Get Alerts

جاوید جیدی: “ اسے کہنا کہ لوٹ آئے”

اس رات جیدی دی نیوز سے آف تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے گھر پر کھانا بنایا۔ بہت سی سگریٹیں پئیں—کچی۔ فجر تک، جھنگ کی زبان میں دھمی تک شمع گل—شاعری سناتا رہا، سوز سے۔ پھر فجر کی نماز پڑھ کر سو گیا۔ میں فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ جیدی رومانوی تھا یا انقلابی۔

جاوید جیدی: “ اسے کہنا کہ لوٹ آئے”

اس کے اندر میں جو جھنگ بستا تھا وہ ہیر والا جھنگ تھا۔ امن، آشتی، پیار، محبت والا جھنگ—جہاں تب فرقہ واریت کی آگ ابھی نہیں لگی تھی۔ جو جھنگ اب بھی ہیر کی مزار پر ہے۔ جو اللہ دتّا لونی وال، منصور ملنگی کے گیتوں، غزلوں، ٹپوں میں ہے۔ جو جھنگ جاوید جیدی کی شاعری اور اس کے قہقہوں میں تھا۔ وہ مجھ سے کہتا تھا جب کونجوں کی ڈار میرے شہر پر بادل بن کر ٹھہری ہوتی تھی، جب اپنی کسی بچھڑی ہوئی، مری ہوئی کونج پر کرلاتی تھی۔
جیدی—میرا یار، جاوید احمد جیدی—مر گیا۔
لگتا ہے ہم اس کے یار بیلی بچھڑے ہوئے جیدی پر کرلاتی کونجیں ہیں۔

وہ کہتا تھا کہ جب اس کے جھنگ میں نقارے کی آواز بجتی تھی تو سمجھا جاتا تھا آج کوئی سید مر گیا ہے۔ جب بیری والی مسجد، بیری والی مسجد تھی۔ جب کھیوا گیٹ ابھی بابِ عمر نہیں بنا تھا—نہ ہی جھنگ صدر میں داخل ہونے والا گیٹ ابھی بابِ علی۔ جب کوئی مر جاتا تو اس کے لیے مسجدوں سے ابھی یہ اعلان نہیں ہوتے تھے کہ جنازے کی نماز میں کوئی شیعہ شرکت کرنے کی زحمت نہ کرے۔

اسے اپنے جڑواں شہروں—جھنگ اور شورکوٹ—کی کہانی “ٹیل آف ٹو سٹیز” کی طرح اپنی انگلیوں کی پوروں پر یاد تھی۔ شہر کے آباد ہونے، اجڑنے اور فرقہ وارانہ جنگ لگنے کی کئی کہانیاں۔ وہ یہ کہانیاں لکھ نہیں سکتا تھا۔ اس نے مجھے کہا، “تم جاؤ، میرے دونوں شہروں کو خود جا کر دیکھو اور سنو اور پھر لکھو۔”

پھر میں، مظہر زیدی اور فرجاد نبی نکلے تھے۔ جھنگ اور شورکوٹ میں پورا ایک ہفتہ گلی گلی گھومے تھے۔ شیعہ، سنی لوگوں سے ملے تھے۔ جب دو شہروں کی کہانی کے ساتھ واپس آئے تھے تو کہانی میری پھیل گئی تھی—پنجاب میں فرقہ وارانہ خونریزیوں کی تاریخ۔ جب جھنگ کا یگانہ روزگار افسانہ نگار رام ریاض بھی اپنے آخری دنوں میں سپاہِ صحابہ کا رکن بن گیا ہوا تھا۔

اس افسانہ نگار نے اپنے نام کے آگے رام اس لیے لگایا تھا کہ کہتے ہیں وہ ایک ہندو لڑکی سے پیار کرتا تھا جو بٹوارے میں جھنگ سے اپنے خاندان کے ساتھ ہندوستان نقلِ وطنی کر گئی تھی۔

ہم نے جو کہانی شورکوٹ سے شروع کی تھی وہ جنوبی پنجاب سے ہوتی ہوئی جھنگ سے چلتی لاہور میں بی بی پاک دامن، کربلا گامے شاہ، ٹھوکر نیاز بیگ اور حویلی حکیم نثار تک پہنچی۔ گھوڑے جھنگ سیال کے تھے اور ماتم لاہور کا۔

