Get Alerts

فلسفہ، مذہب اور حکمت: اقبال کی نظر میں

"ہم جس کائنات میں بستے ہیں، اس کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ کیا اس کے پسِ پردہ کوئی مستقل اصول کارفرما ہیں؟ اس وسیع و عریض کائنات میں انسان کا مقام کیا ہے؟ وہ کون سا طرزِ عمل اپنائے جو اس کے مقام کے شایانِ شان ہو؟"اقبال کے مطابق، فلسفے کی روح آزاد فکر ہے، وہ ہر حکم اور ہر نظریے پر سوال اٹھاتا ہے، فلسفہ انسانی فکر میں بغیر تنقید تسلیم کیے گئے مفروضات کو بے نقاب کرتا ہے، آخرکار، اس کا سفر یا تو انکار پر منتج ہوتا ہے یا اس حقیقت کے اعتراف پر کہ ”عقلِ خالص کو حقیقتِ مطلقہ تک رسائی حاصل نہیں“ مذہب کی اصل بنیاد ایمان ہے، جو محض ایک احساس نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے

فلسفہ، مذہب اور حکمت: اقبال کی نظر میں

تحریر:( اکرم الوری)

زندگی ایک سربستہ راز ہے، جسے سمجھنے کے لیے ہر صاحبِ فکر کچھ بنیادی سوالات پر غور کرتا ہے۔ ارفع ِزندگی کیا ہے؟ اعلیٰ علم اور برتر دانش کی حقیقت کیا ہے؟ سیرتِ کاملہ کیسی ہوتی ہے؟ ثقافت کی معراج کیا ہے؟ لیکن محض یہ جاننا کافی نہیں کہ یہ سب کیا ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان تک رسائی کیسے ممکن ہے؟ فلسفہ، مذہب، ادبِ عالیہ اور سائنس کا مطالعہ ہمیں انہی گتھیوں کو سلجھانے میں مدد دیتا ہے۔

علامہ اقبال نے مذہب، فلسفہ اور اعلیٰ شاعری میں چند بنیادی نکات کی نشاندہی کی ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں:

"ہم جس کائنات میں بستے ہیں، اس کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ کیا اس کے پسِ پردہ کوئی مستقل اصول کارفرما ہیں؟ اس وسیع و عریض کائنات میں انسان کا مقام کیا ہے؟ وہ کون سا طرزِ عمل اپنائے جو اس کے مقام کے شایانِ شان ہو؟"

اقبال کے مطابق، فلسفے کی روح آزاد فکر ہے۔ وہ ہر حکم اور ہر نظریے پر سوال اٹھاتا ہے۔ فلسفہ انسانی فکر میں بغیر تنقید تسلیم کیے گئے مفروضات کو بے نقاب کرتا ہے۔ آخرکار، اس کا سفر یا تو انکار پر منتج ہوتا ہے یا اس حقیقت کے اعتراف پر کہ ”عقلِ خالص کو حقیقتِ مطلقہ تک رسائی حاصل نہیں۔“ مذہب کی اصل بنیاد ایمان ہے، جو محض ایک احساس نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے۔ اقبال مذہب کے جوہر کو یوں بیان کرتے ہیں:

”مذہب انسانی شعور کو نکھارنے کی ایک سچی کوشش ہے۔ مذہبی زندگی میں یہ تڑپ اور آرزو شامل ہوتی ہے کہ انسان حقیقتِ مطلقہ سے براہِ راست فیض حاصل کرے۔“

یہ حقیقت ہے کہ زندگی صرف ایک حسی تجربہ نہیں بلکہ روحانی تجربہ بھی ہے، زندگی ایک اخلاقی امتحان بھی ہے اور جمالیاتی واردات بھی۔ نبی، صوفی، فلسفی، شاعر، مصور سب زندگی کے مختلف زاویوں سے تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ اقبال کی نظر میں مذہب کا اعلیٰ تصور وہی ہے جو زندگی کی وسعتوں کا متلاشی ہے، اور یہی تلاش ایک تجربہ ہے۔

