پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر، جسے آزاد جموں و کشمیر ( اے جے کے) کہا جاتا ہے، میں ایک بڑی حکومتی اور انتظامی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی عوام کے نزدیک موجودہ سیاسی ڈھانچے کی ساکھ کو بحال کر پائے گی؟
بظاہر ایسا دشوار دکھائی دیتا ہے، کیونکہ بحران کی جڑیں گہرے ساختی اور ادارہ جاتی مسائل سے وابستہ ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بطورِ ماہرِ معاشیات، میں دو بڑے ساختی چیلنجوں کی نشاندہی کرنا چاہوں گا جنہوں نے خطے کی معاشی و سماجی ترقی کو متاثر کیا ہے۔
سب سے پہلا معاملہ "علامتی ادارہ جاتی خودمختاری" کا ہے، اور دوسرا محنت کش اور متوسط طبقے — خصوصاً نوجوانوں — کو معاشی عمل میں شامل نہ ہونے کا ہے۔ یہ دونوں مسائل ایک دوسرے کو مسلسل تقویت دیتے ہیں اور ایک مستقل بحران پیدا کرتے ہیں۔
علامتی ادارہ جاتی خودمختاری
اے جے کے کی منفرد آئینی حیثیت جموں و کشمیر تنازعے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ پاکستان کا صوبہ نہیں ہے اور نہ ہی 1973 کے پاکستانی آئین میں باقاعدہ طور پر تسلیم شدہ علاقہ ہے۔ بظاہر یہ ایک خودمختار انتظامی خطہ ہے، جس کا اپنا صدر، وزیرِ اعظم اور اسمبلی ہے۔ عوام اس ادارہ جاتی خودمختاری کو اپنی شناخت اور کشمیریت کی علامت سمجھتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ انتظامی اور ادارہ جاتی خودمختاری محض علامتی ہے اور اسلام آباد کی وزارتِ امورِ کشمیر کے زیرِ اثر ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وفاقی دخل اندازی کا معاملہ پاکستان کے ہر صوبے میں کسی نہ کسی درجے میں پایا جاتا ہے، لیکن دیگر صوبوں کے مقابلے میں آزاد جموں و کشمیر کی صورتِ حال کو منفرد بنانے والے چند عوامل درج ذیل ہیں:
پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے برعکس، اے جے کے کے عوام کو وفاقی حکومت یا پارلیمان میں براہِ راست کوئی نمائندگی حاصل نہیں۔
یوں اے جے کے کے عوام ایک ایسے تجربے سے گزر رہے ہیں جو نہ مکمل ادارہ جاتی خودمختاری ہے اور نہ مکمل انضمام۔ یہ تضاد اور جدلیاتی عمل آزاد جموں و کشمیر کے عوام میں ایک منفرد سماجی و سیاسی شعور کو جنم دیتا ہے۔ یہ شعور اپنی علامتی خودمختاری پر فخر کے احساس کے ساتھ ساتھ ساختی اور ادارہ جاتی پابندیوں پر مایوسی کے گرد مرکوز ہے۔
اس تضاد نے عوامی ذہنیت کو نہ صرف سیاسی طور پر حساس بنایا ہے بلکہ ترقیاتی اور پالیسی مباحث میں بھی ایک خاص تنقیدی زاویہ فراہم کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خطے کی انفرادیت دیگر صوبوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر سامنے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان اور عام شہری خودمختاری اور شناخت کے سوالات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے عوام بہتر طرزِ حکمرانی کے خواہاں ہیں، جبکہ حکمران اشرافیہ بنیادی طور پر اپنی سیاسی بالادستی کو محفوظ رکھنے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ وہ مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کے فکری یا علمی مکالمے سے اجتناب برتتی ہے۔
یہ حکمران اشرافیہ ساختی مسائل کے کردار کا تنقیدی جائزہ لینے کی کوشش بھی نہیں کر رہی، جس کے نتیجے میں یہ تاثر عام ہو گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی قیادت محض اسلام آباد کی مطیع اور فرمانبردار کلائنٹ یا صارف ہے۔
