ہمیں اپنے مروجہ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمارے مخصوص ماحول میں، کم شرحوں کے ساتھ ایک سادہ، منصفانہ اور وسیع البنیاد ٹیکس نظام ، کامیابی سے کام کرے گا، بشرطیکہ اس میں نفاذ کی نقائص سے پاک (foolproof) صلاحیت ہو۔ افراد کی ہر قسم کی آمدنی پر% 10 انکم ٹیکس ہونا چاہیے (50 ملین روپے سے زیادہ خالص دولت پر متبادل%2.5 ٹیکس کے ساتھ)، کمپنیوں اور دیگر کیٹگریز پر شرح ٹیکس % 20۔ ہمیں تمام اشیاء اور خدمات پر% 8 سیلز ٹیکس لگانا چاہیے (برآمد کنندگان کے لیے %0 ٹیکس)۔ اس نظام سے صرف وفاق کو دو ٹیکسوں سے 30 ٹریلین روپے کا ٹیکس ملے گا۔ (18 ٹریلین روپے انکم ٹیکس، 12 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس)! تمام اشیاء پر 5% کسٹم ڈیوٹی لگا کر ہم مزیدایک ٹریلین روپے جمع کر سکتے ہیں۔ سگریٹ اور دوسری مصر صحت اشیاء وغیرہ پر ایکسائز ڈیوٹی سے اضافی 500 بلین روپے— 2025: ترقی اور خوشحالی کے لیے ٹیکس پالیسی، فرائیڈے ٹائمز، دسمبر 28، 2024
ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کر کے، رضاکارانہ ٹیکس کی تعمیل کو بہتر بنا کر، ٹیکس کی شرحوں کو کم کر کے، تمام ودہولڈنگ پروویژنز (سوائے تنخواہ، ڈیویڈنڈ، سود اور غیر رہائشیوں کو ادائیگی کے) واپس لے کر وفاقی سطح پر 31 کھرب روپے اور صوبائی سطح پر 4 کھرب روپے کی ٹیکس وصولی ممکن ہے ۔ اس سطح کو حاصل کرنے کے لیے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ٹیکس انتظامیہ میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات نافذ کر کے وفاقی (federalized) بنانے، اور اشیاء و خدمات پر ہم آہنگ و یکجا ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) 8 فیصد کی شرح پر لگانے کی ضرورت ہے۔
ٹیکسز کے نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی تبدیلوں کے نتیجے میں، اگلے دس سالوں میں پائیدار شرح نمو پانچ فیصد سے زیادہ کی بلند سطح پر حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔ ٹیکس کے نظام کو آسان بنائے بغیر مندرجہ بالا اہداف کا حصول ممکن نہیں ہے— [ایف بی آر، ٹیکس پوٹینشل اینڈ انفورسمنٹ—I، بزنس ریکارڈر، 5 مارچ 2021 اور ایف بی آر، ٹیکس پوٹینشل اینڈ انفورسمنٹ—II، بزنس ریکارڈر، 7 مارچ 2021]۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) اور صوبائی ٹیکس ایجنسیوں کی تنظیم نو کا نظریہ، نیڈ فار نیشنل ٹیکس ایجنسی، بزنس ریکارڈر، 1 نومبر 2013 میں پیش کیا گیا، بعد میں مختلف مضامین میں اس کی وضاحت کی گئی، نیشنل ٹیکس اتھارٹی کی ضرورت، بزنس ریکارڈر، اکتوبر 20، 2017، کیس برائے نیشنل ٹیکس اتھارٹی، 3 نومبر 2017، بزنس ریکارڈر، 'نیشنل ٹیکس اتھارٹی'—II، بزنس ریکارڈر، 2 دسمبر 2018، کیس برائے آل پاکستان یونیفائیڈ ٹیکس سروس: پی ٹی آئی اور جدید ٹیکس اصلاحات، بزنس ریکارڈر، 31 اگست 2018 اور معاشی ترقی کے لیے موثر ٹیکس انتظامیہ کی ضرورت ہے، فرائیڈے ٹائمز، مئی 18، 2024۔
وفاقی ٹیکس ایجنسی کا مکمل مسودہ، ٹوورڈز براڈ، فلیٹ، کم شرح، اور پیش گوئی کے قابل ٹیکسز (تیسرا ایڈیشن، نومبر 2024، پرائم انسٹی ٹیوٹ، اسلام آباد) اور پاکستان میں ٹیکس اصلاحات: تاریخی اور تنقیدی جائزہ (PIDE، اسلام آباد) میں دستیاب ہے۔
اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ ایف بی آر یا ٹیکس وصول کرنے والی کسی بھی دوسری ایجنسی کو قلیل مدتی اصلاحاتی اقدام کے طور پر ایک خود مختار مجاز بورڈ کے ذریعے چلانے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ ان سب کو ایک ہی قومی ٹیکس اتھارٹی میں ضم کر دیا جائے۔ ماضی میں ایف بی آر کے افسران نے اس کے لئے پاکستان ریونیو بورڈ (PRB) نام تجویز کیا تھا ۔ یہ ادارہ، خواہ اس کا کوئی بھی نام ہو، نہ صرف وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ٹیکسوں کی وصولی بلکہ مختلف سماجی اور اقتصادی فوائد اور ترغیبی پروگراموں کے انتظام کے لیے بھی ذمہ دار ہونا چاہیے، ورنہ رضاکارانہ ٹیکس کی تعمیل محض ایک خواب ہی رہے گی.
لوگوں کو مفت تعلیم، معیاری صحت کی دیکھ بھال، مناسب رہائش/ٹرانسپورٹ کے علاوہ سماجی تحفظ، جیسے یونیورسل پنشن، معذوری الاؤنس، بڑھاپے کے فوائد، انکم سپورٹ، چائلڈ سپورٹ وغیرہ ، واجب الادا ٹیکسز کے بدلے میں ملنا چاہیے، جیسا کہ نئے ٹیکس ماڈل کی ضرورت ہے، بزنس ریکارڈر، 26 فروری 2021 اور ٹیکسز اور سوشل جمہوریت، فرائیڈے ٹائمز، 12اکتوبر 2024 میں تجویز کیا گیا ہے۔
نیشنل ٹیکس ایجنسی (NTA) کو وفاقی (federalized)ٹیکس اتھارٹی کے طور پر، وفاق کے لیے تمام محصولات جمع کرنے کا کام سونپا جا سکتا ہے جن کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 142 کے مطابق وفاقی اور صوبائی پارلیمانوں کے ذریعے عائد کیا جاتا ہے۔
یہ وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ایک سے زیادہ محصولات جمع کرنے والی ایجنسیوں کے خوفناک سائز کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے، جو کہ نا اہلی اور بدعنوانی کی تصویر ہیں ،اور ایک کھڑکی (one window)کے نیچے کام کرنے کی بجائے، غیر ضروری تعمیل لاگت پیدا کرنے کی اصل وجہ ہیں۔ فی الحال، ٹیکس دہندگان کو متعدد ٹیکس ایجنسیوں، ایک سے زیادہ ٹیکس قوانین اور مختلف دائرہ اختیار رکھنے ادروں سے نمٹنا پڑتا ہے، جس سے ان کے کاروبار کرنے کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔
12 مارچ 2020 کو، وزارت خزانہ کی پریس ریلیز کے مطابق، نیشنل ٹیکس کونسل [NTC] کا قیام عمل میں آیا ،اور اس کے ٹرمز آف ریفرنس (TORs) کی منظوری دی گئی۔ ایک پریس رپورٹ کے مطابق، "جی ایس ٹی کی ہم آہنگی عالمی بینک کے US$750 سے US$900 ملین کے بجٹ سپورٹ قرض کا حصہ ہے"۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تجویز کے مطابق، مرکز اور صوبوں نے آخر کار این ٹی سی کے قیام پر اتفاق کیا ہے ،تاکہ ٹیکس سے متعلقہ تمام مسائل کو حل کیا جا سکے، خاص طور پر ملک بھر میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو ہم آہنگ کرنے کے لیے"۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہماری حکومتیں اس وقت تک کچھ نہیں کرتی جب تک کہ قرض دہندگان / عطیہ دہندگان انہیں مجبور نہ کریں۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ این ٹی سی میں ٹیکس سے متعلق مسائل آئین میں ترمیم کیے بغیر حل کیے جائیں گے اور اس میں وفاق اور صوبوں کی تکنیکی سطح پر نمائندگی ہو گی۔
این ٹی سی کی ایک ایگزیکٹو کمیٹی ہے ،جس میں وفاقی سیکرٹری خزانہ، ایف بی آر کے چیئرمین، صوبائی فنانس سیکرٹریز اور صوبائی ریونیو اتھارٹیز کے سربراہان، یعنی پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA)، سندھ ریونیو بورڈ (SRB)، خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) شامل ہیں۔
