Get Alerts

بہار کا الکیشن نہ مودی کا نہ راہول گاندھی کا

بی جے پی اور کانگریس دونوں ملک گیر جماعتیں ہیں، مگر وہ بہار میں خود حکومت بنانے کے قابل نہیں۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں بہار کی علاقائی سیاسی جماعتوں کی دوسرے درجے کی اتحادی ہیں۔

بہار کا الکیشن نہ مودی کا نہ راہول گاندھی کا

بہار الیکشن میں فتح یا ناکامی کی صورت میں بی جے پی کا وزیرِ اعلیٰ نہیں بنے گا۔ بی جے پی نتیش کمار کی جماعت کی اتحادی ہے۔ کامیابی کی صورت میں نتیش کمار وزیرِ اعلیٰ بنیں گے، اور ناکامی کی صورت میں لالو پرساد کا بیٹا تیجسوی پرساد وزیرِ اعلیٰ بنے گا، جو کانگریس کا اتحادی ہے۔

پاکستانی دوستوں سے گزارش ہے کہ مودی کے عشق میں باؤلے نہ ہوں۔ وہاں الیکشن کمیشن کو سکندر سلطان راجہ جیسی خدمات میسر نہیں، وہاں فارم 47 کی حکومت نہیں بن سکتی۔

بہار ہندوستان کی دوسری بڑی ریاست ہے۔ اتر پردیش 24 کروڑ آبادی کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ بہار کی آبادی 12 کروڑ سے زائد ہے۔ وہاں لوک سبھا کی 40 نشستیں ہیں اور ریاستی ایوان کی 243 نشستیں۔ بھارت میں لوک سبھا اور ریاستی ایوان کے حلقے بہت بڑے ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقے نسبتاً چھوٹے ہیں۔

مثال کے طور پر یوپی (اتر پردیش) کی آبادی 24 کروڑ ہے، وہاں لوک سبھا کی 80 نشستیں ہیں۔ پاکستانی پنجاب کی آبادی 11 کروڑ سے زائد ہے، وہاں قومی اسمبلی کی نشستیں صرف 140 ہیں۔ بہار ریاست کی آبادی پاکستانی پنجاب سے لگ بھگ ایک کروڑ زیادہ ہے، مگر بہار کے ریاستی ایوان کی نشستیں 243 ہیں، جبکہ پاکستانی پنجاب کے صوبائی ایوان کی 305 نشستیں ہیں جو براہِ راست منتخب اراکین کی ہیں۔ مخصوص نشستیں ملا کر کل تعداد 371 ہو جاتی ہے۔

ہمارے کچھ پاکستانی صحافی دوست پاکستانی پنجاب کے صوبائی ایوان کو ایشیا کا سب سے بڑا ایوان لکھتے ہیں، جو غلط ہے۔ یوپی (اتر پردیش) کا ریاستی ایوان 403 نشستوں پر مشتمل ہے۔ لوک سبھا کا ایوان 552 نشستوں کا ہے، جس میں 443 براہِ راست حلقے ہیں، جبکہ باقی 9 نشستوں پر اراکین کی نامزدگی بھارت کا صدر کرتا ہے۔ اس لیے پاکستانی پنجاب کو ایشیا کا سب سے بڑا ایوان کہنا درست نہیں۔

بہار کے الیکشن کے نتائج کا اعلان 14 نومبر کو ہوگا۔ دونوں اتحاد اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں ملک گیر جماعتیں ہیں، مگر وہ بہار میں خود حکومت بنانے کے قابل نہیں۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں بہار کی علاقائی سیاسی جماعتوں کی دوسرے درجے کی اتحادی ہیں۔ بی جے پی، بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی جنتا دل (یونائیٹڈ) کی اتحادی ہے۔ کامیابی کی صورت میں نتیش کمار وزیرِ اعلیٰ بنیں گے، جبکہ کانگریس، لالو پرساد کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی اتحادی ہے۔ کامیابی کی صورت میں لالو پرساد یادو کا بیٹا تیجسوی یادو وزیرِ اعلیٰ بنے گا۔

نتیش کمار کو بہار کی عورتوں کی بڑی حمایت حاصل ہے کیونکہ وہاں بالغ عورتوں کو بہار حکومت کی طرف سے دس ہزار روپے دیے جاتے ہیں، جبکہ تیجسوی یادو کو بہار کے نوجوانوں کی بڑی حمایت حاصل ہے۔

اس بار بہار الیکشن میں تاریخی ٹرن آؤٹ رہا ہے۔ دیکھتے ہیں، 14 نومبر کو کون فاتح ٹھہرتا ہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