زندگی کے راز کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر جھانکے، اپنے باطن میں اُترے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اپنے من میں ڈوبا کیسے جائے؟ علامہ اقبال ہمیں حیات کے مشاہدے میں شریک کرتے ہیں۔ وہ کائنات کو کبھی ایک زاویۂ نگاہ سے دیکھتے ہیں، کبھی دوسرے سے۔ کبھی دنیا ان کی نظر میں حیرت خانۂ امروز و فردا بن جاتی ہے، اور کبھی وہ حیران ہوتے ہیں کہ: ”یہ جہاں عجب جہاں ہے، نہ قفس نہ آشیاں ہے۔“

کبھی وہ جینے مرنے کی پابندیوں سے الجھتے ہیں، لیکن آخرکار وہ اس پریشان نظری کا حل تلاش کر لیتے ہیں، اور وہ حل ہے مقامِ بندگی کا حصول۔جب انہوں نے زندگی کے راز کو پا لیا، تو بے ساختہ پکار اٹھے۔”متاعِ بے بہا ہے سوز و سازِ آرزومندی/مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی“

اور جب اس سے بھی آگے بڑھے، تو فرمایا:

”تب و تابِ ہستی ما ز نیاز مندی ما

تو خدائے بے نیازی، نرسی بسوز و سازم“

خودی کی شان اس کی بلندی میں ہے، جو ہر مقام سے آگے دیکھتی ہے، ہر منزل کے بعد ایک نئی منزل تلاش کرتی ہے۔ خودی کی یہ بلندی مقامِ بندگی سے حاصل ہوتی ہے، یعنی عبد و معبود کے تعلق کی پختگی سے۔ اثباتِ ذات، اثباتِ خودی کے بغیر ممکن نہیں، اور اثباتِ خودی ذوقِ بندگی کے بغیر ناممکن ہے، یہی وہ طاقت ہے جو طائرِ لاہوتی کو پرواز عطا کرتی ہے۔

پیغمبرانہ حکمت کی روح تمام ادیان میں مشترک ہے، اپنشدوں میں لکھا ہے:

”انسان خود کو قید میں ڈال لیتا ہے، جیسے پرندہ اپنے آشیاں کے سبب پابند ہو جاتا ہے۔ مگر انسانی روح جہاں بھی پہنچ جائے، وہ اس سے آگے جانا چاہتی ہے۔ اگر وہ آسمان پر جا پہنچے، تب بھی اس سے آگے بڑھنے کی خواہش رکھتی ہے۔“

”اپنے معبود سے انسان کی دعا یہی ہونی چاہیے کہ وہ اسے غیر حقیقی سے حقیقی کی طرف، تاریکی سے روشنی کی طرف، اور موت سے ابدی زندگی کی طرف لے جائے۔“

حیات دراصل ذوقِ سفر کے سوا کچھ نہیں، اقبال اسی لیے کہتے ہیں:

”شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی“

کائنات میں مقامِ بندگی سے بلند کوئی اور مقام نہیں، نہ ہی انسانی ذہن اس کی وسعتوں کا اندازہ کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی گہرائیوں کو ماپ سکتا ہے۔ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:

”غوّاصِ محبت کا اللہ نگہبان ہو

ہر قطرۂ دریا میں دریا کی ہے گہرائی“

حصولِ کمال کا بنیادی جذبہ مقامِ بندگی کی آرزو ہے، جو حبِ الٰہی، حبِ نبی، حبِ خلق، حبِ دین اور حبِ آخرت سے پیدا ہوتی ہے۔ پیغمبرانہ حکمت اور تصوف کی اصل یہی تعلیمات ہیں۔ حصولِ کمال کا عملی نمونہ سیرتِ رسول ﷺ ہے،حصولِ کمال کا راستہ قرآنِ حکیم میں موجود ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پیر، پنڈت، اور پادری کے خود ساختہ فلسفے نے انسان کو پیغمبرانہ حکمت اور حقیقی تصوف سے دور کر دیا ہے۔

اقبال کے نزدیک عامیانہ تصوف محض ایک ذہنی رجحان ہے، جو زندگی کی نفی اور حقیقت سے فرار پر مشتمل ہے۔ اقبال اسی لیے ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں:”بیا بَ مجلسِ اقبال یک دو ساغر کش“

زندگی کتنی حسین ہے، یہ وہی سمجھ سکتا ہے جو حلقۂ یارانِ نکتہ داں میں شامل ہو۔”خدا سے دعا ہے کہ ہمیں وہ نگاہِ شوق عطا ہو، جو مقامِ بندگی کے شایانِ شان ہو۔“ آمین