غیر مسلموں کیلئے5 درجن سے زیادہ نشستیں خالی پڑی ہیں، اس نے وفاقی اکائیوں کے درمیان آئینی مساوات کو مسخ کر دیا ہے۔ 

قومی اسمبلی کے 70 حلقوں میں 421 پولنگ اسٹیشنوں پر صفر یا 50 سے کم ووٹ پڑے لیکن الیکشن کمیشن نے اس معاملہ کی تحقیقات کرنے یا دوبارہ پولنگ کرانے کا اختیار استعمال نہیں کیا۔

قومی اسمبلی کے 70 حلقوں کے 421 پولنگ اسٹیشنوں پر صفر یا 50 سے کم ووٹ پڑے لیکن الیکشن کمیشن نے اس معاملہ کی تحقیقات کرانے یا ان پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرانے کے اپنے اختیار کو استعمال نہیں کیا۔ 

الیکشن کمیشن، نگران حکومت اور موجودہ مخلوط حکومت نے موجودہ حکمران اتحاد کی جیت یقینی بنانے کیلئے انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع استعمال کئے۔ 

ووٹوں میں دھاندلی اور ہارنے والوں کی جیت(موجودہ حکمران اتحاد) کے درمیان کئی معاملات میں براہ راست تعلق نظر آتا ہے۔ انتخابات سے پہلے اور ووٹنگ کے دن کے ذرائع اور ووٹوں میں دھاندلی کا مقصد”مثبت“ نتائج حاصل کرنا تھا اور انتخابات کے بعد ہونے والی دھاندلی کا مطلب یہ ہے کہ ”ارباب  اختیار  اور مملکت کے سارے وسائل“ چوری شدہ عوامی مینڈیٹ کو بچانے میں مصروف ہیں۔

مثلاً  پیکا کا نفاذ اور 26ویں آئینی ترمیم وغیرہ ان انتخابات کو نہ صرف سیاسی، سماجی اور صحافتی سطح پر دھاندلی زدہ قرار دیا گیا بلکہ ادبی سطح پر ڈاکٹر غافر شہزاد کے ناول  سے  بھی محرک بحث بنایا گیا ۔ایک بیورو کریٹ لیاقت چھٹہ نے جس طرح اس الیکشن کا پول کھولا تھا غافر شہزاد اپنے ناول میں اس کردار کو فکشن میں  لے گئے اور ادبی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ایک بہترین تحقیقی  کام کر  گئے ، بلاشبہ غافر شہزاد ادبی تاریخ رقم کرچکے ہیں کہ کیسے طاقتور حلقے طاقت کے اصل مرکز عوام کو انکی خواہشات سمیت اپنے قدموں تلے کچل دیتے ہیں ۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