Get Alerts

بدین میں احمدی شہری کے جنازے اور سوگ پر پولیس کا دباؤ

متعلقہ تھانہ کا SHO پولیس موبائل کے ہمراہ گاؤں پہنچا اور اس نے احمدیوں پردباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ مخالف مولوی پولیس پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں کہ احمدی متوفی کا جنازہ نہ پڑھایا جائے اور نہ ہی تعزیت کے لئے آنے والے مہمانوں کے لئے چٹائیاں بچھا کر تین دن کا روایتی سوگ منایا جائے

بدین میں احمدی شہری کے جنازے اور سوگ پر پولیس کا دباؤ

ہفتہ 6 جون 2026 کو ایک احمدی شہری شمس الدین گرگیز صاحب ساکن ٹنڈو باگو، خدا آباد، ضلع بدین کا انتقال ہو گیا۔ رات قریب 9:30 بجے ان کا جسدِ خاکی خدا آباد ہسپتال سے گاؤں لایا گیا۔ رات تقریباً پونے گیارہ بجے متعلقہ تھانہ کا SHO غلام حیدر پنہور پولیس موبائل کے ہمراہ گاؤں پہنچا اور اس نے احمدیوں پردباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ مخالف مولوی پولیس پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں کہ احمدی متوفی کا جنازہ نہ پڑھایا جائے اور نہ ہی تعزیت کے لئے آنے والے مہمانوں کے لئے چٹائیاں بچھا کر تین دن کا روایتی سوگ منایا جائے۔

گاؤں کے احمدیوں نے پولیس کے اس غیر قانونی مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں واضح کیا کہ یہ مطالبات قانون کے سراسر خلاف ہیں اور ہمیں بھی اپنے بنیادی اور آئینی حقوق حاصل ہیں۔ اس پر پولیس گاؤں سے واپس چلی گئی۔

اس سے قبل خدا آباد، ضلع بدین میں ایک اور احمدی شہری محمد خان  کی وفات 16 مئی 2026 کو ہوئی تو تب بھی تعزیت کے لئے آنے والے مہمانوں کے لئے لگے ٹینٹ پولیس نے اتار دیے تھے اور کہا تھا کہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی دل آزاری ہوتی ہے۔

جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ یہ دونوں واقعات انتہائی تشویشناک ہیں اور صوبہ سندھ کی رواداری کی روایت پر کاری ضرب ہیں۔ پولیس کی جانب سے انتہا پسندوں کا آلہ کار بن کر احمدیوں سے ایسا نامناسب، غیر قانونی اور غیر اخلاقی سلوک قابل مذمت ہے۔

"ریاستی اداروں کا بنیادی فرض ہر شہری کے دستوری حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے نہ یہ کہ معاشرے میں تفریق اور نفرت پھیلانے والے عناصر کی خوشنودی کے لئے طاقت کا استعمال کریں۔ انسانی حقوق کے کارکنان خصوصاً صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والوں سے گذارش ہے کہ اس ضمن میں آواز اٹھائیں کہ ہر قسم کی انتہا پسندی کی نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ سارے وطن عزیز میں اس منفی رجحان کو ختم کیا جائے۔"