این ٹی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی، مختلف حلقوں کے مطالبے اور مذکورہ بالا مختلف مضامین اور کتابوں میں لکھنے کے باوجود، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کی مانیٹرنگ کمیٹی کو نیشنل بورڈ آف ریونیو (NRB) کے قیام کی سفارش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2007 میں ترمیم کرکے اور آئین کے آرٹیکل 144 کے تحت تمام صوبائی اسمبلیوں سے قراردادیں پاس کرکے کیا جا سکتا تھا۔ اس کے لئے دستور پاکستان میں کسی تبدیلی کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔
این ٹی سی کو سویڈش ریونیو اتھارٹی [Skatteverket] اور کینیڈین ریونیو اتھارٹی (CRA) کے ماڈلز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جو نہ صرف حکومت کی تمام سطحوں پر ٹیکس جمع کرتے ہیں بلکہ سماجی تحفظ، فوڈ اسٹامپ، یونیورسل پنشن اور انکم سپورٹ وغیرہ جیسے فوائد کو بھی بڑھاتے ہیں،جو کہ اس وقت ہمارے نظام محصولات میں مکمل طور پر غیر موجود ہیں۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مکمل روڈ میپ مندرج ذیل میں موجود ہے:
Federal Planning & The Need For A National Tax Agency, Friday Times, October 21, 2023,
Time up for fiscal integration—I, Business Recorder, December 21, 2018
Time up for fiscal integration—II, Business Recorder, December 23, 2018
Overcoming fragmented tax system, Business Recorder, October 19, 2018
Doing business under scattered taxation, Business Recorder, September 7, 2018
Case for All-Pakistan Unified Tax Service: PTI & innovative tax reforms, Business Recorder August 31, 2018
آئندہ وفاقی بجٹ 2025 میں، پالیسی سازوں اور مقننہ کو قومی سطح پر ٹیکس کے حقیقی امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ٹیکس کے نظام کی تشکیل نو کرنے کی ضرورت ہے، اور ساتھ ہی شہریوں کو معیاری سماجی خدمات فراہم کرنے، فضول حکومتی اخراجات میں زبردست کمی، توانائی کے شعبے میں سرکلر قرضہ سے چھٹکارا حاصل کرنے، اور خسارے میں جانے والی ریاستی اداروں (ایس او ایز ) پر عوامی فنڈز کے مزید خون بہانے کو روکنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کا اصل مخمصہ فرسودہ، نوآبادیاتی طرز کے انتظامی اور عدالتی ڈھانچے، اخلاق باختہ اشرافیہ، طفیلی استخراجی ریاست کی طرف سے لالچ اور بدعنوانی کا فروغ ہیں ۔ ہماری طفیلی افسر شاہی ، چونکہ بدعنوانی کو ایک معمول کے طور پر قبول کرتی ہے، چونکہ خود بھی اس میں ملوث ہے ، اس لئے ہمارا نجی شعبہ بھی ترقی کا محرک (catalyst) نہیں اور نہ ہی اختراعات (innovations) کے لیے تیار ہے۔ ان حالات میں ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو اشرافیہ کی لالچ اور بدعنوانی کی روش ،اور rent seeking کے معاشی نظام کو ختم کرنے کے لیے، بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو اولین ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ مروجہ استحصالی نظام میں تمام شہریوں کی خوشحالی کے لیے منصفانہ تقسیم دولت، اور پائیدار بشمول ترقی (inclusive development)ممکن نہیں ہے۔