12 جولائی کی شام واشک کے علاقے ماشکیل میں پنجاب سے روزی کمانے آئے پانچ مزدور اپنی دکانوں پر کام کر رہے تھے کہ موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ پانچوں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ان کی لاشیں طبی و قانونی کارروائی کے بعد ان کے آبائی شہروں کو روانہ کر دی گئیں۔ صدر، وزیرِ اعظم، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، سب نے ہمیشہ کی طرح مذمتی بیانات جاری کیے۔ یہ بھی غنیمت ہے۔ چند دن میں یہ خبر بھی باقی خبروں کی طرح دب جائے گی۔
مگر یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔
- فروری 2025 میں بارکھان کے قریب بس سے اتار کر سات مسافر گولیوں کا نشانہ بنائے گئے۔
- مارچ 2025 میں کلات میں پنجاب کے چار مزدور مارے گئے۔
- مئی 2024 میں گوادر کے قریب پنجاب کے سات حجام قتل ہوئے۔
- اگست 2024 میں ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں ترپن سے زائد مسافر بسوں اور ٹرکوں سے اتار کر تئیس افراد کو گولیاں ماری گئیں۔
- ستمبر 2024 میں پنجگور میں ملتان سے تعلق رکھنے والے سات مزدور ایک زیرِ تعمیر مکان میں مار دیے گئے۔
یہ فہرست نامکمل ہے، اور یہی سب سے تکلیف دہ بات ہے کہ ایسی خبریں اب "فہرست" بن چکی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم نے کتنی بار یہ پڑھا کہ "بلوچستان کے آزادی پسندوں" نے غریب پنجابی مزدور مارے؟ زیادہ تر جگہ لکھا ملے گا کہ "نامعلوم مسلح افراد" یا "دہشت گرد"۔ بجا۔ مگر جو حلقے ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کو "قومی آزادی کی تحریک" کہہ کر رومانوی رنگ دیتے ہیں، وہ اس روز خاموش کیوں ہو جاتے ہیں جب مرنے والا ایک بے ضرر مزدور، ایک حجام، ایک محنت کش ہوتا ہے؟
یہاں ایک بنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے، جو اکثر جان بوجھ کر دھندلا دیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے پسماندہ رہنے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، مسنگ پرسنز، اور سیاسی محرومی پر بات کرنا ایک جائز، بلکہ ضروری، مطالبہ ہے۔ لیکن غیر مسلح مزدوروں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مارنا، بسوں سے اتار کر قتل کرنا، یہ "مزاحمت" نہیں بلکہ دہشت گردی اور بدترین ناانصافی ہے۔
ایک زخم پر انگلی رکھنا، اور اس زخم کو ہتھیار بنا کر بے گناہوں پر چلانا، دو بالکل مختلف کام ہیں۔ افسوس کہ ہمارے کئی محترم دانشور، کالم نگار اور صحافی، جو باقی معاملات میں بہت محبِ وطن نظر آتے ہیں بلکہ انسانی حقوق کے علمبردار بھی، اسی جگہ آ کر لکیر کھینچنے سے گریز کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ریاست مخالف بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا ایک خاص مقام، نام، مرتبہ، عالمی پذیرائی، اور سوشل میڈیا پر منفعت بھی دلاتا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز یا عام مزدور کے ساتھ کھڑا ہونا "اسٹیبلشمنٹ نواز" کا لیبل لے آتا ہے۔
"یہ سستا سودا مجھے قبول نہیں۔"
