کرکٹ: شکست، سازشیں اور سفارشیں

میں نے میچ سے ایک دن پہلے پریکٹس کے بعد انٹرویو کیا تو انٹرویو کے بعد عامر سہیل نے کہا کہ صبح میں شاید میچ نہ کھیلوں۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ میں اگر نہ کھیلا تو فون کر کے بتا دوں گا۔ وہی ہوا۔ ٹیم کا اعلان ہوا۔ سلیم ملک ٹیم میں شامل اور ساتھ ہی عامر سہیل نے بیماری کا بہانہ بنا کر میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔

Aamir Sohail 1996 Quarter Final

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم بدترین کارکردگی کے بعد پہلی بار ٹی-ٹوینٹی کے گروپ میچوں میں چار کھیلے گئے میچوں میں سے دو میچ ہار کر (بھارت اور امریکہ کے خلاف) پہلی بار "Super 8" مرحلے کے لئے کوالیفائی نہ کر سکی۔ اس خراب کارکردگی کے پیچھے ناصرف کھلاڑیوں کی ناقص کارکدگی ہے بلکہ مبینہ طور پر ٹیم کا سفارش، اقربا پروری کی بنیاد پر انتخاب اور ٹیم کے اندر انتشار، گروپنگ اور سازشیں بتائی جاتی ہیں۔ میچوں کے دوران تین گروپس کھل کر سامنے آئے جن میں سے دو اس بات پرناراض تھے کہ پہلے کو کپتانی سے فارغ کیا گیا اور دوسرے کو کپتانی دینے کے لئے زیر غور ہی نہیں لایا گیا، جب کہ تیسرا گروپ خود بابراعظم کا تھا جو ٹیم کو یکجا کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔

کرکٹ ٹیم میں بدترین شکست ہو یا سازشیں یا پھر ٹیم کے انتخاب میں سفارش یا اقربا پروری ہو، یہ کوئی نئی بات نہیں۔

میں نے لاہور میں پیشہ ورانہ زندگی میں رپورٹنگ کا آغاز 1996 کے عالمی کرکٹ کپ کے لئے تیاری کرنے والی کرکٹ ٹیم کے کیمپ سے کیا، جس نے پاکستان، انڈیا اور سری لنکا میں ہونے ورلڈ کپ میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنا تھا اور وہ پاکستان کی اس وقت کی ٹیم مضبوط ترین ٹیم سمجھی جاتی تھی کیوں کہ ٹیم میں عمران خان کے سوا تقریباً وہی کھلاڑی تھے جو 92 کا کپ جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے۔

ٹیم میں نظم و ضبط یا ربط کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں نے جاوید میانداد کے انٹرویو کی درخواست کی۔ جاوید میانداد اس وقت اپنا چھٹا مسلسل ورلڈ کپ کھل رہے تھے اور وہ دنیائے کرکٹ کے واحد کھلاڑی تھے جس نے تمام ورلڈ کپ کھیل رکھے تھے۔ انٹرویو کے لئے درخوست کی تو جاوید نے ٹیم کے مینجر انتخاب عالم کی طرف جس حقارت سے اشارہ کیا اور کہا کہ "اس سے پوچھ لو پہلے"، وہ مجهے آج بھی یاد ہے۔ اس رویے کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

کھلاڑی ایک دوسرے کی تذلیل اور تضحیک کے لئے طرح طرح کے ناموں سے پکارتے تھے۔ مثلا کسی کا نام پنا (ڈور والا) تو کوئی لمبو تھا۔ یہاں تک کہ ایک صاحب کو تو کٹا تک کہہ کر یاد کیا جاتا تھا۔ یاد رہے کہ یہ نام پیچھے سے ایک دوسرے کے لئے بولے جاتے تھے، سامنے ان ناموں سے کسی کو نہیں پکارا جاتا تھا۔

