Get Alerts

سندھ کی یہ تحریک قوم پرستوں کی نہیں، وطن پرستوں کی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنا فیصلہ کر لے

پیپلز پارٹی یہ سمجھ رہی تھی کہ سندھ میں اتنا سخت ردعمل نہیں آئے گا۔ اب اس کے پاس صرف دو آپشن بچے ہیں: یا تو وہ اپنے انتخابی حلقے، جو سندھ ہے، کے ساتھ کھڑی ہو یا اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا پورا کرے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کا اصل سیاسی امتحان اب شروع ہوا ہے

سندھ کی یہ تحریک قوم پرستوں کی نہیں، وطن پرستوں کی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنا فیصلہ کر لے

بلاول بھٹو زرداری کی 18 اپریل کو حیدرآباد میں کی گئی ایک جلسہ عام میں تقریر اور 17 اپریل کو عمرکوٹ میں ہونے والے ضمنی انتخاب پر سوشل میڈیا پر چھڑی بحث اب مدھم ہوگئی ہے۔ کینال مخالف تحریک پر پیپلز پارٹی اور اس کی مخالف جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ اور سندھ کی سڑکوں پر ہونے والے احتجاجوں کے دوران، سندھ واضح طور پر دو بیانیوں میں تقسیم ہے۔ پیپلز پارٹی مخالف قوتوں کا مطالبہ ہے کہ نہروں کی تعمیر اور سندھ کی زمینوں پر کارپوریٹ فارمنگ کا فیصلہ واپس لو، پیپلز پارٹی بھی کینال تعمیر کی تو مخالف ہے، لیکن کارپوریٹ فارمنگ کی حامی ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 18 اپریل کو حیدرآباد میں جو مؤقف اختیار کیا، اگر وہی مؤقف وہ 4 اپریل کو گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر اختیار کرتے، تو ممکن تھا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف سندھ بھر میں جو غصہ پایا جاتا ہے، اس میں کچھ کمی ممکن ہوتی، لیکن یہ شعوری غلطی دراصل دو کشتیوں پر سوار رہنے کی پالیسی کا نتیجہ تھی۔

اب سوال یہ ہے کہ ملکی سیاسی منظرنامے میں آگے کیا ہوگا؟ کیا واقعی پیپلز پارٹی وفاقی حکومت سے علیحدہ ہو سکتی ہے؟

کیا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، جو عمران خان کے بعد ایک انتخابی جگاڑ کے ذریعے جو سول سیٹ اپ تشکیل دے چکی ہے، وہ پیپلز پارٹی کو اس بات کی اجازت دے گی کہ موجودہ سیٹ اپ کا ڈھانچہ ہی توڑ دیا جائے؟ یا پھر وہی پرانا معاہدہ اور اسی تنخواہ پر کام جاری رہے گا؟

اِن چند سوالوں کے آغاز سے پہلے، عمرکوٹ کے ضمنی انتخاب پر سرسری نظر ڈالنا ضروری ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ پیپلز پارٹی کی اشرافیہ کو اس الیکشن میں کیا پیغام ملا ہے۔

دیکھا جائے تو عمرکوٹ کا ضمنی الیکشن مکھن سے بال نکالنے جیسا آسان کام تھا، جسے لوہے کے چنے بنانے کا کام خود پیپلز پارٹی نے کیا۔ ممکن تھا کہ اگر کینال مخالف تحریک اور پیپلز پارٹی کے خلاف جو عوامی رائے اس وقت سندھ میں موجود ہے، وہ نہ ہوتی، تو نواب یوسف ٹالپر کے انتقال سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر بلامقابلہ یا بہت معمولی مقابلے سے ہی یہ نشست مرحوم رکن کی اہلیہ کو مل جاتی۔ کیونکہ سندھ میں پانی کے مسئلے پر قومی اسمبلی کے فلور پر نواب ٹالپر صاحب نے جو کردار ادا کیا، اس کے سبھی معترف ہیں۔

اسی وجہ سے جب 7 اپریل کو قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اراکین نے نہروں کی تعمیر پر بات کی، تو وہ زیادہ تر سیاسی مؤقف تھا۔ تکنیکی بنیادوں پر بات اس وقت ہو سکتی تھی، جب اس بارے میں کسی کی تیاری ہوتی۔

اب آتے ہیں عمرکوٹ کے ضمنی انتخاب کے نتائج کی طرف!

