پاکستان میں 2024 کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ انہیں قومی اسمبلی کی 180 نشستوں پر دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا۔ پی ٹی آئی نے اس مؤقف کو تقویت دینے کے لیے سوشل میڈیا پر فارم 47 بھی شائع کیے اور بار بار یہ بیانیہ دہرایا کہ انتخابات شفاف نہیں تھے بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت انہیں ناکام بنایا گیا۔
لیکن جب فافن (FAFEN) کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ فافن کی رپورٹ کے مطابق الیکشن ٹریبیونلز میں قومی اسمبلی کے صرف 50 حلقوں پر اعتراضات درج کرائے گئے، جن میں سے 31 پی ٹی آئی نے جبکہ 19 دیگر جماعتوں نے دائر کیے۔ اب یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی واقعی 180 نشستوں پر دھاندلی کے الزامات کو سچ سمجھتی ہے اور ان کے پاس فارم 47 جیسے شواہد بھی موجود ہیں تو پھر صرف 31 حلقوں پر ہی قانونی چارہ جوئی کیوں کی گئی؟
یہ ایک سادہ سی بات ہے کہ انتخابی دھاندلی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے شواہد اور ثبوت درکار ہوتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کے پاس واقعی 180حلقوں میں منظم دھاندلی کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہوتے تو وہ تمام حلقوں میں قانونی اعتراضات درج کراتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کی طرح جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے 180 کا عدد محض سیاسی نعرے بازی اور عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر فارم 47 شیئر کیے لیکن فارم 47 کا اصل مقصد صرف نتیجہ دکھانا ہوتا ہے، یہ ثابت نہیں کرتا کہ کسی جگہ دھاندلی ہوئی ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے پاس دھاندلی کے حقیقی ثبوت موجود ہوتے تو انہیں فارم 45 (جس میں اصل ووٹوں کی تفصیلات درج ہوتی ہیں) اور دیگر ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالتوں میں پیش کرنا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
یہاں ایک اور دلچسپ حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔ جیسے کہ عوام کو معلوم ہے کہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے سابق سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان حالیہ دنوں میں "سیاسی محبت" عروج پر ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی کے وفد کے سامنے ایک شرط رکھی کہ خیبر پختونخوا میں دھاندلی کے خلاف جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرایا جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر باقی ملک میں دھاندلی ہوئی ہے، تو خیبر پختونخوا میں کیسے نہیں ہوئی؟ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا میں جوڈیشل کمیشن بن گیا، تو اس سے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر دباؤ بڑھے گا اور باقی صوبوں میں بھی کمیشن بنانے کا مطالبہ زور پکڑ لے گا، جس سے انتخابات میں دھاندلی ثابت ہو سکے گی۔ لیکن جب پی ٹی آئی کے وفد نے عمران نیازی کے سامنے یہ تجویز رکھی، تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی واقعی 180 حلقوں میں دھاندلی کے الزامات کو درست سمجھتی تھی تو وہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حق میں کیوں نہ گئی؟ عمران نیازی کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پی ٹی آئی کے دھاندلی کے دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں، اور حقیقت میں وہ اس بیانیے کو صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ جس طرح 2018 میں اسٹیبلشمنٹ نے دھاندلی کے ذریعے پی ٹی آئی کو جتوایا، اسی طرح 2024 میں مسلم لیگ (ن) کو بھی بھرپور فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ 2024 کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ میں بیٹھے مضبوط سہولتکاروں نے پی ٹی آئی کی مدد نہیں کی، تو یہ ایک ناقابلِ فہم بات ہو گی۔ لہذا پی ٹی آئی کا 180 حلقوں میں سازش کے ذریعے شکست کا دعویٰ مکمل طور پر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے۔ حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ ان دونوں انتخابات میں دوسری سیاسی جماعتوں کے خلاف بھرپور دھاندلی کر کے اپنے لاڈلوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔
المختصر پی ٹی آئی کی فارم 47 کی کہانی بھی اُتنی ہی ”سچی“ ہے، جتنی ماضی کی اس کی دیگر باتیں "سچی" ثابت ہوئی ہیں۔ اگر پی ٹی آئی واقعی 180 حلقوں پر دھاندلی کے الزامات کو حقیقت سمجھتی، تو اسے قانونی اور آئینی طریقے سے ان حلقوں میں اعتراضات جمع کروانے چاہیے تھے۔ لیکن جب عملی اقدامات کرنے کا وقت آیا، تو 180 کا عدد 31 پر سمٹ گیا، جس سے اس کے جھوٹے بیانیے کا پردہ فاش ہو گیا۔
یہ تمام حقائق ایک بار پھر پی ٹی آئی کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کرتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر جھوٹے پروپیگنڈے اور حقائق میں فرق کو سمجھیں، جس سے وہ سیاسی جماعتوں کے جھوٹے دعووں کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھ سکیں گے۔