حالیہ عوامی احتجاجی لہر دراصل آزاد جموں و کشمیر کی تمام مرکزی سیاسی جماعتوں پر عوامی عدم اعتماد کا اظہار ہے، جن کی موقع پرستی پر مبنی سیاست اور معاشی حکمتِ عملی کی کمی نے ان کی سیاسی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔
معاشی محرومی
اے جے کے معاشی ترقی کے عمل سے بڑی حد تک محروم ہے۔ آزاد جموں و کشمیر ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل طے نہیں کر پایا۔ بے روزگاری کی شرح اے جے کے میں 11 فیصد ہے، جو پاکستان کی قومی اوسط 5 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ نوجوانوں (15–29 سال) میں یہ شرح 27 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ روزگار کے مواقع کی کمی، اے جے کے کی معاشی پسماندگی کا بنیادی پہلو ہے۔
اگرچہ اے جے کے میں بعض سماجی اور تعلیمی اشاریے پاکستان کے دیگر صوبوں سے بہتر ہیں، لیکن اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ — بالخصوص مرد حضرات — روزگار کے لیے بیرونِ ملک ہجرت کرتے ہیں۔ وہ ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں، اور لوگ نجی سطح پر تعلیم و صحت کی سہولیات حاصل کرتے ہیں۔
اس دلیل کو مزید واضح کرنے کے لیے مردم شماری کے اعداد و شمار دیکھنا مفید ہوگا۔ تازہ مردم شماری کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں مرد و خواتین کا تناسب 95.22 ہے۔ یعنی ہر 100 خواتین کے مقابلے میں صرف 95 مرد موجود ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں اوسط تناسب 105 ہے۔ مزید یہ کہ اے جے کے کے بعض اضلاع — جیسے کوٹلی، باغ اور پونچھ — میں یہ تناسب بالترتیب 90، 91 اور 92 ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے اسباب اور اثرات کیا ہیں؟
اے جے کے کے مرد، بالخصوص محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے، معاشی بقا کی جدوجہد میں اپنے وطن کو ترک کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ "غائب شدہ" مرد ہیں جو کسی اغوا کا شکار نہیں بلکہ دراصل معاشی محرومی، ترقیاتی پسماندگی اور پدرشاہی اقدار کے اسیر ہیں۔
ان کی غیر موجودگی نہ صرف گھریلو اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے بلکہ خواتین پر سماجی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی بڑھا دیتی ہے۔ یوں یہ ہجرت، ایک فرد اور خاندان کی ذاتی مجبوری سے بڑھ کر، پورے معاشرتی نظام کی کمزوری اور ساختی ناانصافیوں کی علامت بن جاتی ہے۔
نتیجتاً زراعت اور مویشی بانی میں کمی واقع ہو رہی ہے، جس کے باعث خواتین کو یہ کام سنبھالنا پڑتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں زرعی اور مویشی بانی کے کاموں میں خواتین کا تناسب نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ خواتین پر زراعت کے کاموں کا غیر معمولی بوجھ ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ گھریلو اور نگہداشت کے کاموں میں بھی مصروف رہتی ہیں۔
یہ دوہرا بوجھ نہ صرف ان کی اجرتی روزگار میں شرکت کو محدود کرتا ہے بلکہ سماجی سطح پر صنفی عدم مساوات کو بھی گہرا کرتا ہے۔ اس طرح آزاد جموں و کشمیر کی ترقیاتی پسماندگی میں خواتین کی محنت کو نظر انداز کرنا ایک بنیادی ساختی مسئلہ ہے، جس کا تنقیدی جائزہ لینا حکمران اشرافیہ کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
ترقی کس طرح ممکن ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے؟