پیپلز پارٹی اور اس کے مؤقف کے حامی زور و شور سے کہہ رہے ہیں کہ سترہ سیاسی جماعتیں ایک طرف تھیں اور پیپلز پارٹی دوسری طرف۔ کہنے کی حد تک یہ بات ٹھیک ہے، لیکن پیپلز پارٹی اور ان سترہ پارٹیوں کا تقابل کچھ یوں ہے جیسے امریکی صدر ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کا — پولیس، پاور، بے پناہ دولت۔ اس کے علاوہ، جب ایک ہی شخص چھ بار ایک ہی نشست پر کامیاب ہوتا آیا ہو، تو اس نشست پر مقابلہ کرنا یوں بھی آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر اس صورت میں جب پورے حلقے میں سندھ کے مختلف اضلاع سے ایس پیز اور ڈی ایس پیز اتارے گئے ہوں، طاقتور شخصیات اپنے مسلح محافظوں کے ساتھ بڑی گاڑیوں میں اپنی دھاک بٹھاتی نظر آئیں، اور پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو کھانا پہنچانے کی ذمہ داری تک ڈپٹی کمشنر کی ہو (لیک ہونے والی فون کال کا حوالہ)۔

ایسے حالات میں اگر لال مالہی جیسے متوسط طبقے کے پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی، ستر ہزار ووٹ لے جائیں، تو یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر تمام تر سرکاری وسائل استعمال کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی کو اس قدر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، تو اسے سندھ میں پیدا ہونے والے نئے سیاسی منظرنامے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا کہ عوامی ناراضی نفرت میں کیوں بدل رہی ہے۔

الیکشن کمیشن کی حیثیت کا اندازہ عوام کو فروری 2024 کے عام انتخابات میں ہی ہو چکا تھا، یہ تو صرف ایک ضمنی انتخاب تھا۔ پیپلز پارٹی کو سوچنا چاہیے کہ اس کی ڈیڑھ دہائی سے زیادہ پر محیط بدترین طرزِ حکمرانی پر جو عوامی غصہ تھا، وہ نہروں کی تعمیر کے مسئلے پر کس طرح باہر آیا ہے، کہ اب عام آدمی اس کی سنجیدہ بات بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔

اب آتے ہیں بلاول بھٹو زرداری کی حیدرآباد جلسے والی تقریر کی طرف۔

یہ تقریر وفاقی حکومت اور نہر کے معاملے پر 4 اپریل والی تقریر کے مقابلے میں کہیں زیادہ واضح تھی۔ 4 اپریل کی تقریر میں پیپلز پارٹی کے کارکنان جو کچھ سننا چاہتے تھے، اس کا جواب انہیں دو ہفتے بعد حیدر آباد میں ملا۔ لیکن وہ جواب ابھی بھی ادھورا ہے۔ نہر کی تعمیر کے معاملے پر وفاقی حکومت کو اس تقریر کے ذریعے واضح پیغام دیا گیا، کہ ہم کارپوریٹ فارمنگ کے معاملے پر تیار ہیں۔

سندھ اب تک ایک لاکھ ایکڑ سے زیادہ زمین "گرین پاکستان" کو دے چکا ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ کینال کا فیصلہ واپس لیا جائے گا، تو پھر زمین "Green Initiative" کے پاس ہونے کا باقی کیا جواز رہ جاتا ہے؟ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح نہیں ہے، بلکہ اس کے رہنما ایسے سوالات پر طیش میں آ کر مائیک اپنے منہ سے ہٹا کر صحافی کی طرف کر دیتے ہیں (حوالہ ویڈیو نوید قمر)۔

بلاول بھٹو کی حیدرآباد والی تقریر میں صاف پیغام دیا گیا کہ اگر نہر کی تعمیر کا فیصلہ واپس لیا جائے، تو زرعی ترقی کے لئے منصوبہ ہم بنا کر دیں گے۔ اس میں یہ پیغام بھی چھپا تھا کہ جو زمینیں دی گئی ہیں، پیپلز پارٹی کی حکومت ان معاہدوں پر قائم رہے گی، اور طے شدہ معاہدے کے تحت مزید زمین بھی دی جائے گی۔

