میں، ڈاکٹر رخشندہ پروین، یہ تحریر ایک عجیب سی کیفیت میں لکھ رہی ہوں۔ صرف ہچکچاہٹ نہیں، کچھ گھبراہٹ بھی، اور شاید ہلکا سا خوف بھی۔ وہ احساسات جو کبھی کبھار ایک ایسی شناخت کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں جو خود کو بار بار واضح کرنے پر مجبور ہو۔ چاہے وہ شناخت ایک اقلیت کی ہو، یا ایک ایسے پاکستانی کی جو اپنے انتخاب پر قائم ہے۔
شاید یہ تحریر کچھ لوگوں کو غیر ضروری لگے، شاید نا مقبول بھی ہو۔
لیکن یہ صرف ایک فنکارہ کے لئے چند لفظ نہیں۔ یہ میرے اپنے اندر کا مکالمہ ہے۔
میری پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جس کی جڑیں بہار میں تھیں، پھر وہ مشرقی پاکستان میں آئیں، اور آخرکار مغربی پاکستان میں آ کر ٹھہریں۔ یہ صرف ہجرت کا سفر نہیں تھا، بلکہ شناخت کے مسلسل امتحان کا سفر تھا۔ شاید اسی لئے "اپنا ہونا" میں نے ہمیشہ کچھ زیادہ شدت سے محسوس کیا اور کبھی کبھی، کچھ زیادہ ثابت بھی کرنا پڑا۔
میں پاکستانی ہوں۔ اس میں کوئی مگر نہیں۔
لیکن اسی بلا مشروط محبت کے ساتھ، میرے اندر علم، ادب اور موسیقی کی ایک دنیا بھی آباد ہے۔ اس دنیا میں کچھ آوازیں ایسی ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوتیں بلکہ اور گہری ہو جاتی ہیں۔ ان میں ایک آواز آشا بھوسلے کی بھی ہے۔
آج جب میں اس آواز کو یاد کرتی ہوں، اس کی تعریف کرنا چاہتی ہوں، تو میرے اندر ایک ہلکی سی جھجک پیدا ہوتی ہے۔ عجیب بات ہے۔ ایک میڈیکل ڈاکٹر کے طور پر میں نے ہمیشہ انسان کو انسان کے طور پر دیکھنے کی تربیت پائی، مگر ایک سننے والی اور لکھنے والی کے طور پر، مجھے کبھی کبھی اپنے ہی احساسات کے لئے دلیل دینا پڑتی ہے۔
کیا ایک فنکار کی تعریف کرنا اب ایک "بیان" بن چکا ہے؟
کیا ایک آواز سے محبت بھی اب وفاداری کے ترازو میں تولی جائے گی؟
ہم ایک ایسے وقت میں جی رہے ہیں جہاں بیانیے بہت تیز ہیں، اور سچ اکثر ان کے شور میں دب جاتا ہے۔ میڈیا، فلمیں اور روزمرہ گفتگو۔ سب نے مل کر ایک ایسا ماحول بنا دیا ہے جہاں شک آسان ہے اور اعتماد مشکل۔
میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں وضاحت کے طور پر نہیں، بلکہ اپنا مؤقف ریکارڈ کروانے کے لئے کہ فن کی سرحد نہیں ہوتی، لیکن فنکار کی سرحد ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ اور کسی بھی صورت میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا، خواہ وہ فلم کے ذریعے ہو، موسیقی کے ذریعے، یا صحافت کے ذریعے قابلِ قبول نہیں۔
لیکن اس سب کے باوجود، میرے پاس اس سے بہتر کوئی دلیل نہیں کہ میرا پاکستانی دل آشا بھوسلے کے کئی گیت سنتا ہے اور بے اختیار یہ کہہ اٹھتا ہے:
یا اللہ، کیا خوبصورت آواز دی ہے۔
شاید یہی سچ ہے سادہ، مگر مکمل۔
اور پھر مجھے اپنی سولہ سال کی عمر، 1984 کی ایک نثری نظم یاد آتی ہے:
خدا
رات بھر یہ سوچتی رہی
اور
سوچ سوچ کر روتی رہی
میرا اور دشمنوں کا خدا
ایک ہے!
یہ تحریر مکمل نہیں ہے۔ شاید اس لئے کہ میں خود بھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچی۔
یا شاید اس لئے کہ کچھ احساسات کو مکمل کرنا، ان کی سچائی کو کم کر دیتا ہے۔
میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ:
آشا بھوسلے، آپ کا شکریہ ان گنت خوبصورت گیتوں کے لئے۔
اور کچھ سوال، جواب سے زیادہ ایماندار ہوتے ہیں۔