یہ اور بات کہ ان میں سے بھی کئی اسٹیبلشمنٹ نواز ہیں، اور اتراہٹ کے ساتھ: "رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنّت بھی نہ گئی۔"
یہ گیم مجھ کو سمجھ نہیں آتی، کیونکہ نہ تو میرے پاس کوئی کارآمد یا قابلِ رشک ذرائع ہیں، نہ دھڑا دھڑ، عجلت میں یا فرصت میں بھی، کیا گیا انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی۔
لیکن یہ مسائل تصوف بھی نہیں کہ میں اس پر کچھ سوچنے یا لکھنے کی جرات بھی نہ کر سکوں۔
ہائے، ہائے، ہائے، ہائے، ہائے! ہماری سپاہ، افسران، پولیس کے جوان جو روزانہ کی بنیاد پر شہید ہو رہے ہیں۔
ہائے، ہائے، ہائے، ہائے، ہائے! بلوچستان کے مظلوم۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ بلوچستان کی سیاسی ڈائنامکس مجموعی طور پر تین بڑے بیلٹس میں منقسم ہیں، جن میں پہلا پشتون بیلٹ (شمالی اضلاع) ہے، جہاں پشتون قوم پرستی اور مذہبی جماعتوں کا اثر ہے؛ دوسرا بلوچ بیلٹ (وسطی اور جنوبی اضلاع) ہے، جہاں روایتی سرداری نظام اور بلوچ قوم پرست سیاست غالب ہے؛ اور تیسرا ساحلی بیلٹ (گوادر اور لسبیلہ) ہے، جہاں سی پیک، ساحلی وسائل اور ماہی گیروں کے حقوق بنیادی سیاسی بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔ ان تینوں خطوں کے الگ لسانی، ثقافتی اور جغرافیائی مسائل کی وجہ سے صوبے میں ہمیشہ مخلوط حکومتیں بنتی ہیں یا بنوائی جاتی ہیں؟
پتا نہیں کیوں میں نے ایسا پوچھا؟
اب تو بلوچستان ایکسپرٹ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے آج تک بلوچستان میں قدم رکھنا تو کیا، کسی عام بلوچ سے بات بھی نہیں کی، بلکہ کبھی بھی کسی محروم، محکوم یا مظلوم سے بات نہیں کی۔ بس ریسرچ پیپرز لکھے، فیلڈ ریسرچ کسی اور سے کروا لی، یا سوشل میڈیا سے ہی گیان حاصل کیا۔
اس المیے کو دیکھتے ہوئے مجھے بار بار 1971 یاد آتا ہے، اور اردو بولنے والے بہاریوں اور دیگر غیر بنگالیوں کا بھی خیال آتا ہے۔
1971 کا وہ المیہ، جو ہماری قومی یادداشت سے تقریباً مٹ چکا ہے، اور اگر کسی کو یاد بھی آتا ہے تو بہت سلیکٹو انداز میں: "شراب، شباب، نور جہاں، جنرل رانی، جنرل یحییٰ، نیازی"۔ بس، اور کرداروں کا نام نہیں لے سکتے، کیونکہ وہ سب، یعنی ان کی اولادیں، اقتدار میں تھیں یا ہیں، اسمبلی میں تھیں یا ہیں، پاکستان میں بھی اور بنگلہ دیش میں بھی۔
سابقہ مشرقی پاکستان میں جن لوگوں نے، خاص طور پر بہاریوں نے، پاکستان کا ساتھ دیا، "جنگ" کے بعد انہیں غدار، رضاکار اور دشمن کا ساتھی قرار دے کر نشانہ بنایا گیا۔ آج ڈھاکہ کے "جنیوا کیمپ" اور دیگر "کیمپوں" میں اندازاً پونے تین لاکھ سے پانچ لاکھ کے درمیان افراد نسلوں سے بے وطن زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ بنگلہ دیش نے مکمل طور پر اپنایا، نہ پاکستان نے۔
مارچ 2015 میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ بنگلہ دیش میں مقیم باقی ماندہ "پھنسے ہوئے پاکستانی" — جن کی اکثریت بہاریوں پر مشتمل ہے — اب پاکستان کی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی ذمہ داری ہیں، کیونکہ پاکستان پہلے ہی ایک لاکھ ستر ہزار (170,000) سے زائد "غیر بنگالیوں" کو واپس لا چکا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش میں تقریباً چار سے پانچ لاکھ (400,000 سے 500,000) پھنسے ہوئے پاکستانی مقیم تھے۔