جیدی جب جوگ کا سوز لگا کر اپنی شاعری گاتا:
“کجھ وطناں دی گل سائیں ڈس
کیویں گھر گھر لگیاں باہیں ڈس”

جب میں اسلام آباد میں سندھی روزنامہ برسات کا نمائندہ بن کر گیا تو میری دوستیاں مظہر زیدی، فرجاد نبی، خاور مہدی، عامر متین، اعجاز احمد، شعیب بھٹہ، ظفراللہ خان اور سمیع ابراہیم سے ہوئیں۔ یہ دوستیاں کروانے میں مظہر زیدی اور زلفی—میرا دوست ذوالفقار ہالیپوٹو—آگے تھے۔ میں شاید تب اسلام آباد میں پہلا سندھی بولنے والا صحافی تھا۔

مظہر زیدی چونکہ نیوز راولپنڈی میں کام کرنے کے ساتھ نیوزلائن میں بھی لکھتا تھا، تو اسی طرح مظہر سے میری بالمشافہ ملاقات اسلام آباد میں ہوئی۔ مظہر نے مجھے جیدی سے ملوایا جو ان دنوں دی نیوز میں کام کرتا تھا۔ اس کے بھائی طاہر مہدی اور مدثر سے بھی۔

بینظیر بھٹو تب وزیر اعظم تھی، مگر اسے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی طرف سے بھی شدید مخالفت کا سامنا تھا۔ صحافی سخت پولرائزیشن کا شکار تھے۔ بینظیر اور آصف علی زرداری کے خلاف کئی محاذ کھلے ہوئے تھے۔ کچھ صحافی—سمیع ابراہیم، انور اقبال—جبکہ خاور مہدی تب صحافی تو نہیں تھا لیکن صحافیوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا اور پکا جیالا نما مبصر اور ہمعصر سیاسی تاریخ کا کہانیکار تھا—فکشن اور فیکٹس کا۔

چاچا صفدر ہمدانی (جن کی ٹیبل اکثر میریٹ کی نادیہ کافی شاپ میں لگی ہوتی تھی—اس میز کے گرد بیٹھنے والے لوگ صحیح معنوں میں انجمنِ مقتولانِ شب تھے)۔
جیدی جو خود کو ایک کالم کا صحافی کہتا تھا، لیکن انسان آٹھ کالم کا—زبردست دوست اور جمہوریت پر کوئی کمپرو مائز نہیں ہوگا والا آدمی۔ اس نے اور ان سارے ساتھیوں نے ضیا الحق کا زمانہ نہ فقط دیکھا تھا بلکہ اس کی فوجی آمریت سے لڑائی اپنی ذاتی لڑائی سمجھ کر لڑی اور اس کی پاداش میں بہت کچھ جھیلا۔

او ہتھکڑی او ہتھکڑی
کب تک گھسیٹی جائے گی
اس بے حیا کی کھوپڑی
جھوٹے خدا کی کھوپڑی
جنرل ضیا کی کھوپڑی

یہ آتش فشاں نظم ایشیا کے ماڈل ڈکٹیٹر کے دنوں میں صرف جیدی ہی پڑھ سکتا تھا—وہ بھی پنجاب یونیورسٹی میں۔

اسی دور میں جیدی کی آمریت مخالف شاعری پنجابی لوک شاعری بن گئی تھی—رومانس اور انقلاب کا مرقع۔

کنج رل کے کریئے سیل کڑے
ساڈے پیراں دے وچ نیل کڑے
جتھ موراں پھیریاں پاؤ دے سن
اتھے پھردے نے نیل جرنیل کڑے

جیدی سے جب میں اسلام آباد میں ملا یہ بینظیر حکومت کا دوسرا دور تھا۔ اور اسلام آباد آدھی شب کے گیدڑوں کا شہر تھا، کہ مڈ نائٹ جیکال آپریشن لیک ہو چکا تھا۔ ان دنوں پاکستانی جاسوسی ایجنسیوں میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ طاقتور بریگیڈیئر امتیاز عرف بلا (یہ تو بلو بلیوں کی بھی بے عزتی ہو گی) تھا جو اس وقت انٹیلیجنس بیورو کا سربراہ تھا۔ اسے ہتھکڑی لگا کر گرفتار کیا گیا تھا۔ جیدی نے کہا تھا:

“اصل میں بینظیر بھٹو کی حکومت کا آج پہلا دن ہے۔”

جیدی جیسے لوگ دنیا میں درجنوں میں بھی نہیں۔

جیدی انتہائی سیاسی طور پر باخبر، صحیح معنی میں ترقی پسند و جمہوریت پسند تھا، لیکن انسانی رشتوں اور دوستی میں نظریات حائل نہیں ہونے دیتا تھا۔ وہ صحافتی کمیونٹی میں ایک محبوب انسان تھا۔ اس نے شاہین صہبائی بارے ازراہِ تفنن کہا: “اس سے ہماری بڑی دوستی تھی، بڑی۔ پھر ایک دن یہ ہوا کہ اس نے پریس گیلری لکھنا شروع کر دی۔ اس کے ون لائنرز میں جھنگ کی جگت اور کاٹ تھی۔”

اگر میرے پاس جیدی کی وہ خوبصورت یاد کا ایک منظر ہو—جب ہم اسلام آباد سے ایک برستے، موسلادھار ساون والی رات راولپنڈی گئے تھے اور راولپنڈی کے محلّوں، گلیوں میں ڈرائیو کر رہے تھے اور کار کے ڈیک پر گلزار کا بھوپن ہزاریکا کی آمر آواز میں “دل ہوں ہوں کرے… اوہ چندرما” چل رہا تھا۔

اس رات جیدی دی نیوز سے آف تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے گھر پر کھانا بنایا۔ بہت سی سگریٹیں پئیں—کچی۔ فجر تک، جھنگ کی زبان میں دھمی تک شمع گل—شاعری سناتا رہا، سوز سے۔ پھر فجر کی نماز پڑھ کر سو گیا۔

میں فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ جیدی رومانوی تھا یا انقلابی۔
ایسے ہی اس کی شاعری بھی۔

گڑیا تونے دیکھا حال سریلوں کا
شام ہوئی اور روئے پانی جھیلوں کا
میرے ہاتھ میں چھوٹی سی اک گڑیا تھی
سامنے تھا اک ضدی بچہ—ذاتوں اور قبیلوں کا

آخر میں انتہائی جوگ کے انداز میں سوز سے عرش صدیقی کا “اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے” گاتا۔

دسمبر تو آ رہا ہے، لیکن جیدی نہیں رہا اس سیّارہ زمین پر۔

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے…
اسے کہنا کہ لوٹ آئے
—عرش صدیقی

اس جھنگ اور شورکوٹ میں نہ جیدی کا ماموں ماسٹر جمیل رہا، جو ان دونوں جڑواں شہروں اور ان کے آثارِ قدیمہ کی چلتی پھرتی تاریخ تھا۔ جو ہمیں شورکوٹ شہر سے باہر آثارِ قدیمہ کے ٹبّے پر چڑھ کر ان جڑواں شہروں کی تاریخ بتاتا تھا۔ نہ ہی جیدی کا چھوٹا بھائی—اور ہمارا اتنا ہی دوست—طارق تاری، جو اتنی سر میں ایک پنجابی لوک گیت گاتا تھا:

منڈے مر گئے کمائیاں کرکے
تے بانو تیرے بندے نہ بنے

ہم “بانو” نئی آئی ہوئی جمہوریت—اور اس کی سربراہ بینظیر—کو کہتے تھے۔
اور “منڈے” وہ سب تب کے لڑکے بالے—خاور مہدی، ظفراللہ خان، سمیع ابراہیم، عامر متین، اعجاز احمد، شعیب بھٹہ، حیدر رضوی، ہما علی، ثقلین امام، زلفی، ضمیر اور طارق—جن کا اس جمہوریت میں کوئی نہ کوئی کردار تھا۔ جن میں سے کئی نے فوجی آمریت سے لڑائی کو ذاتی لڑائی بنا کر لیا ہوا تھا۔