پچھلی کئی دہائیوں سے ہر سال سالانہ وفاقی بجٹ اور فنانس بل کی تیاری سے قبل روایتی تجاویز کے علاوہ ٹیکس نظام میں جامع ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے لیے ٹھوس تجاویز میڈیا میں سامنے آتی ہیں۔ اپریل 2021 میں، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) نے، اس وقت کے متحرک وائس چانسلر، ندیم الحق کی، قیادت میں پائیدار تیز تر اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے، ایک اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا۔ اس پر عمل درامد کی صورت میں مالیاتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا تھا، لیکن اس کے بعد سے منتخب حکومتوں نے اس اہم تجویز کو نظر انداز کرتے ہوئے چار بجٹ پیش کیے ۔
موجودہ حکومت، تیز تر ترقی سے خائف ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت اس کی زیر نگرانی، اپنے دوسرے بجٹ کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہے۔ یہ بات بالکل عیاں ہے کہ اب کے برس بجٹ میں کسی بھی تیز رفتار اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر غور نہیں ہو گا۔
متعدد اداروں کی روایتی تجاویز، جو کہ ہر سال سالانہ بجٹ سے پہلے موجودہ ٹیکس قوانین میں محض تبدیلیوں کی تجویز کرتی ہیں، ، ہمیشہ ہی بے سود ثابت ہوئی ہیں، اب کے سال بھی یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گی۔ کئی دہائیوں سے، تمام حکومتوں، سول یا فوجی، کے پالیسی سازوں نے ٹیکس کے نظام کو سادہ، منصفانہ اور موثر بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات کو نظر انداز کیا ہے ۔ 2008 میں جمہوریت کی صبح نو ( کیا واقعی؟) کے بعد سے، نام نہاد منتخب حکومتوں میں سے کسی نے بھی، ٹیکس پالیسی/انتظامیہ میں ضروری اور طویل عرصے سے تاخیر کا شکار، اصلاحات نہیں کیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی حکومت نے 2013-18 میں اپنی پیش رو حکومت کی طرح دور حکومت کے اختتام پر پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اورقرضاجات کا اضافہ کیا ۔ اقتدار میں آنے سے پہلے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک کو درپیش ہر بیماری کا "حل" رکھنے کے بڑے دعوے کیے تھے۔
2018-2022 تک، پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت نے مسائل کے حل میں تو کوئی پیش رفت نہیں کی، لیکن ہر چیز کا الزام پی ایم ایل این پر عائد کرتی رہی! یہ ان کا پسندیدہ منترا تھا۔، وزیر اعظم سے لے کر سوشل میڈیا پر کارکنوں کی پوسٹوں،اور ٹی وی ٹاک شوز میں شرکت کرنے والے "ترجمانون " تک یہی دِلپسند مشغلہ رہا ۔
مالیاتی اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کے دوہرےعذاب اور اس کے ساتھ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 2008 کے بعد آنے والی حکومتوں نے بغیر کسی کامیابی کے اس گرداب سے نکلنے کے لیے بین الاقوامی قرض دہندگان سے اربوں ڈالرز کا قرضہ لیا۔ بلا سوچے سمجھے قرض لینا اور بے جا خرچ کرنا ہماری مالی بدانتظامی کی جڑ ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن پاک سرزمین میں اصل طاقت رکھنے والے اپنے فوائد سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں جس کے لیے ریاست کے پاس لامتناہی قرضے لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں!
جو چیز صورتحال کو مزید تکلیف دہ بناتی ہے وہ ہے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی نااہلی اور دنیا کے پانچویں سب سے بڑی آبادی والے ملک کے ٹیکس کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں صوبائی ٹیکس حکام کی نااہلی!
