Get Alerts

سندھ کی ہندو مڈل کلاس میں اضافہ ایک خوش آئند رجحان

ہندوستان کی تقسیم کے وقت سندھ کی بیشتر ہندو آبادی سندھ سے ہجرت کر کے بھارت میں جا بسی جس کے بعد سندھ کے معاشرے میں کبھی نہ پورا ہونے والا معاشرتی اور معاشی خلا پیدا ہو گیا۔ یہ خلا مجموعی طور پر تو پورے پاکستان میں دیکھا گیا مگر اس کے اثرات باقی صوبوں میں اتنے خطرناک نہیں تھے جتنے سندھ میں ہوئے

سندھ کی ہندو مڈل کلاس میں اضافہ ایک خوش آئند رجحان

کسی بھی معاشرے کی ترقی کے معیار کو پرکھنے کے لئے بہت سے پیمانے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک پیمانہ اس معاشرے کی مڈل کلاس کی معاشی ترقی ہے۔ جس معاشرے کی مڈل کلاس معاشی طور پر خوشحال ہو گی وہ معاشرہ مجموعی طور پر خوشحال تصور کیا جائے گا۔ متوسط طبقے کی معاشی آسودگی معاشرے کی سماجی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام کی ضمانت ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے بارے میں ہمیشہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ سندھ میں غربت اور پسماندگی ہے اور اس کی وجہ وہاں پر اقتدار میں رہنے والی ایک مخصوص سیاسی پارٹی ہے۔ اگر سندھ کے مسائل اور سیاسی تاریخ کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو ایک بات سامنے آتی ہے کہ سندھ کے مسائل کی وجہ سیاسی فیصلے اور وہاں پر موجود جاگیردارانہ نظام بھی ہے مگر جو بڑی وجہ ہے وہ سندھ میں مڈل کلاس کا فقدان ہے۔ سندھ میں بدقسمتی سے مڈل کلاس کا وجود بھی مشکل سے ملتا ہے۔ اگر کہیں مڈل کلاس مل بھی جائے تو وہ انحطاط کا شکار نظر آتی ہے۔ 

1947 کی ہجرت سے پہلے سندھ کے شہری اوردیہی علاقوں میں ہندومڈل کلاس کا وجود تھا۔ اگر اس دور کا بغور مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں سندھ کی معاشرتی ترقی میں اسی مڈل کلاس کا ہاتھ تھا۔ زیادہ تر پڑھے لکھے، ملازمت پیشہ اور ہنر مند افراد ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ اس دورمیں مسلمان کمیونٹی بالکل آج کے دور کی طرح دو طبقات پر مشتمل تھی، ایک جاگیردار طبقہ اور دوسرا ہاری طبقہ جو جاگیرداروں کی زمینوں پر بطور رعایا اور بطور مزارع کام کر کے اپنا گزر بسر کرتا تھا۔

ہندوستان کی تقسیم کے وقت سندھ کی بیشتر ہندو آبادی سندھ سے ہجرت کر کے بھارت میں جا بسی جس کے بعد سندھ کے معاشرے میں کبھی نہ پورا ہونے والا معاشرتی اور معاشی خلا پیدا ہو گیا۔ یہ خلا مجموعی طور پر تو پورے پاکستان میں دیکھا گیا مگر اس کے اثرات باقی صوبوں میں اتنے خطرناک نہیں تھے جتنے سندھ میں ہوئے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ سندھ سے نقل مکانی کرنے والی مڈل کلاس یعنی کہ ہنرمند اور پڑھا لکھا طبقہ ہندو کمیونٹی کا تھا۔ سندھ آج تک اس ہجرت کے اثرات سے جھوجھ رہا ہے۔

اس ہجرت کے بعد سندھ میں دو طبقات باقی بچ گئے: ایک سندھ کا وڈیرہ اور جاگیردار اور دوسرا پسا ہوا ہاری جو معاشی، معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے وڈیرے کا مرہون منت ہے۔

احمد فراز کا ایک قطعہ یاد آتا ہے

ہم کہ منت کش صیاد نہیں ہونے کے
وہ جو چاہے بھی تو آزاد نہیں ہونے کے
دیکھ آ کر ان کو بھی جو تیرے ہاتھوں
ایسے اجڑے ہیں کہ آباد نہیں ہونے کے

ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان کمیونٹی کے افراد بھی زیادہ تر پڑھے لکھے اور ہنرمند تھے جن کی مدد سے امید کی جا سکتی تھی کہ قابل ہندو کمیونٹی کے خلا کو پورا کیا جا سکے گا مگر ان افراد کی بہت بڑی آبادی کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں میں آباد ہوئی جس کی وجہ سے اندرون سندھ کے شہروں اور دیہی علاقوں میں وہ خلا کبھی پورا نہ ہو سکا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

پچھلے 20 سال میں سندھ کے پرانے نظام میں کچھ تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ سندھ میں نئے مڈل کلاس کے طبقے کے ظہور کی وجہ سے سندھ کا جاگیردارانہ نظام نسبتاً کمزور ہوا ہے۔ کم و بیش 75 سال بعد اب سندھ کی مڈل کلاس کا وجود پھر سے نظر آنا شروع ہوا ہے جس کی وجہ سے معاشرتی اور معاشی پسماندگی میں خاتمے کی شروعات کی امید کی جا سکتی ہے۔

اس سارے سلسلے میں کمال، خوش آئند اور امید والی بات یہ ہے کہ ہندو کمیونٹی کی اچھی خاصی تعداد نے مذہب کی بنیاد پر ہجرت کرنے کی بجائے اپنے علاقے اور کلچرمیں رہنے کو ترجیح دی تھی۔ ان کا یہ فیصلہ بڑا دلیرانہ تھا کیوں کہ ہندوستان کی مذہب کے نام پر تقسیم ہونے اور 1947 کے فسادات کے بعد مسلمان ملک میں رہنے کا تصور بھی بھیانک اور خطرناک تھا، یا شاید پھرشہباز قلندر، عبداللہ شاہ غازی اور شاہ عبداللطیف بھٹائی جیسے ولی اور درویشوں کی تعلمیات نے سندھ کی دھرتی میں مذہبی اور سماجی رواداری اور وسعت پیدا کی ہے جس نے سندھ میں ہی رہ جانے والی ہندو کمیونٹی کے اندر یہ حوصلہ پیدا کیا۔ بلاشبہ یہ ایک مشکل اور خطروں سے بھرپور فیصلہ تھا جس کے اندر اپنے وطن کے ساتھ وفاداری اور محبت کا راز پنہاں ہے۔ 

سندھ کے لئے انتہائی خوش آئند بات ہے کہ سندھ کی ہندو کمیونٹی ایک دفعہ پھر سے سندھ کی پڑھی لکھی اور ہنرمند مڈل کلاس کے طورپر ابھر رہی ہے۔ سندھ کی ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد میڈیکل سائنسز، انجنیئرنگ اور اب سول سروسز میں اپنی قومی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال جناب راجندر مہیگوار صاحب کی ہے جو پاکستان کی ہندو کمیونٹی کے پہلے فرد ہیں جنہوں نے پولیس سروس آف پاکستان میں بطور اے ایس پی شمولیت اختیار کی ہے۔

بلاشبہ اس میں سندھ کی معاشرتی اور سیاسی سوچ کو بھی خراج تحسین پیش کرنا پڑے گا جو مذہب سے بالاتر ہو کر سب کو یکساں موقع فراہم کر رہی ہے۔ سندھ کی معاشی پسماندگی عارضی ہے کیونکہ سندھ کبھی بھی عقلی پسماندگی کا شکار نہیں رہا۔ سندھ نے پورے برصغیر پاک و ہند میں ہمیشہ رواداری اور تنوع پسند سوچ کو ترویج دینے میں اپنی مثال آپ رہا ہے۔

کسی بھی قوم اور ریاست کی ترقی کا پہلا زینہ یہی ہے کہ وہ مذہب، زبان اور کلچر سے بالاتر ہو کر اپنے افراد کو ترقی کے مواقع فراہم کرے۔ اگر ترقی کا یہی عمل اسی طرح جاری رہا تو عنقریب سندھ کی ہندو کمیونٹی سندھ کے مڈل کلاس کے خلا کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور یہی مڈل کلاس مزید ترقی کر کے کئی سیٹھ ہرچند ویشاند پیدا کرے گی جنہوں نے جدید کراچی کی ترقی اور خوشحالی میں نہایت اہم کردار ادا کیا جس کے لئے ان کو جدید کراچی کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ شاید اقبال نے اسی موقع کے لئے کہا تھا

افراد کے ہاتھوں میں ہے عوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

عاصم علی انٹرنیشنل ریلیشنز کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے University of Leicester, England سے ایم فل کر رکھا ہے اور اب یونیورسٹی کی سطح پہ یہی مضمون پڑھا رہے ہیں۔