اس کا جواب ایک "نیا ترقی پسند وژن" ہے، جو سیاسی اور معاشی محرومی کے بنیادی مسائل کو حل کرے۔
یہ نیا ترقی پسند وژن ریاستی بیوروکریسی کے ڈھانچوں کو جمہوری بنانے اور کارکردگی کو بہتر بنانے پر مبنی ہونا چاہیے، تاکہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو معیاری عوامی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے عوام، سیاسی اور ریاستی اشرافیہ کی مراعات اور خصوصی سہولتوں سے سخت نالاں ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے شفاف، شمولیتی اور کارکردگی پر مبنی بجٹ سازی کے طریقۂ کار اپنانے چاہئیں، تاکہ عوامی اخراجات مقامی اہلِ علاقہ کی ترجیحات کے مطابق خرچ ہوں۔
اسی طرح، اس نئے ترقی پسند وژن کو معاشی محرومی کی بنیادی وجوہات کو بھی حل کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر، اے جے کے کی 80 فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، جہاں پہاڑی جغرافیہ مکینوں کو بنیادی سہولتوں تک رسائی سے محروم رکھتا ہے۔ جغرافیائی محرومی پر قابو پانا معاشی شمولیت کے لیے لازمی شرط ہے۔
پاکستان کے اسٹیٹ بینک اور منصوبہ بندی کمیشن کے اندر آزاد جموں و کشمیر کے لیے ایک ترقیاتی یونٹ قائم کیا جانا چاہیے، جو صرف آزاد جموں و کشمیر کی ترقی پر توجہ مرکوز کرے اور وہاں کے لوگوں کے لیے نئے روزگار کے مواقع پیدا کرے۔
اسلام آباد کو اس وژن کے تحت اے جے کے میں بنیادی عوامی سہولتوں تک ہمہ گیر رسائی کو ترجیح دینی چاہیے۔ یہ مقصد ایسے عوامی منصوبوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے جو پائیدار انفراسٹرکچر — جیسے سڑکیں، پل اور ڈیجیٹل رابطہ — فراہم کریں، تاکہ دیہی اہلِ علاقہ کو خطے کی معاشی ترقی میں بہتر طور پر شامل کیا جا سکے۔ اس سے اے جے کے کی مقامی معیشت کی پیداواری صلاحیت براہِ راست مضبوط ہوگی۔
مرکزی سطح سے نافذ کردہ طریقے، جو تاریخی طور پر ناکام رہے ہیں کیونکہ سیاسی حکمران طبقہ انہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے، اب بدلنے کا وقت آ چکا ہے۔ کمیونٹی پر مبنی اور نچلی سطح سے شروع ہونے والی حکمتِ عملیوں کو فروغ دینا ہوگا۔
مثال کے طور پر، کمیونٹی کی قیادت میں چلنے والی کوآپریٹو فارمنگ — جہاں مقامی اہلِ علاقہ اپنی زمین اور محنت کو اکٹھا کر کے زرعی پیداوار بڑھا سکتے ہیں اور معاشی نتائج کو بغیر کسی استحصال کے بہتر بنا سکتے ہیں۔
قرضہ یا کریڈٹ تک رسائی عوام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر جب وہ نئے کاروباری منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اے جے کے میں موجود بینکوں کو پابند کرے کہ وہ چھوٹے پیمانے کی پروسیسنگ یونٹس اور ماحول دوست صنعتوں، بشمول سیاحت، کے لیے سستا، بلا سود قرض فراہم کریں۔
یہ اقدامات مجموعی طور پر معاشی ترقی اور نمو کو ابھار سکتے ہیں، اور مرد و خواتین دونوں کے لیے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
ایک بات بالکل واضح ہے: حسبِ معمول طریقۂ کار — یعنی جاری سیاسی گول چکر — جو صرف دراڑوں پر پردہ ڈالتا ہے، آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو مطمئن نہیں کر سکے گا۔ اسلام آباد کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پرانے سیاسی اشرافیہ کے ساتھ کھڑا رہے گا یا آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی حقیقی ضروریات اور امنگوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نئے عہد کا آغاز کرے گا۔