ٹیم کی کارکردگی کسے یاد نہیں؟ اچھا بھلا آغاز ہوا لیکن بنگلور بھارت جا کر کوارٹر فائنل میں ٹیم کے کپتان وسیم اکرم کے میچ سے چند لمحوں پہلے بیمار پڑ جانے کی اطلاع آئی اور کپتانی کی ذمہ داری عامر سہیل کے کاندھوں پر آ گری جو اپنے رویوں اور غصیلی عادت کے لئے مشہور تھے۔ ٹیم میچ میں انڈیا کی باؤلنگ کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ یوں ایک مضبوط ٹیم جو اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے گئی تھی، اسے کوارٹر فائنل سے ہی واپس نکلنا پڑا۔ ٹیم نے ویسے تو لاہور آنا تھا لیکن شدید عوامی ردعمل کے خوف سے آخری لمحوں میں جہاز کا رخ موڑ کر کراچی کی طرف کر دیا گیا۔ کھلاڑی چھپتے پھر رہے تھے، کچھ کے گھروں پر پتھراؤ تک ہوا اور وسیم اکرم پر میچ فکسنگ کا الزام لگا۔

غیرملکی ٹیموں کے پاکستان کے دورے ہوں یا پھر ہوم سیریز ہو کھلاڑی ٹریننگ کیمپس کو ہیمشہ غیر سنجیدگی سے لیتے تھے۔ یہاں تک کہ بیماری کا بہانہ بنا کر ملک بھی چھوڑتے رہے بلکہ ملک کے بجائے چھوٹے چھوٹے کلبز کے لئے کھیلنے کو ترجیح دی۔

سفارشی کلچر

کرکٹ ٹیم کے انتخاب میں سفارش، اقربا پروری، بھائی بیٹے بھانجے بھتیجوں کو ترجیح ہر دور میں رہی۔ اس حوالے سے کراچی بمقابلہ لاہور برتری کی کوشش، ٹیم میں چاپلوسی کلچرعام رہا۔

جنید ضیاء کی کرکٹ ٹیم میں جگہ اس وقت بنی جب ان کے والد توقیر ضیاء کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تھے۔

سازشیں

دوسرے کھیلوں کی طرح کرکٹ میں بھی سازشیں عام ہیں۔ اپنے سات سالہ سپورٹس رپورٹر کی حثیت سے کریئر میں کرکٹ میں کی سازشیں دیکھیں جن میں سے ایک کا ذکر کر دیتا ہوں۔ 1998-99 زمبابوے پاکستان کے دورے پر تھی، عامر سہیل پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت میں لاہور ٹیسٹ کے دوران کرکٹ بورڈ کے چیئرمین خالد محمود اور ٹیم مینیجر سلیم ملک کو 100 ٹیسٹ میچ کھیلنے کا اعزاز دلانے کے لئے میچ میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن کپتان عامرسہیل ان کی ٹیم میں شمولیت کے مخالف تھے۔ میں نے میچ سے ایک دن پہلے پریکٹس کے بعد انٹرویو کیا تو انٹرویو کے بعد عامر سہیل نے کہا کہ صبح میں شاید میچ نہ کھیلوں۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ میں اگر نہ کھیلا تو فون کر کے بتا دوں گا۔ وہی ہوا۔ ٹیم کا اعلان ہوا۔ سلیم ملک ٹیم میں شامل اور ساتھ ہی عامر سہیل نے بیماری کا بہانہ بنا کر میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔

کرکٹ میں سفارشوں سازشوں اور شکست سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ لکھنے بیٹھیں تو اوراق کم پڑ جائیں۔ معاملہ بس اتنا ہے کہ دوسرے اداروں کی طرح کرکٹ بورڈ کے بنیادی ڈھانچے کو سفارشوں، سازشوں سے دور رکھ کر شفاف تعیناتیوں کے ذریعے ہی ٹھیک کیا جا سکتا ہے اور ٹیم سلیکشن ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی کی بنیاد پر کر کے PCB کرکٹ اکیڈمی میں جدید خطوط پر ٹریننگز دینے سے ہی بہتری آ 

مصنف سینئر صحافی ہیں اور ان سے asmatniazi@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