رہی بات کینال کی تعمیر پر مؤقف کو تبدیل کرنے کی، تو اس پر پیپلز پارٹی کو سندھ کی اُن قوتوں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہیں وہ ہمیشہ حقارت سے "تانگہ پارٹی" یا "علیحدگی پسند" قرار دے کر پنڈی والوں کے سامنے اپنا وزن بڑھاتی رہی ہے۔ انہی قوتوں نے سندھ کے اندر کینال مخالف تحریک کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ اب ملا، ملحد، سنی، شیعہ، زبان اور قوموں کے فرق مٹ چکے ہیں۔ ایک لکیر کھچ چکی ہے کہ کون کینال کا حامی ہے اور کون مخالف؟ آج سندھ میں کینال کی حمایت ایسے ہی ہے جیسے یزید کی حمایت۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں وفاقی حکومت کو وارننگ تو دی، مگر کوئی حتمی تاریخ نہیں دی کہ اگر ن لیگ فلاں تاریخ تک کینال کی تعمیر کے خاتمے کا اعلان نہیں کرتی، تو وہ حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لیں گے۔ سندھ میں خیرپور کے قریب ببرلو میں سندھ پنجاب بارڈر بند ہونے کے بعد اس کے اثرات پنجاب میں جب محسوس کیے گئے تو ن لیگ کی قیادت کی ہدایت پر رانا ثنااللہ نے سندھ حکومت سے رابطہ کر کے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اس کے نتائج کیا نکلیں گے، Green Initiative، جن کا منصوبہ ہے، وہ اس سے پیچھے ہٹ کر مسئلہ ختم کر دیتے ہیں تو بات ختم۔ اس بارے میں ابھی تک تو یہ اطلاعات ہیں کہ وہ فی الحال پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، کیونکہ ن لیگ بھی سندھ کے عام عوام کے مطالبے کو پورا کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کے سامنے نیچا دکھانا چاہتی ہے۔

Green Initiative Pakistan کا ادارہ "ایس آئی ایف سی" کے ماتحت ہے۔ ایس آئی ایف سی 20 جون 2023 کو قائم کیا گیا، اور اس ادارے کو کوئی آئینی کور حاصل نہیں۔ یہ ادارہ پاکستان کی فوج چلا رہی ہے۔ ایس آئی ایف سی کے قیام کے صرف چھتیس دن بعد، 26 جولائی 2023 کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا، جس میں نگران حکومتوں کو بہت سے اختیارات دیے گئے، جن میں زمین دینے کے معاہدے کرنے کا اختیار شامل تھا، بلکہ نگران حکومت کو CCI (کونسل آف کامن انٹرسٹ) کا اجلاس بلانے کا بھی اختیار دے دیا گیا۔ اس وقت ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ نگران حکومت تین ماہ سے زیادہ چلے گی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے صرف 17 دن بعد اسمبلی کی مدت پوری ہوئی۔ 11 اگست کو Green Pakistan Initiative رجسٹرڈ ہوا SECP میں اور 14 اگست کو نگران حکومت قائم ہوئی۔

گرین پاکستان کا قیام شہباز شریف کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت کے آخری دنوں میں عمل میں آیا۔ اس کے بعد سندھ اور پنجاب کی نگران حکومتوں نے جی پی آئی کے ساتھ زمین دینے کے معاہدے کیے۔ اس لئے یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ تمام فیصلے موجودہ رجیم کی پچھلی وفاقی حکومت میں کیے گئے تھے۔

حال ہی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جب صدر آصف زرداری نے نہروں کی مخالفت کی، تو اسی دن اندازہ ہو گیا تھا کہ اب پیپلز پارٹی کو اپنی اوقات میں رکھنے کے لئے اس کے خلاف نئے سکینڈل سامنے آئیں گے، لیکن جب ایسا نہ ہوا، تو یہ گمان مضبوط ہو گیا کہ شاید پیپلز پارٹی نے اُن حلقوں کو یہ امید دلائی ہو کہ تھوڑا صبر کریں، ہم کینال کے معاملے کو مینیج کرلیں گے۔

اس وقت ن لیگ کے حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ سندھ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے پیچھے پیپلز پارٹی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے جلسوں میں پنڈی کے حلقوں کو صفائیاں دے رہی ہے کہ یہ سب کچھ تو "تانگہ پارٹیاں" کر رہی ہیں۔ لیکن اب اس نے بھی تانگہ پارٹیوں والا مؤقف اختیار کر لیا ہے۔

پاکستان میں عمران خان کے بعد سیاسی جماعتیں ایک ایسے جال میں رضامندی سے پھنس چکی ہیں، جس سے نکلنا ان کے لئے آسان نہیں رہا۔