ایف بی آر کا موجودہ فنکشنل سسٹم جس نے سرکل بیسڈ سسٹم کی جگہ لی وہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ غیردستاویزی کاروباری لین دین نے ان لینڈ ریونیو سروس (IRS) کو مکمل طور پر غیر موثر کر دیا ہے۔ دوسرا بہت اہم مسئلہ امیروں اور طاقتوروں پر ٹیکس لگانے کے لیے سیاسی قوت کار (political will) کی کمی اور انہیں محصولات میں بے مثال چھوٹ دینا ہے۔
انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 حد سے زیادہ ود ہولڈنگ ٹیکس، فرضی اور/یا کم از کم ٹیکسوں پر انحصار کرتا ہے، جو کہ اصل میں رجعت پسند ہیں۔ یہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی درجنوں دفعات کے ذریعے ماخذ پر جمع کیے جاتے ہیں۔ ایف بی آر کی وصولی میں بالواسطہ ٹیکس 70 فیصد سے زیادہ ہیں اگر ہم اس میں انکم ٹیکس قانون کے تحت لگائے گئے قابل منتقل ٹیکسوں کو بھی شامل کر لیں۔اس طرح کے ٹیکسز سے معاشی ترقی اور غریب طبقات کو نقصان پہنچتا ہے ۔
ٹیکس چوروں کے تئیں نرمی اور تحفظ کی پالیسی تمام حکومتوں کے تحت جاری رہی ہے۔سویلین اور فوجی حکومتیں یکساں پر معافی اور اثاثوں کو سفید کرنے کی سکیموں کو جاری کرتے رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ ، 1979 کے بعد سے انگنت مراعات کے ذریعے،ٹیکس چوروں کو کالا دھن کو سفید کرنے کے لیے آزادانہ ہاتھ، ٹیکس ایمنسٹیز (tax amnesties)، قانونی ضوابطی احکامات (SROs) کے ذریعے قرضاجات کی معافی ، اور ٹیکس سے استثنیٰ فوائد، طاقتور طبقوں کو مفت پلاٹ اور مراعات نے، انکم ٹیکس کی بنیاد کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے۔
ایک مقررہ وقت پر ٹیکس کی صلاحیت (potential) کا تعین کرنے کے لیے، پاکستان میں ماہرین اقتصادیات عام طور پر رسمی اور دستاویزی معیشت سے متعلق اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہیں، لیکن متوازی معیشت کے حجم کے بارے میں کوئی سنجیدہ مطالعہ دستیاب نہیں ہے۔ سب سے مشکل چیلنج یہ ہے کہ قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کی متوازی معیشت پر ٹیکس کیسے لگایا جائے۔ یہ اس حقیقت سے عیاں ہے کہ ہول سیل اور ریٹیل شعبے جی ڈی پی میں تقریباً 19 فیصد حصہ ڈالتے ہیں، لیکن ٹیکسوں میں ان کا حصہ کل وصولی کے 5 فیصد سے بھی کم ہے۔
غیر قانونی متوازی معیشت کے بارے میں تو کسی قسم کی سرکاری رپورٹ موجود ہی نہیں ہے۔اس کا تخمینہ کئی سال پہلےراقم نےقابل اعتماد اعداد و شمار کی روشنی میں اپنی کتاب (پاکستان: حشیش سے ہیروئن تک) میں 1985 میں 1500 کھرب روپے بیان کیا تھا، مگر کسی بھی حکومت نے اس کی طرف توجّہ نہیں دی۔ وجہ بالکل عیاں ہے کہ وطن عزیز میں حکمران اور طاقتور افراد خود اس میں ملوث رہے ہیں۔ اس کے بعد کی تصنیف (Pakistan: Drug-trap to Debt-trap) 2000 میں غیر قانونی معیشت کا حجم 5000 کھرب روپے تک پہنچ چکا تھا ۔
امیر غیر حاضر زمینداروں نے مالی سال 2019-20 میں 4.75 ٹریلین روپے کے کل قومی ٹیکس وصولی(GDP کا %11.4) میں صرف %0.6 زرعی انکم ٹیکس ادا کیا۔ اور یہ تناسب پچھلے پانچ سالوں کے دوران مزید کم ہوا ہے۔ 2023-24 میں کل ٹیکس وصولی 10.085 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 9.5%) تھی اور زرعی ٹیکس کا حصہ جی ڈی پی کے %0.45 تک کم تھا!
آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کی طرف سے ٹیکس اصلاحات یا ٹیکس نظام کو آسان بنانے کا کوئی ایجنڈا ٹیکس کی تعمیل کو بہتر نہیں بنا سکتا، جب تک کہ ٹیکس مشینری کی کارکردگی، تکنیکی قابلیت، دیانت داری اور قابلیت نہ ہو کہ وہ بغیر کسی سیاسی مداخلت اور ناجائز مقاصد کے ٹیکس چوروں کو مسلسل تعاقب اور سزا دے سکے۔ ان لینڈ ریونیو سروس میں فعال ڈھانچہ ان مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایف بی آر کے کام کے مجموعی حالات کو بہتر بنانے اور افسران اور عملے کی تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر کبھی کسی نے زور نہیں دیا۔ کیا ٹیکس دہندگان کے احترام اور شائستگی کو بڑھانے کے لئے واقعی بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہے؟ کیا یہ مسئلہ مارکیٹ اجرت یا غیر ملکی فنڈنگ یا مشورہ سے متعلق ہے؟ مضامین، کتابوں، ویبینارز، سیمینارز وغیرہ میں، کوئی بھی ان اہم مسائل کو نہیں اٹھاتا ، بلکہ روایتی تجاویز پیش کرتا رہتا ہے جو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔
ٹیکس اصلاحات کا بنیادی عنصر ایک موثر اور قابل انتظامیہ فراہم کرنا ہے، جو پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتا۔ ٹیکس انتظامیہ، وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر، ڈیجیٹائزیشن، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی مہارت کی مطلوبہ سطح کی کمی ہے۔
جامع ٹیکس اصلاحات سے متعلق کوئی بھی مشق وقتی معاملہ نہیں ہو سکتی اور اس کا مطلب محض ٹیکس قوانین میں ردوبدل کرنا یا یہاں اور وہاں کاسمیٹک تبدیلیاں تجویز کرنا نہیں ہے۔ اصلاحات صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہیں جب پورے نظام کا جامع تجزیہ کیا جائے، جس میں ٹیکس قوانین ، ٹیکس انتظامیہ، معیشت کی حالت، ٹیکس دہندگان کا رویہ، ملک کی آمدنی کی ضروریات اور دیگر تمام متعلقہ پہلو شامل ہوں۔
ہم پہلے ایک موثر اور قابل عمل ڈھانچہ قائم کیے بغیر ٹیکس اصلاحات کی خواہش رکھتے ہیں۔ کوئی سویڈن کی ٹیکس ایجنسی Skatteverket کی مثال دے سکتا ہے۔ یہ ہر فرد، فطری یا عدالتی ڈیٹا کو برقرار رکھتا ہے۔ Skatteverket حکومت کو جوابدہ ہے، لیکن ایک خود مختار عوامی اتھارٹی کے طور پر کام کرتا ہے۔
ہمیں 'نیشنل ٹیکس اتھارٹی' قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ خیال 2017 میں 'نیڈ فار نیشنل ٹیکس اتھارٹی' میں بیان کیا گیا تھا اور بلیو پرنٹ 2024 میں سینیٹ آف پاکستان میں پیش کیا گیا تھا۔ اکیلے یہ اختراع بڑے پیمانے پر چوری کا مقابلہ کر سکتی ہے ،جس کا تخمینہ2016 کی اپنی ملکی رپورٹ میں عالمی مالیاتی ادارے کی طرف سے 3 ٹریلین روپے تھا۔ اس وقت یہ 15 ٹریلین روپے ہے ۔
یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں، فوجی اور سویلین یکساں طور پر، متوازی معیشت اور مالیاتی خسارے کے دوہرے خطرات سے نمٹنے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستان کی پوشیدہ معیشت میں کیا پوشیدہ ہے؟ احمد گلزار، نوویرہ جنید اور عدنان حیدر کی اسٹڈی میں اس کے سائز، اسباب، مسائل اور مضمرات سے پتہ چلتا ہے کہ بدعنوانی اور ٹیکس چوری نہ صرف غیر رسمی معیشت کے حجم میں توسیع کا باعث بن رہے ہیں بلکہ شرح نمو کو بھی روک رہے ہیں، جس سے معاشی بے یقینی، آمدنی میں عدم مساوات اور غربت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ PIDE کی طرف سے اس مطالعہ کو پوشیدہ معیشت کے اصل سائز اور معیشت اور ترقی پر اس کے اثرات کی تازہ اعداد و شمار سے تعین کی ضرورت ہے۔
موجودہ ٹیکس نظام پوشیدہ معیشت پر ٹیکس نہیں لگا رہا ہے بلکہ 196 ملین موبائل صارفین سے 15/75 فیصد ایڈوانس/ایڈجسٹبل انکم ٹیکس وصول کر رہا ہے جس میں 145 ملین براڈ بینڈ صارفین شامل ہیں۔ نتیجتاً، آمدنی اور دولت کی تقسیم میں تفاوت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دیے گئے منظر نامے کے تحت، ترقی پر مبنی ٹیکسیشن کی طرف منتقل ہو کر کیک کے سائز کو بڑھانے کے لیے وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر کوششوں کی ضرورت ہے (نئے ٹیکس ماڈل کی ضرورت ہے، بزنس ریکارڈر، 26 فروری 2021)۔
جدید ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے، موجودہ حکومت کو آنے والے بجٹ میں ٹیکس کا آسان نظام فراہم کرنا ہوگا جس کے لیے ایک جامع ماڈل آن لائن دستیاب ہے۔ یہ وفاقی سطح پر 30 ٹریلین روپے وصولی کے لئے framework فراہم کرتا ہے ، اور معاشی ترقی کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے ساتھ۔ ہمارے قانون سازوں کو آگے آنا چاہیے اور آمدنی، سرمائے اور کھپت کے ٹیکس کے درمیان ایک معقول توازن حاصل کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔ انہیں سماجی منافع سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے غلط ڈیزائن کردہ سماجی پروگراموں پر خرچ کرنے کی حمایت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ انسانی سرمایہ (مثلاً تعلیم، تربیت اور صحت) پیدا کرنے میں اہم سرمایہ کاری اور پیداواری اور ترقی کو بڑھانے کے لیے ضروری عوامی انفراسٹرکچر پر خرچ کرنا چاہیے۔
روزمرہ استعمال کی اشیاء کی مہنگائی سے پسے ہوئے غریب، بے روزگار اور بے بس عوام اقتدار میں رہنے والے تمام لوگوں سے وضاحت طلب کرتے ہیں:
• مراعات یافتہ لوگ اپنے ہی غریب بھائیوں سے "ٹیکس" کے طور پر جمع کی جانے والی رقم پر کیوں مسلسل ہر طرح کی سہولیات حاصل کر رہے ہیں؟
• ایسا کیوں ہے کہ تمام ٹیکس دہندگان کو، قطع نظر آمدنی کی مقدار کے ساتھ، ریٹرن کے ساتھ ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرانے کی ضرورت ہے، جب کہ امیر اور طاقتور، مختلف ریاستی اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز، بھاری اثاثے/آمدنی کے حامل، اپنے اثاثوں/ واجبات کا اعلان عام کرنے کے پابند نہیں ؟
