بڑی مشہور کہاوت ہے کہ جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو بٹیرے دانہ چگنے کے لئے اکھٹے ہوجاتے ہیں۔ یہی کچھ حالات اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دیکھنے میں آ رہے ہیں، جہاں اس وقت کانگریس مین ٹام سوازی کی قیادت میں تین رکنی کانگریشنل وفد پاکستانی حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں کے لئے موجود ہے۔
کانگریشنل وفد میں ٹام سوازی کے علاوہ جیک برگمین اور جوناتھن جیکسن موجود ہیں جو کلچرل ایکسچینج پروگرام کے تحت پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ کانگریس وومن شیلا جیکسن کے انتقال کے بعد ٹام سوازی نے پاکستانی کاکس کی صدارت سنبھالی تھی اور یہ دورہ کافی عرصے سے طے شدہ تھا۔ کلچرل ایکسچینج پروگرام کے تحت مہمان کانگریس اراکین کے دورے کا اہتمام اور اخراجات میزبان ملک کی ذمہ داری ہوتا ہے اور یہ ایک پرانی روایت ہے۔ کانگریس اراکین نے اپنے اس دورہ میں پاکستان کی اعلیٰ سویلین اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں اور صدر ٹرمپ کے ایک مشکل دور میں پاک امریکا تعلقات کی بہتری کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا ہے۔ کانگریس اراکین کی اہم ملاقاتوں میں کیا بات چیت ہوئی اس پر بہت جلد تفصیلات سامنے آئیں گی لیکن سب سے دلچسپ معاملہ اس وقت یہ ہے کہ کانگریس اراکین کے اس دورہ پاکستان کا کریڈٹ لینے کے لئے امریکا میں رہنے والے پاکستانیوں کی ایک بڑی کھیپ اسلام آباد میں موجود ہے اور ہر شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس دورے کا اہتمام اس کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
اسلام آباد میں جمع دو درجن سے زائد پاکستانی امریکی اپنی لڑائیاں اسلام آباد لے کر پہنچے ہوئے ہیں اور حکومتی عہدیدران ان کی الگ الگ دعوتیں اڑا رہے ہیں۔ امریکا سے گئے ہوئے چھوٹے موٹے گروہ دورے پر آئے ہوئے کانگریس اراکین کے ساتھ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر مقابلے میں مصروف ہیں، یہاں تک کہ ایک صاحب نے کانگریس اراکین کی ایک سیاسی ملاقات میں سیلفی لے کر فیس بک پر لکھا کہ "وہ اور ان کے گرو" واحد دو افراد ہیں جو کانگریس اراکین کے اس دورے میں پاکستانی امریکیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں حالانکہ امریکا میں بسنے والے بیشتر پاکستانی امریکی اور تنظیمیں اور ان کے ذاتی دوست ان سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔ بہرحال ان کے مطابق وہ اور ان کے گرو اس دورے کے روحِ رواں ہیں۔
ان صاحب کا مخالف گروپ بھی ان سے کم نہیں، اس گروپ نے بھی درجنوں تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ دورہ صرف ان ہی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ کچھ پاکستانی امریکی ذاتی حیثیت میں بھی پاکستانی حکومتی اراکین کو یقین دلانے کی کوشش کرتے رہے کہ بس صرف وہ ہی ہیں جنھوں نے اس دورے کو ممکن بنایا۔ حیرانگی کی انتہا اس پر بھی ہوئی کہ امریکا میں بیوٹی پارلرز، اوبر، اور ریستوران چلانے والے بھی ان دعوتوں میں نظر آئے۔ تھوڑی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان افراد نے تمام مخالف پارٹیوں سے مال سمیٹ کر ان سے وفاداری کا عہد کرتے ہوئے ٹکٹ اور ہوٹلز لیے اور پاکستان جا کر تمام مخالف پارٹیوں کی دعوت اڑائی، فائدہ یہ ہوا کہ ہر دعوت میں پاکستانی امریکیوں کی بڑی تعداد نظر آئی۔
تمام پاکستانی امریکی مخالفین میں سب سے بڑا مقابلہ تھا کہ سپہ سالار آرمی چیف کی دعوت میں کون جائے گا۔ ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا لیکن کانگریس اراکین کے اعزاز میں آرمی چیف کی دعوت میں کوئی پر بھی نہیں مار سکا۔
ان سب حالات کو دیکھ کر پاکستان کے سیاسی اور عسکری حلقے جہاں مزے لے رہے ہیں وہیں ماتم بھی منا رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستانی حکومت اس اہم دورے میں اپنے طور پر ایسے امریکی پاکستانیوں کو مدعو کرتی جو واقعی کیمروں کے پیچھے رہ کر پاکستان اور امریکا کی تعلقات کی بہتری کے لئے کام کرتے ہیں۔ اس میں اگر پاکستانی سفارتخانہ بھی تھوڑی کوشش کرتا تو ایسا ممکن ہو سکتا تھا لیکن اس بار بھی ہمیشہ کی طرح فصلی بٹیروں نے پکی پکائی فصل کا صفایا کر دیا۔