اس وقت اقتدار میں موجود ان سیاسی جماعتوں نے تین سال پہلے جنرل باجوہ کی ایجنڈا پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف اُن کو بچایا، بلکہ خود کو بھی اس جال میں پھنسوا لیا۔

مسلم لیگ (ن) نئے انتخابات کرانے پر مصر تھی جب کہ پیپلز پارٹی عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے پر بضد تھی۔ جنرل باجوہ کے سسر، پی ڈی ایم کی قیادت سے رابطے میں تھے۔ عمران خان اور جنرل باجوہ کے درمیان اختلافات اس وقت پیدا ہوئے جب فیض حمید کو آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کا معاملہ سامنے آیا۔ عمران خان نے پہلے تو آرمی چیف کی بات نہ مانی، لیکن بعد میں فیض حمید کا تبادلہ کچھ ہفتوں کے لئے مؤخر کیا۔

مارچ کے پہلے ہفتے میں عمران خان نے جنرل باجوہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا، اور جب یہ خبر لیک ہوئی تو تمام عمران مخالف جماعتوں نے ایمرجنسی بنیادوں پر قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کرا دی، تاکہ وہ کوئی بڑا قدم نہ اٹھا سکیں۔ پیپلز پارٹی کا مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ اسی روز اسلام آباد پہنچ چکا تھا، جس دن بلاول بھٹو زرداری کو ڈی چوک پر خطاب کرنا تھا۔ تحریکِ عدم اعتماد کی سرگرمی نے اس پورے لانگ مارچ کی اہمیت کو ختم کر دیا۔

پی ڈی ایم کی نئی حکومت کے قیام کے بعد ن لیگ کچھ قانون سازی کے بعد فوری انتخابات کرانے کی حامی تھی، جب کہ پیپلز پارٹی اسمبلی کی مدت پوری کرنے پر بضد تھی۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو بتایا گیا تھا کہ فیض حمید اور عمران خان ملک کا نظام ہی تبدیل کرنا چاہتے ہیں، اور اگر آپ آگے نہ آئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

تین سال پہلے جو صورتحال پیدا ہوئی، اس میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی بہترین سہولت کار کے طور پر سامنے آئیں۔ جو بھی ایجنڈے تھے، وہ پورے ہوگئے — 26ویں آئینی ترمیم سے لے کر پیکا قانون کی منظوری تک۔

اب جب کہ چولستان کینال کی تعمیر کا معاملہ سامنے آیا ہے، پیپلز پارٹی یہ سمجھ رہی تھی کہ سندھ میں اتنا سخت ردعمل نہیں آئے گا۔ اب اس کے پاس صرف دو آپشن بچے ہیں: یا تو وہ اپنے انتخابی حلقے، جو سندھ ہے، کے ساتھ کھڑی ہو یا اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا پورا کرے۔

محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کا اصل سیاسی امتحان اب شروع ہوا ہے، کیونکہ سندھ میں اس وقت ایک خالص، پُرامن سیاسی تحریک چل رہی ہے، جس پر پاکستان کے سیاسی و غیر سیاسی حلقے حیران ہیں۔

یہ حیرت اس وجہ سے ہے کہ پُرامن سیاسی جدوجہد کو کسی بھی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کے مطالبات پورے نہ کیے جائیں۔

اب تک موصول اطلاعات کے مطابق، کینال والے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، اور سندھ بھی اپنے مؤقف سے ہٹنے پر آمادہ نہیں۔

پیپلز پارٹی ن لیگ سے اس معاملے پر بات چیت کرے گی اور وقت گزارنے کی کوشش کرے گی۔

اس دوران سندھ میں جاری پُرامن کینال مخالف تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے کوئی بھی حرکت کی جا سکتی ہے۔ لیکن لوگ یہ بھی سمجھ چکے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ببرلو کے مقام پر جاری دھرنا، سندھ کی سیاسی تاریخ کا کئی حوالوں سے مثالی سیاسی دھرنا ہے، جس کو لیڈ وکلا کا لیڈر عامر وڑائچ کر رہا ہے۔ سندھ کے عام لوگوں نے عامر وڑائچ کو جس طرح آنکھوں پر بٹھایا ہے اس سے واضح ہو گیا ہے کہ سندھ میں یہ تحریک قوم پرستوں کی نہیں وطن پرستوں کی ہے۔

مصنف اسلام آباد میں مقیم سینیئر سیاسی رپورٹر ہیں۔ ملکی سیاست پر ان کے مضامین و تجزیے مختلف ویب سائٹس اور اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