• وہ وراثتی ٹیکس، گفٹ ٹیکس، ویلتھ ٹیکس وغیرہ جیسے ترقی پسند ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کیوں کرتے ہیں لیکن پٹرولیم مصنوعات اور یوٹیلیٹیز اور روزمرہ استعمال کی بہت سی اشیاء پر حد سے زیادہ ٹیکس لگانے میں شرم محسوس نہیں کرتے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ عام لوگ استعمال کرتے ہیں؟
• کیوں نہ غریبوں کو سبسڈی دی جائے اور امیروں پر ویلتھ ٹیکس لگا کر نقصان پورا کیا جائے؟
• کیوں نہ سرکاری ملازمین، ججوں اور سرکاری کارپوریشنوں میں کام کرنے والوں کی تمام مراعات کو کیش میں بدل دیا جائے اور مہنگے ترین علاقوں میں واقع سرکاری افسروں کی رہائش گاہوں (GORs) اور قلعہ بند محلاتی مکانات کے بجائے عام لوگوں کے درمیان رہنے کو کہا جائے؟
• مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے مراعات یافتہ طبقے کے غیر ضروری اور اسراف اخراجات کو کیوں کم نہیں کیا جائے ؟
• کیوں نہ وزیروں/مملکت کے وزراء/مشیروں کی تعداد میں کمی کی جائے؟
• خوشامد کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر نالائق اور نااہل بیوروکریٹس کیوں اور کب تک بھرتی کیے جاتے رہیں گے ؟
ایف بی آر اور صوبائی ٹیکس حکام تندہی سے ٹیکس وصول نہیں کر رہے۔ ہر سطح پر ٹیکس میں بہت بڑا فرق (gap) موجود ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے تیار کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں 3.5 ملین افراد (انتہائی امیر) تھے ، جن کی آمدنی کی سطح کے مطابق کم از کم سالانہ ٹیکس وصول8,000 بلین بنتی تھی۔ اگر ہم تازہ ترین اعداد و شمار لیں اور مختلف آمدنی کی سطح (1.5 ملین سے 6 ملین روپے سالانہ) کے تحت آنے والے 5.5 ملین افراد کا تخمینہ لگائیں تو انکم ٹیکس کی وصولی 16,000 ارب روپے سے کم نہیں ہونی چاہئے۔
کارپوریٹ باڈیز اور دیگر غیر انفرادی ٹیکس دہندگان کے معاملے میں، وصولی تقریباً 2000 بلین روپے ہونی چاہیے ۔ اس کا مطلب ہے کہ کل انکم ٹیکس کی وصولی 18,000 ارب روپے سے کم نہیں ہونی چاہیے۔
جہاں تک ایف بی آر کی جانب سے گزشتہ مالی سال کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا تعلق ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے، "مالی سال 2023-24 کو ایک تاریخی سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں وفاقی ٹیکس کی وصولی ایک بے مثال سنگ میل تک پہنچی، جس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 9 ٹریلین روپے کا ہندسہ عبور کیا"، یہ بات قابل ذکر ہے کہ کل ٹیکس کی وصولی 4530.7 ارب روپے کی مجموعی آمدنی میں سے صرف 15 قسم کے ود ہولڈنگ ٹیکس کا حصہ2183.8 بلین روپے تھا ۔ بقیہ ودہولڈنگ پروویژنز سے 556.275 بلین روپے حاصل ہوئے (کل 2740 ارب روپے)۔
ایڈوانس انکم ٹیکس 1530 ارب روپے ادا کیا گیا اور ریٹرنس (returns)کے ساتھ 162 ارب روپے اکٹھے ہوئے۔
ایف بی آر نے صرف 126.8بلین روپے (31.8 بلین روپے کے بقایا جات اور موجودہ ڈیمانڈ میں سے 95 بلین روپے) حاصل کیے جو کہ کل انکم ٹیکس وصولی کا صرف 2.8 فیصد ہے۔
