Get Alerts

اسلام آباد عالمی سفارت کاری کے مرکز میں: امریکا–ایران مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ، امن یا ایک اور ادھورا باب؟

پاکستان کے لیے یہ لمحہ اعزاز سے زیادہ آزمائش ہے؛ کیونکہ اس بار کامیابی کا پیمانہ صرف میٹنگ کا انعقاد نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی ہوگا۔

اسلام آباد عالمی سفارت کاری کے مرکز میں: امریکا–ایران مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ، امن یا ایک اور ادھورا باب؟

اسلام آباد ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ بظاہر بات صرف امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف دو ملکوں کی بات چیت نہیں، بلکہ پورے خطے کے مستقبل، عالمی معیشت کی سانسوں اور سفارت کاری کی ساکھ کا امتحان ہے۔ پاکستان اس بار محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک ایسے ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جو جنگ اور امن کے بیچ کھڑی باریک لکیر کو تھامنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے راؤنڈ کی خبر محض ایک سفارتی اپڈیٹ نہیں بلکہ ایک بڑی علاقائی کہانی بن چکی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ امن کی بات ہمیشہ جنگ کے بعد نہیں ہوتی؛ کئی بار جنگ کے بیچ میں بھی کی جاتی ہے۔ اس وقت بھی کچھ ایسا ہی منظر ہے۔ ایک طرف جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے، دوسری طرف امریکی دباؤ اپنی جگہ برقرار ہے۔ ایک طرف پاکستان امید دلا رہا ہے کہ بات آگے بڑھ سکتی ہے، دوسری طرف ایران کھلے لفظوں میں کہہ رہا ہے کہ دباؤ، دھمکی اور سرنڈر کے ماحول میں مذاکرات نہیں ہوں گے۔ یعنی میز سجی ہوئی ہے، لیکن کرسیوں پر بیٹھنے والے اب بھی ایک دوسرے کی نیت پر یقین نہیں رکھتے۔

یہی اس پوری صورتِ حال کا سب سے اہم اور سب سے خطرناک پہلو ہے: جنگ بندی اور اعتماد سازی ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔ فائرنگ رک جانا یقیناً اچھی خبر ہے، مگر دلوں میں شکوک، بیانات میں تلخی اور میدان میں طاقت کا مظاہرہ جاری رہے تو امن صرف ایک وقفہ بن کر رہ جاتا ہے، منزل نہیں بنتا۔ امریکا کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کو مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، مگر ساتھ ہی دباؤ کی فضا اس پیغام کو کمزور بھی کر دیتی ہے۔ ایران کے لیے یہی نکتہ سب سے زیادہ حساس ہے، کیونکہ تہران اسے محض دفاعی پوزیشن نہیں بلکہ مسلسل دباؤ کی حکمتِ عملی سمجھتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ لمحہ سفارتی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اسلام آباد واقعی دونوں فریقوں کو دوبارہ ایک میز پر لانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ صرف ایک میٹنگ نہیں ہوگی، بلکہ ایک ایسے ملک کی واپسی ہوگی جسے اکثر عالمی سیاست میں صرف ردِعمل دینے والا ملک سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس بار منظر کچھ مختلف ہے۔ پاکستان درخواست کرتا ہے، جنگ بندی بڑھتی ہے۔ پاکستان رابطہ رکھتا ہے، دوسرے راؤنڈ کی بات زندہ رہتی ہے۔ یہ سب اگرچہ حتمی کامیابی نہیں، مگر اتنا ضرور ثابت کرتا ہے کہ اسلام آباد اب صرف جغرافیہ نہیں بلکہ سفارت کاری کی ایک فعال جگہ بھی بنتا جا رہا ہے۔

لیکن یہاں ایک سوال بہت اہم ہے: کیا دوسرا راؤنڈ واقعی ہوگا بھی؟ اور اگر ہوگا تو کیا اس سے کچھ نکلے گا بھی؟ موجودہ صورتِ حال یہی بتاتی ہے کہ دوسرے راؤنڈ کی بات موجود ہے، پاکستان اس کے لیے تیار بھی دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی تاریخ، فارمیٹ اور عملی امکان اب بھی غیر یقینی ہیں۔ ایران کی طرف سے یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ اگلے دور کے لیے پہلے ایک بنیادی فریم ورک اور اعتماد کی کچھ شرائط ضروری ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر سفارتی دروازہ بند نہیں، مگر ابھی مکمل طور پر کھلا بھی نہیں۔

اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ امریکا اور ایران کیا چاہتے ہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں کس حد تک ایک دوسرے پر بھروسا کرتے ہیں۔ جنگوں میں سب سے پہلے عمارتیں نہیں، اعتماد ٹوٹتا ہے، اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو الفاظ بھی ہتھیار لگنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امن مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ اگر ہوتا ہے تو وہاں دستاویزات سے زیادہ لہجے اہم ہوں گے، اور بیانات سے زیادہ نیتیں دیکھی جائیں گی۔ اگر ایک فریق میز پر بیٹھ کر بھی دوسرے کو دیوار سے لگانا چاہے تو پھر مذاکرات صرف تصویروں اور سرخیوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔

اسلام آباد کے لیے یہ موقع اعزاز بھی ہے اور آزمائش بھی۔ اعزاز اس لیے کہ دنیا کی نظریں یہاں لگی ہیں؛ آزمائش اس لیے کہ ایک غلط قدم، ایک جلد بازی یا ایک غیر متوازن سفارتی تاثر پورے عمل کو کمزور کر سکتا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کو صرف میزبان نہیں بلکہ ایک بالغ، محتاط اور غیر جانب دار سہولت کار کے طور پر سامنے آنا ہوگا۔ امن صرف جگہ دینے سے نہیں آتا، فضا بنانے سے آتا ہے، اور فضا الفاظ، اشاروں، ترتیب اور اعتماد سے بنتی ہے۔

میری نظر میں امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی اصل خبر یہ نہیں کہ وہ کب ہوگا؛ اصل خبر یہ ہے کہ دنیا اب بھی جنگ کے باوجود بات چیت کے دروازے کو مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتی۔ یہی امید کی سب سے بڑی کرن ہے۔ مگر اس کرن کو روشنی بننے کے لیے صرف سفارتی تصویروں سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ اگر امریکا دباؤ کم نہیں کرتا، اگر ایران لچک نہیں دکھاتا، اور اگر ثالثی صرف رسمی رہتی ہے، تو یہ دوسرا راؤنڈ بھی شاید ایک اور ادھورا باب بن جائے۔ لیکن اگر اسلام آباد اس بار خاموشی سے، سنجیدگی سے اور توازن کے ساتھ دونوں کو قریب لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ محض مذاکرات نہیں ہوں گے بلکہ پاکستان کے سفارتی قد میں ایک حقیقی اضافہ ہوگا۔

مصنف کالم نگار، فیچر رائٹر، بلاگر، کتاب 'صحافتی بھیڑیے' کے لکھاری اور ویمن یونیورسٹی صوابی میں میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