Get Alerts

مراد علی شاہ کی چھٹی؟ ناصر شاہ نئے وزیر اعلیٰ سندھ کی دوڑ میں سب سے آگے

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان کے پیچھے کھڑے ہیں تاکہ کوئی ان پر وار نہ کر سکے۔ لیکن ایک عرصے سے نہ آصف علی زرداری اور نہ ہی ان کی بہن فریال تالپور، جو سندھ کے انتظام اور پارٹی کی سیاست پر کنٹرول رکھتی ہیں، مراد علی شاہ سے خوش ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کہتے ہیں کہ اب مراد علی شاہ کو ہٹانے کے لئے سنجیدہ کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔

مراد علی شاہ کی چھٹی؟ ناصر شاہ نئے وزیر اعلیٰ سندھ کی دوڑ میں سب سے آگے

کس چیف کی بلی چڑھے گی اور کیوں؟

نیا کون ہوگا؟ نام کون کون سے گردش میں ہیں؟

فیصلہ ہوتے ہوتے اچانک کیوں بدل گیا؟

اندرونی طور پر افواہیں کیوں بڑھتی جا رہی ہیں؟

کیا سینیئر کھلاڑی جونیئر کی ضد کے سامنے ایک بار پھر سرنڈر کریں گے؟

یہ کہانی ہے مراد علی شاہ کی، جو اس وقت وزیراعلیٰ سندھ ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان کے پیچھے کھڑے ہیں تاکہ کوئی ان پر وار نہ کر سکے۔ لیکن ایک عرصے سے نہ آصف علی زرداری اور نہ ہی ان کی بہن فریال تالپور، جو سندھ کے انتظام اور پارٹی کی سیاست پر کنٹرول رکھتی ہیں، مراد علی شاہ سے خوش ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کہتے ہیں کہ اب مراد علی شاہ کو ہٹانے کے لئے سنجیدہ کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔

کچھ ماہ سے سندھ کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی باتیں زیرِ گردش تھیں، لیکن اچانک مراد علی شاہ کی تبدیلی کی باتیں اب اعلیٰ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ مراد علی شاہ پارٹی کے تین لیڈروں کے درمیان رسی پر چل رہے ہیں۔ جہاں سے جو پیغام آتا ہے، وہ پورا کرتے ہیں۔ لیکن مشکل تب کھڑی ہوتی ہے جب صوبے کے انتظامی عہدوں پر تقرری کے لئے دو مختلف لیڈروں کی طرف سے الگ الگ نام آ جائیں۔

چیف منسٹر ہونے کے باوجود، ماتحت بیوروکریسی میں کون کس کا مخبر ہے، وزیراعلیٰ اکثر بے خبر رہتے ہیں۔ پارٹی کے اندر جاسوسی کا نظام بہت مضبوط ہے۔ جس کی جاسوسی کرانی ہو، اس کے اپنے ہی لوگوں کو لالچ دے کر مخبری کروائی جاتی ہے تاکہ فرسٹ ہینڈ انفارمیشن مل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مراد علی شاہ نے لابنگ کر کے اپنے ایک قریبی عزیز کو سندھ کا چیف سیکریٹری لگوایا، تاکہ جو فائل وہاں پہنچے، انہیں اس کی خبر ہو جائے۔ لیکن اب اطلاع یہ ہے کہ چیف سیکریٹری اور وزیراعلیٰ کے درمیان وہ گرم جوشی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ چیف سیکریٹری خود پریشان ہیں کہ کس کی سنیں—’ادی‘ کی یا وزیراعلیٰ کی؟

سندھ میں رئیس راج یا ادی راج کوئی نئی بات نہیں۔ ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام اضلاع بانٹے ہوئے ہیں۔ لوکل باڈیز سے لے کر ریونیو، پولیس سے لے کر ایکسائز تک، ہر ڈپارٹمنٹ پر لازم ہے کہ وہ ماہانہ حصہ پہنچائے۔

