عالمی سفارت کاری میں مقام بہت اہم ہے، سعودی عرب نے پیر اور منگل کو جدہ میں یوکرین اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا اہتمام کیا۔ جبکہ گزشتہ ماہ اس نے ریاض میں امریکہ اور روس کے درمیان مذاکرات کا اہتمام کیا تھا۔جدہ میں مذاکرات کے بعد یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے جنگ بندی معاہدے کی نئی تجویز اور امریکی انٹیلی جنس شیئرنگ اور سکیورٹی امداد کی بحالی کی حمایت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ گیند اب روس کے پاس ہے۔
بلا شبہ جب اس طرح کے عالمی سفارتی واقعات ہوتے ہیں تو ہر ایک کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں، آئیے اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کے روز روزہ افطار کرنے کے بعد ملاقات کیلئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو الگ الگ بلایا۔ روبیو اور زیلنسکی دونوں کے پاس ولی عہد کے سامنے پیش کرنے کے لئے الگ الگ معاملات تھے۔
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ روبیو نے ”یمن اور حوثی دہشت گردوں کی جانب سے جہاز رانی کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا جو عالمی تجارت، امریکی مفادات اور سعودی شہریوں اور انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ ہیں۔ وزیر خارجہ نے شام اور دہشت گردی سے پاک ایک مستحکم حکومت کو فروغ دینے کے طریقوں کے بارے میں بات کی۔“
دوسری جانب زیلنسکی نے کہا کہ ”ہم نے محمد بن سلمان آل سعود کے ساتھ (روس یوکرین) جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے درکار اقدامات اور شرائط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں (ایم بی ایس) نے قیدیوں کی رہائی اور بچوں کی واپسی کی اہمیت پر زور دیا ، جو سفارتی کوششوں میں اعتماد سازی کے اہم اقدامات کے طور پر کام کرسکتا ہے۔ ہماری بات چیت کا ایک اہم حصہ سکیورٹی گارنٹی پر مرکوز تھا۔“
جدہ پاکستانی قارئین کے لیے ایک تاریخ رکھتا ہے۔شریف الدین پیرزادہ پاکستان میں ”جدہ کا جادوگر“ کے نام سے جانے جاتے تھے اورشیر کاؤسجی نے انہیں یہ لقب دیا تھا۔
کاؤسجی ڈان کے آخری کالم نگار تھے کیونکہ ان کے بعد این جی او ملازمین اور ملازمت کے متلاشی دیگر افراد کی ایک پوری پود انگریزی زبان کے کالم نگار کے طور پر پاکستانی قارئین کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔
اب نہ تو پیرزادہ اور نہ ہی کاؤسجی ہمارے درمیان ہیں۔ کاؤسجی نے پیرزادہ کو ”جدہ کا جادوگر“ اس لیے کہا کیونکہ کسی بھی اور بیوروکریٹ کی طرح پیرزادہ بھی اپنی پسند کے قوانین و ضوابط وضع کرتے تھے اور نظریہ ضرورت جیسے کئی اور آئین شکن ایجادات کے بانی تھے ۔لیکن جب کاؤسجی نے یہ اصطلاح ایجاد کی تو مملکت سعودی عرب میں جادو کو جرم سمجھا جاتا تھا ۔ اب ایسا نہیں ہے اور جدہ میں جادو کے شو منعقد کیے جاتے ہیں۔ جدہ کاروبار اور تجارت کا مرکز بھی ہے اور حجاج کرام کے لئے مکہ کے گیٹ وے کے طور پر کام کرتا ہے۔جدہ میں کئی دیگر پرکشش مقامات ہیں جیسے زیر تعمیر ایک کلومیٹر لمبا ”جدہ ٹاور“ جو چند سالوں میں متحدہ عرب امارات کی شناخت ”برج خلیفہ“ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔یہ بہر حال سفارت کاری اور فیصلہ سازی کے لئے مرکزی شہر نہیں ہے۔
بنیادی طور پر ریاض مملکت کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہ عالمی سفارت کاری اور سیاست کے لیے مخصوص ہے۔ 2 کلومیٹر لمبا ”ریاض ٹاور“، جس کی تعمیر جلد شروع ہونے کا منصوبہ ہے، ”جدہ ٹاور“ سے دوگنا اونچا ہوگا۔میں نے گزشتہ ماہ ”ریاض میں ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھی گئی ہے“ کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ نے ریاض میں تاریخ کو نئی شکل دینے والی ملاقات کی تاکہ ایک نئی اور زیادہ مضبوط یونی پولر دنیا کی بنیاد رکھی جا سکے۔
جب یہ تاریخ ساز مذاکرات ہو رہے تھے اس وقت متحدہ عرب امارات نے یوکرین کے صدر اور ان کی اہلیہ کو دبئی بلایا ہوا تھا جہاں انہوں نے امارات کے فرمانروا سمیت اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔ یوکرین کے صدر نے ریاض میں ہونیوالے امن مذاکرات پہ عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دبئی سے متعدد بیانات بھی جاری کیے۔
سعودی عرب نے تو ان بیانات کو نظر انداز کیا لیکن یورپ میں ان کو بہت سنجیدگی سے سنا گیا۔اسی اثناء میں فرانس میں یورپی رہنماؤں کا ایک اجلاس بلایا گیا۔ ریاض میں جاری سفارتی عمل سے متعلق ان کا خیال تھا کہ ٹرمپ یوکرین کو روس کے حوالے کر رہے ہیں، جو کہ منصفانہ نہیں ہے۔ اس اجلاس سے پہلے جرمنی میں ایک عالمی سلامتی کانفرنس بھی ہوئی جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یورپی یونین کے رہنماؤں کو اپنے دفاع میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