"چاغی لہولہان" کربلائے بلوچستان اور اہل کوفہ کی خاموشی

اسلام آباد میں بڑی تبدیلی آئی، رات دیر گئے تک عدالتوں کے دروازے کھلے رہے، جمہوریت و آئین کی جیت کی خوشیاں منائی گئیں مگر بلوچستان میں حالات بدل نہ سکے۔ بلوچستان سے وائرل تصاویر کے ساتھ "کربلاِ بلوچستان" کی کیپشن لکھا ہوا ہے۔ غم و غصہ، مظاہرے اور احتجاجوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ اب بھی پہلے کی طرح جاری ہے اور ملکی میڈیا حسب سابق و حسب روایت خاموش ہے۔ یہ مناظر بلوچستان کے لوگوں کو سوچھنے پر یقیناً مجبور کرتے ہیں کہ "اس پرچم کے سائے تلے" ہم ایک کیسے؟

پیر 18 اپریل کو بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں عوامی تحریک " بلوچستان کو حق دو" کی جانب سے شہدائے جیونی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجوں کا یہ نیا سلسلہ گزشتہ جمعرات سے بلوچستان کے مختلف شہروں میں چاغی واقعہ کے خلاف جارہے ہیں۔ اتوار کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے کراچی کوئٹہ شاہرہ کو بند کرکے احتجاج کیا گیا ہے۔ اسی طرح کوئٹہ اور تربت میں بھی چاغی واقعہ کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔



ضلع چاغی پاک افغان و ایران کا سرحدی ضلع ہے جہاں جمعرات سے یہ خبر سامنے آئی کہ پاک افغان سرحد پر سیکیوریٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے ایک ڈرائیو ہلاک ہوا تھا اور دو سو کے قریب گاڑیوں کو ناکارہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صحرا میں تین لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ جن کے متعلق بتایا جارہا ہے کہ یہ انہی ڈرائیورز کی ہیں جو بھوک اور پیاس کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ مبینہ فائرنگ سے ہلاک شدہ ڈرائیور حمیداللہ کی میت کو نوکنڈی ٹاؤن میں جب لایا گیا تو اس واقعہ کے خلاف نوکنڈی میں حالات کشیدہ ہوئے۔ مظاہرین نے قریبی چیک پوسٹ کے سامنے مظاہرہ کیا جہاں ایک بار پھر مظاہرین پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں آٹھ لوگ زخمی ہوئے۔

ایک عالمی نشریاتی ادارے کے مطابق حکام کی جانب سے موقف اپنایا گیا تھا کہ سیکیوریٹی فورسز نے ڈرائیور کو رُوکنے کا اشارہ کیا تھا لیکن انھوں نے گاڑی سیکیوریٹی فورسز پر چڑھانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں فائرنگ کی گئی تھی۔ اسی طرح نوکنڈی میں مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے حوالے سے بھی بتایا گیا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے سیکیورٹی چیک پوسٹ پر پتھراؤ کیا تھا جس کے نتیجے میں فائرنگ کی گئی تھی۔ اس واقعے کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاج و مظاہرے جاری تھے کہ آج پھر چاغی سے خبر آئی ہے کہ ایک بار پھر مظاہرین پر فائرنگ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں تقریبا آٹھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔



چاغی میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کو تقریبا 560 کلومیٹر دور صوباہی دارلحکومت کوئٹہ لے جایا گیا ہے۔ اس واقعہ کے خلاف بلوچستان بھر سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے لوگ سیکیوریٹی فورسز کے رویے اور پاکستانی میڈیا پر تنقید کر رہے ہیں۔ ملکی سیاست میں حالیہ تبدیلی کے بعد بھی بلوچستان میں کچھ بھی تبدیل ہوتا ہوا نہیں دکھ رہا۔ وہی لاشوں کے گرنے کا سلسلہ جاری، وہی رویے اور وفاقی جماعتوں کی وہی بے بسی۔ ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ اسلام آباد اور بلوچستان کے درمیان فاصلہ اس قدر طویل ہے کہ نہ تو بلوچستان کی سسکیاں وہاں تک جاتی ہیں اور نہ ہی وہاں کی تبدیلی یہاں تک پہنچ سکتی ہے۔

اس دور جدید میں بھی بلوچستان کو ایک ایسا انفارمیشن بلیک ہول بنایا گیا ہے جہاں سے کوئی خبر مکمل تصدیق کے ساتھ نہیں آتی۔ جہاں حیات بلوچ جیسے ایک طالب علم کو ماں باپ کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے ہو، جہاں ایک ایم فل اسکالر کو ایک تعلیمی ادارے سے کھلے عام جبراً گمشدہ کرکے کئی دن بعد منظر عام پر لایا جائے اور دہشت گرد دکھا کر حوالات میں ہتھکڑیاں پہنا کر قید کیا جائے۔ جہاں روزگار کے زرائع نہ ہوں۔ ایسے ماحول میں سچ وہی تصور کیا جائے گا جو طاقت ور کا کہتا ہو۔ لیکن ایسا کب تک؟



ان چند الفاظ کے لکھنے سے نہ تو رویوں میں تبدیلیاں آسکتی ہیں اور نہ بلوچستان میں جاری غم و غصہ، شدید نفرت اور درد کو بیان کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہاں نیا دور کے پلیٹ فارم سے یہ ایک چھوٹی سی زمہ داری شاید ادا کرنے کی کوشش ہو اور چند پڑھنے والوں تک یہ خبر پہچ سکے کہ بلوچستان کے لوگ اس وقت بلوچستان کو کربلا سے تشبہیہ دے رہے ہیں اور خاموش تماشائیوں کو اہل کوفہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ آج انٹرنیٹ کے اس زمانے میں یہ بہانہ قابل قبول نہیں ہوگا کہ سونے اور معدنیات کے کانوں کی سر زمین جہاں سیندک و ریکوڈک موجود ہیں، وہ علاقہ جہاں ایٹمی ہتھیاروں کو آزما کر ملک ایٹمی قوت بنا۔ وہ چاغی لہولہان ہے۔ اور کسی کو یہ خبر نہ ہو کہ بنگال میں کب کیسے اور کیا ہوا؟

لکھاری بلوچستان کے شہر گوادر سے تعلق رکھتے ہیں اور صحافت کے طالب علم ہیں۔