کرپشن کا خوفناک بھوت پہلے ہی سندھ کی انتظامی اور سیاسی بنیادوں کو چاٹ رہا تھا۔ تعلیمی اداروں سے لے کر سندھ پبلک سروس کمیشن تک، ہائی ویز سے پبلک ہیلتھ تک، ٹریژری سے فاریسٹ تک، کوئی ایسا ادارہ نہیں جو حصہ نہ دیتا ہو۔ لیکن بھوک ایسی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔

پہلے اشرافیہ کے کالجز اور سکولوں میں ’آئس‘ فروخت ہوتی تھی، اب یہ سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں تک پہنچ گئی ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر چیخ رہے ہیں۔ والدین، نشئی اولاد کے جرائم سے تنگ آ کر قطع تعلق کر رہے ہیں، لیکن بیچنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ وجہ سیدھی ہے—ملوث لوگ بااثر ہیں۔

پہلے تعلیمی بورڈز میں منڈیاں لگتی تھیں کہ پیسے دو اور نمبر لے لو۔ رئیس راج کے دوران یہ عالم ہوا کہ بورڈز نے امتحانی نمبروں کی دوڑ لگا دی۔ کامیابی کی شرح کئی گنا بڑھ گئی۔ لیکن جب یہی نمبر ون طلبہ میڈیکل اور دیگر یونیورسٹیوں کے ٹیسٹ دینے پہنچے تو پاس نہ ہو سکے۔

سندھ پبلک سروس کمیشن نے کھلے عام لاکھوں روپے کے بدلے نتائج بیچنا شروع کر دیے۔ حالیہ مثال یہ ہے کہ جس امیدوار نے صرف 33 فیصد نمبر لیے، اسے ٹاپ پوزیشن پر کامیاب قرار دے دیا گیا۔ اس روش کے دو فائدے تھے: ایک تو نااہل لوگوں کو آگے لانا، دوسرا کھلم کھلا مال بٹورنا۔ اس طرح ایسی بیوروکریسی تیار کی گئی جو کام کے بجائے باقی سب کچھ جانتی ہو، حکم مانے اور انکار نہ کرے۔

لیکن جب پیٹ پھر بھی نہ بھرا تو اب نوجوانوں کے جِم خانوں میں نشے کا زہر انڈیلا جا رہا ہے تاکہ انہیں سماج سے کاٹ دیا جائے۔ زیریں سندھ میں گٹکا اور دیگر مضرِ صحت اشیا پولیس سے لے کر پارٹی رہنماؤں تک کے اخراجات پورے کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہیں۔ نوجوان تیزی سے منہ کے کینسر میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف ملازمتوں کی خرید و فروخت اور رشوت کے رواج نے ڈپریشن بڑھا دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نشے کی طرف جھکاؤ اور خودکشی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

چیف منسٹر ہو یا چیف سیکریٹری، کیا ان کو تبدیل کرنے سے سندھ کے نظام پر کوئی فرق پڑے گا؟ اس پر آگے بات کرتے ہیں، لیکن اس وقت اطلاعات یہ ہیں کہ سید ناصر شاہ نئے وزیراعلیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں۔

اس وقت سندھ میں ناصر شاہ، شرجیل میمن اور کچھ دیگر لوگ صبح پارٹی قیادت کے ساتھ ہوتے ہیں اور شام کو ’’اوپر والوں‘‘ تک رسائی بھی بناتے ہیں۔ پہلے شرجیل میمن وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں شامل تھے، لیکن اب دانستہ طور پر خود کو اس دوڑ سے باہر کر دیا ہے۔ تاہم، سندھ انفارمیشن میں کرپشن کے قصے زبان زدِ عام ہیں۔