ناقدین کی یہ دلیل کہ ان لینڈ ریونیو سروس کا بہت بڑا عملہ اپنی کوششوں سے کل انکم ٹیکس وصولی میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتا ہے ریونیو ڈویژن 2024 سالانہ کتاب اور سالانہ کارکردگی رپورٹ (2023-24) میں موجود اعداد کی روشنی میں تقویت پا تا ہے، جس پر 11 جنوری 2025 کو ان کالموں میں شائع ہونے والے مضمون میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔
مذکورہ بالا حقیقت، ٹیکس کی اصل صلاحیت کو حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کی جانب سے نہ ہونے کے برابر حصہ کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے امیروں کی اکثریت نان فائلرز (non-filers) ہے۔ ان کے پاس کافی غیر اعلانیہ، غیر ٹیکس شدہ دولت ہے اور اس ملک پر حکمرانی کرنے کا حق بھی جماتے ہیں ۔ وہ نان فائلرز کے طور پر ماخذ (source) پر ٹیکس ادا کرتے ہیں، لیکن ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی طرف مائل نہیں ہوتے، یہ جانتے ہوئے کہ ان کے لیے عام معافیاں موجود ہوں گی۔ یہ پاکستان کو درپیش اصل مخمصہ ہے۔ انتہائی امیر لوگ ٹیکسوں کا بوجھ نہیں بانٹ رہے ہیں۔ مغرب اور امریکہ میں، امیر ترین %10 انکم ٹیکس کی وصولی میں بہت زیادہ حصہ ڈالتے ہیں۔ پاکستان میں بالواسطہ ٹیکس (سیلز ٹیکس اور ایکسائز) کے تحت ٹیکس کی بنیاد بھی انتہائی محدود ہے۔ پورے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا تقریباً 85 فیصد سرفہرست 100 کمپنیوں سے آتا ہے۔
ہمیں اپنے پورے ٹیکس نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمارے مخصوص ماحول میں، کم شرحوں کے ساتھ ایک سادہ، منصفانہ اور وسیع البنیاد ٹیکس کام کرے گا بشرطیکہ اس میں فول پروف نفاذ کی صلاحیت ہو۔
افراد کی ہر قسم کی آمدنی پر %10 انکم ٹیکس ہونا چاہیے (50 ملین روپے سے زیادہ خالص دولت پر متبادل کم از کم %2.5)، کمپنیوں اور دیگر اداروں پر %20۔ ہمیں تمام اشیا اور خدمات پر %8 سیلز ٹیکس لگانا چاہیے (برآمد کنندگان کے لیے %0 ٹیکس)۔ اس ٹیکس نظام سے 30 ٹریلین روپے کا ٹیکس ملے گا: صرف دو ٹیکسوں سے (18 ٹریلین روپے انکم ٹیکس، 12 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس کے طور پر)!
تمام اشیاء پر %5 کسٹمز ڈیوٹی لگا کر مزید ایک ٹریلین روپے جمع کر سکتے ہیں اور کئی پر تعیش اشیا سگریٹ وغیرہ پر ایکسائز ڈیوٹی ٹیکس سے 800 ارب روپے ۔
امید ہے کہ آنے والے بجٹ میں ٹیکس قوانین اور طریقہ کار میں بے جا تبدیلیوں سے گریز کیا جائے گا کیونکہ ان سے ٹیکس وصولی میں بہتری نہیں آسکتی۔ ٹیکس نظام کی اصل کمزوری ناقص نفاذ میں ہے جس میں نااہلی اور بدعنوانی شامل ہے۔ ٹیکس قوانین میں ہر سال فنانس بل کے ذریعے اور اس کے درمیان ضمنی بلوں اور/یا قانونی ریگولیٹری آرڈرز (SROs) کے ذریعے بے رحمی سے ترامیم کی جاتی ہیں۔ یہ مسئلہ کا حل نہیں بلکہ وجہ ہے۔
وقت کی ضرورت اس نظام کی مکمل از سر نو انجینئرنگ اور طویل مدتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات ہیں، جنہیں قلیل مدتی مجبوریوں اور/یا آئی ایم ایف کے حکم کے نام پر سال بہ سال موخر کیا جاتا ہے۔