غور کریں، ان کو غیر بنگالی ہی کہا گیا، پاکستانی نہیں۔
ڈاکٹر کمال حسین اپنی یادداشتوں بنگلہ دیش: کوئسٹ فار فریڈم اینڈ جسٹس (2013) کے صفحہ 238 پر لکھتے ہیں کہ جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ عزیز احمد پر بہاریوں کی واپسی کے لیے زور دیا گیا تو انہوں نے کہا: "انہیں بھارت میں کیوں نہیں دھکیل دیتے؟"
اور جب بتایا گیا کہ یہ ممکن نہیں، تو جواب دیا:
"تو پھر انہیں خلیجِ بنگال میں دھکیل دیا جائے۔"
یہ حوالہ عمران چودھری کے مضمون Parleys with Pakistan (ڈھاکہ ٹریبیون، مارچ 2024) سے لیا گیا ہے، جسے میں نے خود چودھری صاحب سے تصدیق کروائی تھی، اگرچہ ڈاکٹر کمال حسین سے براہِ راست اس بات کی تصدیق ممکن نہ ہو سکی کہ عزیز احمد نے یہ الفاظ لفظ بہ لفظ ادا کیے تھے یا نہیں۔ میں اس مبینہ افسوسناک واقعے کے بارے میں ہم سب، نیا دور اور ایکسپریس ٹریبیون میں بھی لکھ چکی ہوں۔
جرمِ عشقِ پاکستان میں پہلے 1946 کے بہار فسادات میں بکھرے، پھر 1947 آیا جس میں بٹے، پھر 1971 آیا جس میں برباد ہوئے، اور اس المناک باب میں تاریک ترین، تلخ ترین حصہ ان کا ہے جو 1971 کے بعد متروک ہوئے، بے رحمی سے بھلا دیے گئے اور بدتمیزی سے دھتکارے گئے۔ اپنوں میں سے بھی بہت کم نے انہیں یاد رکھا، اور برابر کا تو بہت ہی کم نے جانا۔ ان کو صدقہ خیرات کی کیٹیگری میں ڈال دیا گیا۔ غیروں، یعنی پاکستان کے مقامی پاکستانیوں، کا حال تو مت ہی پوچھیں۔
رضا رومی، وجاہت مسعود، حمید شاہد، منیر فیاض جیسے ایمپیتھیٹک پاکستانی پنجابیوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اکثریت کو تو اس بات کا پتا ہی نہیں چلتا یا سمجھ ہی نہیں آتی۔
اس پر ایک اور کالم لکھوں گی، حالانکہ اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ "سمجھانے" اور "بجھانے" والوں کا بھی دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ میرے پاس کون سی دہری شہریت ہے کہ میں کہیں اور جا سکوں، اور یہ چوائس ہے۔
ایک اور بات یہ بھی ہے کہ اتنی بڑی لڑائی میں عام شہریوں کی کوئی اوقات نہیں ہوتی، اور وہ سرکاری بیانیے اور غیر سرکاری، یا غداری کے مرتکب گروہ کے بیانیے، کے درمیان پھنس جاتے ہیں۔ کاش اس پر بھی کوئی تھنک ٹینک گفتگو کر سکے۔
گرچہ میں المیوں اور مصائب کا موازنہ یا مقابلہ کرنے سے کتراتی ہوں، پھر بھی اگر بات کو سمجھنے کی کوشش کے طور پر یہاں المیے کا موازنہ کریں تو ایک تلخ فرق سامنے آتا ہے۔
بلوچستان میں مارے جانے والے غریب پنجابی مزدور کی لاش (بہت کم نیوز چینلز "میت" کا لفظ ادا کرتے ہیں) کم از کم اس کے آبائی گاؤں پہنچ جاتی ہے، اسے دفنایا جاتا ہے، اس کا نام ایک خبر میں آتا ہے، پھر بھول جاتا ہے۔
