نیب لوگوں کی عزتوں سے نہ کھیلے ان کے اپنے افسران کو بولنا نہیں آتا. سپریم کورٹ نے گرفتاریوں کے معاملہ پر نیب پر برہمی کا اظہار کردیا. سپریم کورٹ نے برہمی پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب اپیل کی سماعت دوران کی۔
جسٹس مقبول باقر کی سر براہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ نیب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ نیب نے فراڈ کے ملزم سلمان فدا کے خلاف تحقیقات بند کر دی ہے اور یہ معاملہ کارروائی کے لیے پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو بھجوا دیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کا حکم دیا۔
ہائیکورٹ کے فیصلہ کو صرف اس حد تک چیلنج کیا۔ سپریم کورٹ نے گرفتاریوں کے معاملہ پر نیب کی سخت سرزنش کردی۔ سپریم کورٹ نے سرزنش پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب اپیل کی سماعت دوران کی۔ جسٹس مقبول باقر کی سر براہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
نیب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ نیب نے فراڈ کے ملزم سلمان فدا کے خلاف تحقیقات بند کر دی ہے اور یہ معاملہ کارروائی کے لیے پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو بھجوا دیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کا حکم دیا، ہائیکورٹ کے فیصلہ کو صرف اس حد تک چیلنج کیا۔
جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ نیب کی کاروائیاں بد نیتی پر مبنی ہے، نیب اپنے ادارے کا نام دیکھے، اس کے تفتیشی افسر کو عدالتوں میں بولنے کا طریقہ تک نہیں آتا۔
سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر کے بیان پرنیب اپیل نمٹا دی۔