پچھلے ایک ہفتے سے وطنِ عزیز کے حالات خاصے تشویش ناک رہے ہیں۔ ہیئتِ مقتدرہ کی بغل بچہ جماعت تحریک لبیک ( کرین پارٹی) ریاستی زیرِ عتاب میں ہے۔ اس جماعت کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ طاقت وروں کے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلی ہے، جو ان کی منظوری کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چلتی۔
غزہ میں جنگ لگ بھگ ڈیڑھ سال سے جاری ہے۔ وہاں ہلاکتوں کی تعداد ستر ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اب جبکہ غزہ میں امن معاہدہ ہو چکا، اسرائیل اور حماس دونوں کی جانب سے اس معاہدے کا نہ صرف خیرمقدم کیا گیا بلکہ اس کی شرائط پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے — تو پھر ایسی صورت میں کرین پارٹی نے احتجاج کی بے وقت کی راگنی کیوں الاپنی شروع کر دی؟ امریکی سفارت خانے کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیوں کیا گیا؟
ڈیڑھ سال سے آپ خاموش تھے، یکایک انگڑائی لے کر اب کیوں جاگ گئے؟ یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے۔ کیا یہ آپ کی مرکزی قیادت کا فیصلہ تھا؟ ماضی کا تجزیہ بتاتا ہے کہ آپ کی قیادت فیصلے ساز نہیں ہوتی؛ جب تک آپ کو ہیئتِ مقتدرہ کی طرف سے اشارہ نہیں ملتا، آپ حرکت میں نہیں آتے۔ تو اب یہ اشارہ کس نے دیا؟
اور پھر مریدکے میں جو آپ کے ساتھ ہوا، وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ کرین پارٹی کی مرکزی قیادت — سعد رضوی اور انس رضوی — تا دمِ تحریر لاپتہ ہیں۔ پولیس اور کرین پارٹی، دونوں اطراف سے بے پناہ تشدد ہوا۔ پولیس اہلکار بھی مارے گئے اور زخمی ہوئے، جبکہ کرین پارٹی کے کارکنوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
کرین پارٹی شدت پسند سوچ رکھتی ہے اور اکثر تشدد کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ ماضی میں وہ پولیس اور صحافیوں پر بھی تشدد کر چکی ہے۔ راقم کو 2021 میں لاہور میں کرین پارٹی کے احتجاج کی کوریج کے دوران ان کے کارکنوں کے ہاتھوں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، میرا موبائل چھن لیا گیا۔ پھر انہی کا ایک رہنما، حکیم حسن، مجھے پہچان گیا اور شدت پسندوں کے نرغے سے نکال کر مسجد رحمت العالمین لے گیا۔
اب صورتِ حال بدل چکی ہے۔ کرین پارٹی پر پہلی بار ریاست کی طرف سے اس قدر خوفناک آپریشن کیا گیا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کرین پارٹی پنجاب میں ایک سیاسی حقیقت بن چکی ہے، اور بریلوی مکتبۂ فکر کا ووٹ اس کے ساتھ ہے۔ پنجاب میں بریلوی مکتبہ فکر کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ پہلے یہ تاثر تھا کہ صرف دیوبندی فکر ہی پرتشدد راستہ اختیار کرتی ہے، مگر کرین پارٹی کے وجود میں آنے کے بعد بریلوی بھی شدت پسند ہو چکے ہیں، جو ایک نہایت تشویش ناک صورتِ حال ہے۔
ریاست کے شدت پسند رویّے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔ کرین پارٹی کو ہیئتِ مقتدرہ کے اثر سے نکل کر خودمختار فیصلے کرنے ہوں گے۔
حالیہ خوفناک ریاستی آپریشن کے بعد کیا کرین پارٹی اپنی پرتشدد سوچ بدل کر ایک سیاسی جماعت کی طرح عمل کرے گی؟ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا۔ تاہم ایک بات نوشتۂ دیوار ہے — ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی جماعت پر، 26 نومبر کو اسلام آباد میں تحریکِ انصاف پر، یا اب مریدکے میں کرین پارٹی پر — جب بھی خوفناک ریاستی تشدد ہوا، حکمران جماعت ہمیشہ مسلم لیگ نون ہی رہی۔