مگر جنیوا کیمپ اور اس جیسے 66 کیمپوں میں بوڑھی ہوتی ہوئی وہ نسل، جو آج بھی پاکستان ریلوے کے ایمپلائمنٹ کارڈ کو سنبھال کر رکھتی ہے، جو دھندلاتی آنکھوں سے پاکستان کے ایک بوسیدہ پرچم کو چومتی ہے، اس کی تقدیر مختلف ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بنگالی مسلمان مکتی باہنی کے ہاتھوں اپنی عورتوں کا ریپ، اپنے ہی گھروں سے جبری بے دخلی، اور بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کا بہیمانہ قتلِ عام دیکھا۔ ان کے نزدیک ان کی یہ "داستان" پاکستان میں بھی وہ توجہ نہ پا سکی جس کی وہ مستحق تھی، جبکہ بنگلہ دیش کا بیانیہ دنیا بھر میں زیادہ نمایاں ہو گیا۔
ان کی بے گھری اور بربادی کو چھپایا گیا۔ آزاد مشرقی پاکستان، یعنی بنگلہ دیش، نے اپنا بیانیہ آزادی کے ساتھ پوری دنیا میں پھیلایا۔ آج تک آپ، اگر اکادمک ہیں یا جرنلسٹ (میرے جیسے نہیں)، تو آپ لکھ ہی نہیں سکتے یا بول ہی نہیں سکتے کہ بہاری پاکستانیوں کا جینوسائیڈ ہوا۔
جب یہ بے بس اور بے یار و مددگار لوگ، "عشاقِ پاکستان" — جنہیں آپ سفاکی سے یا طنزاً بے وقوف بھی کہہ سکتے ہیں — دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کی لاش کے لیے بھی کوئی آبائی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ 1971 نے، یا 1947 نے، ان سے ان کا وطن چھین لیا تھا۔
ان "اذیت گاہوں" میں پیدا ہونے والے بچوں کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی "گھر" نہیں۔ نہ ہندوستان انہیں قبول کرتا ہے، نہ بنگلہ دیش نے پورے دل سے اپنایا، نہ پاکستان انہیں بلا سکا۔
ایک انسان کو مرنے کے بعد اپنی سرزمین مل جاتی ہے، مگر دوسرا پوری زندگی، بلکہ موت کے بعد بھی، بے سرزمین رہتا ہے۔
یہ سب کچھ کوئی نئی بات نہیں، مگر ہم اسے بار بار بھول جاتے ہیں۔ ہماری اجتماعی یادداشت میں محبِ وطن پاکستانیوں کی قربانی — چاہے وہ بہاری ہوں یا آج بلوچستان میں کام کرنے والے پنجابی مزدور — بمشکل چند دن کی خبر بن کر رہ جاتی ہے، جبکہ ریاست مخالف بیانیے کو عالمی میڈیا، ہیش ٹیگز اور "انسانی حقوق" کے عنوان تلے مسلسل جگہ ملتی رہتی ہے۔ یہی وہ اجتماعی ڈیمنشیا ہے جس کا مجھے بار بار دکھ ہوتا ہے: ایک قوم کا اپنے قربانی دینے والوں کو بھول جانا، اور ان کے قاتلوں کے بیانیے کو سراہنا۔
ماشکیل میں مرنے والے پانچ مزدوروں کو زبردستی ہیرو یا شہید بنانے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنی گزارش ہے کہ انہیں کم از کم اتنی دیر یاد رکھا جائے جتنی دیر ایک بس کو روک کر شناختی کارڈ چیک کرنے میں لگتی ہے۔ اور یہ فرق کبھی نہ بھلایا جائے کہ محرومی کی آواز بلند کرنا اور بے گناہ کا گلا کاٹنا، دو الگ چیزیں ہیں۔ جو اس فرق کو دیکھنے اور سمجھنے سے عاری ہیں، وہ چاہے کتنے ہی بڑے دانشور کیوں نہ ہوں، سچ کی خدمت نہیں کر رہے۔
میں دانشور نہیں بلکہ بیوقوفوں کی "فہرست" میں ہی رہنا چاہوں گی، اور پاکستان کو توڑنے والوں کو غدار ہی کہوں گی، آزادی کے نہیں، کہ میرا خبطی بہاری خمیر بدل نہیں سکتا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
نوٹ: تمام واقعاتی تفصیلات — ماشکیل حملہ (12 جولائی 2026)، سابقہ واقعات کی تاریخیں، اور بہاری "کیمپوں" کے اعداد و شمار — نیوز رپورٹس اور معتبر ذرائع سے تصدیق شدہ ہیں۔ بہاری آبادی کے اعداد و شمار مختلف ذرائع میں 240,000 سے 500,000 کے درمیان بتائے گئے ہیں؛ کالم میں محتاط رینج استعمال کی گئی ہے۔