ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بار پھر امریکہ آنے کے خواہشمند لاکھوں امیگرینٹس کے خوابوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ پاکستان سمیت کم از کم 75 ممالک کے شہریوں کے لئے امیگریشن کے دروازے عملی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وہ افراد جن کے امیگریشن، سیاسی پناہ یا شہریت کے مقدمات امریکی محکمہ امیگریشن میں زیر التوا تھے، اب غیر معینہ مدت کے لئے منجمد ہو چکے ہیں۔
یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی، “پبلک چارج رول” کے تحت سامنے آیا ہے۔ اس قانون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایسے غیر ملکی شہری جو مستقبل میں امریکی حکومتی فلاحی پروگرامز پر بوجھ بن سکتے ہوں، انہیں امریکہ میں داخلے یا مستقل قیام کی اجازت نہ دی جائے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان 75 ممالک سے آنے والے افراد، بشمول پاکستان، امریکی سماجی امدادی نظام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
نئے ضابطوں کے تحت اب سیاسی پناہ کی درخواستیں، ملازمت کی بنیاد پر سپانسرشپ، ہنرمند افراد کے ویزے، حتیٰ کہ امریکی شہری سے شادی کی بنیاد پر امیگریشن کے راستے بھی شدید خطرات سے دوچار ہو چکے ہیں۔ یہ اقدام لاکھوں افراد کے لئے محض ایک پالیسی تبدیلی نہیں بلکہ ان کی زندگیوں کے سب سے بڑے خواب کی موت بن کر سامنے آیا ہے۔
اس فیصلے نے صرف کاغذی فائلوں کو نہیں روکا بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کو ایک اندھے کنویں میں دھکیل دیا ہے۔ امریکہ میں بہتر زندگی، آزادی اور تحفظ کے خواب دیکھنے والے ہزاروں پاکستانی آج شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ وہ افراد جنہوں نے سچ یا جھوٹ، کسی بھی بنیاد پر سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں، ان کے لئے بھی اب امریکی سرزمین تنگ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں امیگریشن کے معاملات سے وابستہ ایک معروف یہودی وکیل کی فرم سے تعلق رکھنے والے وکیل نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ ان کی فرم کے پاس اس وقت تقریباً چار ہزار پاکستانیوں کے امیگریشن کیسز زیر التوا ہیں، جن میں اکثریت سیاسی پناہ کی درخواستوں کی ہے۔ سیاسی پناہ عموماً وہ افراد لیتے ہیں جنہیں اپنے وطن میں گرفتاری، تشدد یا جان سے مارے جانے کا خدشہ ہو۔
وکیل کے بقول حالیہ برسوں میں ہزاروں پاکستانیوں نے پاکستان تحریک انصاف سے وابستگی کو بنیاد بنا کر سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کیں۔ اگرچہ ان کے پاس اس وقت ورک پرمٹس موجود ہیں، تاہم مستقبل کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی نام اور عہدہ ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ پالیسی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں ان ممالک کے شہریوں کے لئے مزید سخت اقدامات سامنے آئیں۔ ان کے مطابق امریکی ادارے اس پالیسی کے عملی نفاذ پر ابھی باہمی مشاورت کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کے بعد امریکہ میں مقیم متاثرہ ممالک کے شہری متبادل راستوں کی تلاش میں کینیڈا کا رخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہاں بھی امیگریشن قوانین سخت سے سخت تر ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں شمالی امریکہ میں پناہ یا مستقل قیام کا خواب دن بدن معدوم ہوتا نظر آ رہا ہے۔
امریکہ میں موجود ہزاروں پاکستانی، جو برسوں سے امریکی شہریت کے منتظر تھے، ان کے لئے یہ خبر کسی سانحے سے کم نہیں۔ اسلام آباد کے سرکاری حلقوں کے مطابق پاکستان نے اس معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ سے رابطے شروع کیے ہیں، تاہم ٹرمپ کے سیاسی انداز سے واقف حلقے جانتے ہیں کہ وہ فیصلے کرتے وقت نہ دوست دیکھتے ہیں نہ اتحادی۔
اعداد و شمار کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تقریباً 40 فیصد پاکستانی امیگرینٹس کسی نہ کسی صورت امریکی فلاحی پروگرامز سے فائدہ اٹھاتے رہے، اور انہی اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر یہ سخت فیصلہ کیا گیا۔ اگرچہ ان اعداد کی آزادانہ تصدیق ایک الگ بحث ہے، لیکن اس کا خمیازہ عام اور محنت کش امیگرینٹس کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
ایسے میں سجاد علی کے گیت کے بول بے اختیار ذہن میں گونجنے لگتے ہیں:
چل اڑ جا پولیا پنچھیا
تیرا کوئی نہیں پردیس میں