اب وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ میں ناصر شاہ سب سے آگے نکل چکے ہیں۔ انہوں نے لابنگ بھی مکمل کر لی ہے، لیکن بلاول بھٹو ماننے کو تیار نہیں۔ پارٹی قیادت سے واقف ذرائع بتاتے ہیں کہ جب بھی مراد علی شاہ کو ہٹانے کی کوشش ہوئی، چیئرمین صاحب ڈٹ گئے۔ اس وقت ان کے قریب ترین دو لوگ ہیں: ایک وزیراعلیٰ سندھ اور دوسرے میئر کراچی۔

"بڑے رئیس" نے ہر بار مراد علی شاہ کو ہٹانے کی کوشش کی، لیکن بلاول سامنے آ گئے۔ شرط رکھی کہ اگر شاہ صاحب کو ہٹانا ہے تو پھر میرے دوست محمد بخش مہر کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ یہ سن کر سب پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

موجودہ وزیر اعلیٰ سندھ اوپر والوں کی گڈ بُک میں ہیں، لیکن ناصر شاہ اس سے بھی آگے دوڑ رہے ہیں۔ ممکن ہے وہ زیادہ فیورٹ بن جائیں۔ جواز یہ دیا جا رہا ہے کہ مراد علی شاہ بہت عرصے سے اس عہدے پر ہیں، اب تبدیلی ضروری ہے۔ سندھ میں انتظامی بربادی اور عوام کی بڑھتی چیخیں شاید حکمرانوں کو پریشان کر رہی ہوں۔ وہ اوپر کی سطح پر تبدیلی کر کے عوام کو ایک نیا لالی پاپ دینا چاہتے ہیں کہ ہم سسٹم بہتر کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سسٹم کیسے بدلے گا جب اس کے پیچھے کھڑے لوگ نہ بدلیں یا خود کو بدلنے پر آمادہ نہ ہوں؟

کچھ عرصہ پہلے سعید غنی کے بھائی اور ٹاؤن ناظم فرحان غنی کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس خبر نے بہتوں کو حیران کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت جو اس وقت سندھ کی مالک ہے، انصاف سے لے کر انتظام تک سب ان کے ہاتھ میں ہے، ان کے اپنے ہی تھانے میں وزیر کے بھائی پر مقدمہ درج ہوا اور گرفتاری بھی ہوئی۔ لیکن مجبوری ایسی تھی کہ سب خاموش رہے۔ وجہ یہ تھی کہ فرحان نے جس کمپنی کے ملازم سے جھگڑا کیا، وہ ایک اور بڑی کمپنی کا ملازم تھا۔ اس کمپنی نے دراصل حکومتِ سندھ کو بتا دیا کہ تمہاری "اوقات" کیا ہے۔

سندھ سے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بیوروکریسی اور وزرا کی ایک بڑی تعداد نے اپنے بچوں کو بیرون ملک شہریت دلوا دی ہے۔ کئی اپنی فیملیز بھی شفٹ کر چکے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سعید غنی کے بھائی کے واقعے نے اس رائے کو مزید تقویت دی ہے۔

مراد علی شاہ کو کب اور کیسے ہٹایا جائے، اس پر سنجیدہ بات چیت جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پہلے چیف سیکریٹری کو بدلا جائے گا، پھر وزیراعلیٰ کی باری آئے گی۔ لاڑکانہ میں اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا لیکن اچانک مؤخر کرنا پڑا کیونکہ کراچی میں موجود صدر آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہو گئی اور سیلاب نے بھی شدت پکڑ لی۔

فی الحال سندھ میں دو "شاہوں" کا مقابلہ ہے، لیکن رعایا کا مقدر وہی رہے گا۔ عوام کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے اور نہ ہی کسی لالی پاپ کا شکار ہونا چاہیے، کیونکہ جو بھی نیا آئے گا، اسے سندھ کے خزانے سے اوپر والوں کو مزید دینا پڑے گا۔

مصنف اسلام آباد میں مقیم سینیئر سیاسی رپورٹر ہیں۔ ملکی سیاست پر ان کے مضامین و تجزیے مختلف ویب سائٹس اور اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