Get Alerts

موسمیاتی نقل مکانی اور شہر کراچی

یہ موسمیاتی تارکین بہت امید کے ساتھ کراچی پہنچتے ہیں۔ مگر کراچی آمد پر، انہیں ان تلخ معاشی حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے ساتھ کراچی کے 30 ملین باشندے دن رات جدوجہد کرتے ہوئے اپنی زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہے ہیں۔ یہ چلچلاتی دھوپ میں اینٹیں اٹھاتے ہیں، حفاظتی پوشاک کے بغیر سیوریج لائنوں کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں، یا بھری سبزی منڈی میں سامان کو دھکیلتے دکھائی دیتے ہیں۔

موسمیاتی نقل مکانی اور شہر کراچی

کراچی شہرموسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تجربے سے گزر رہا ہے۔ اور ہر ماہ ہزاروں لوگ کراچی میں منتقل ہوتے ہیں یعنی اپنے بچاؤ کے لئے لوگ ایسے شہر کا انتخاب کر رہے ہیں جو خود سمندر کی سطح میں اضافے، شدید گرمی کی لہروں اور شہری سیلاب کے ساتھ ساتھ پانی کی وسیع قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ یوں نئے رہائشیوں کی بڑی تعداد نے پہلے سے موجود رہائشی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو مزید خراب کر دیا ہے، جب کہ شہر کی سماجی عدم مساوات میں اضافہ دکھائی دیتا ہے۔ اور یہی صورتحال رہی تو اگلے چند سالوں میں کراچی کو موسمیاتی تارکین کا شہر کہا جائے گا۔ 

آب و ہوا کی نقل مکانی سے مراد موسمی تبدیلیوں اور شدید موسمی واقعات کی وجہ سے لوگوں کی ضروری نقل مکانی ہے۔ انٹرنل ڈسپلیسمنٹ مانیٹرنگ سنٹر (IDMC) پاکستان کو آب و ہوا سے متعلق نقل مکانی کے واقعات کے لحاظ سے سرکردہ ممالک میں سے ایک کی حیثیت دیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سکڑتی ہوئی زراعت، انڈس ڈیلٹا کی تنزلی اور پانی کی کمی سندھ اور بلوچستان میں دیہی برادریوں کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا بحران بن چکے ہیں۔ پھر ہم نے دیکھا کہ 2022 میں سیلاب نے بھی تباہی مچائی جس کے بعد مزید لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ کیونکہ ہمارے پاس نکاسی آب کا کوئی نظام ہی موجود نہ تھا۔

دوسری جانب دریا خشک ہو رہے ہیں، کنویں خالی ہو رہے ہیں اور ایک بارپھر زرخیز زمینوں کو خشک سالی کا سامنا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی نے پانی کی شدید قلت سے خبردار کیا ہے جو لاکھوں خاندانوں – کسانوں، چرواہوں یا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو اپنی بقا کی تلاش میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دے گی۔ اس سے قبل ہی ان میں سے بہت سے لوگ کراچی نقل مکانی کر چکے ہیں اور شہر کی کچی آبادیوں میں آباد ہو گئے ہیں۔

یہ موسمیاتی تارکین بہت امید کے ساتھ کراچی پہنچتے ہیں۔ مگر کراچی آمد پر، انہیں ان تلخ معاشی حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے ساتھ کراچی کے 30 ملین باشندے دن رات جدوجہد کرتے ہوئے اپنی زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہے ہیں (موسیاتی تارکین وہ لوگ ہیں جو اپنے گاؤں میں کسان، ماہی گیر یا مزدور تھے، مگر جب شہر پہنچ کر کام کی تلاش میں نکلتے ہیں تو انتہائی سخت، اور کم اجرت والے کام میں پھنس جاتے ہیں)۔ یہ چلچلاتی دھوپ میں اینٹیں اٹھاتے ہیں، حفاظتی پوشاک کے بغیر سیوریج لائنوں کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں، یا بھری سبزی منڈی میں سامان کو دھکیلتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہاں تک کہ شدید گرمی میں سڑکوں پر جھاڑو دینا بھی ایک کام ہے جو شہر میں چائینیز کمپنیاں ان موسمی تارکین سے کرواتی ہیں اور اس کےعوض انہیں 600 سے 700 روپے دہاڑی ملتی ہے۔ ہم سبھی اس بات سے واقف ہیں کہ غیر رسمی معیشت میں کوئی حفاظتی جال نہیں ہے اور نہ کوئی معاہدہ ہے، نہ ہی معقول اجرت کی کوئی ضمانت ہے۔ حتیٰ کہ بدسلوکی سے کوئی تحفظ کا تصور تک موجود نہیں۔ قوانین ضرور موجود ہیں مگر ان پر عمل در آمد کون کروائے؟

ایسے حالات میں خواتین اور بچے زیادہ کمزور اور متاثر ہوتے ہیں۔ انہیں انتہائی کم اجرت پر رکھا جانا ایک معمول کی بات ہے بلکہ بچوں کو تو اکثر گھریلو غلامی یا خطرناک چائلڈ لیبر پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اور کام نہ کرنے پر تشدد کے سینکروں واقعات میڈیا کی زینت بنتے ہیں۔

ساتھ ہی یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ کراچی کی کچھ صنعتیں اس سستی، ڈسپوزایبل افرادی قوت پر پروان چڑھتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ تارکین مزدور شہر پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے زیادہ تر اپنے آبائی گاؤں میں رجسٹرڈ ہیں نہ کہ اس شہر میں جس میں وہ کام کر رہے ہیں اور رہائش پذیر ہیں۔ ان کے شناختی پتے، ووٹ، ڈومیسائل تمام کاغذات آبائی علاقوں کے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا پانی کا سرکاری حصہ ان کے آبائی ضلع میں ہوگا اور وہ وہاں سے سماجی تحفظ (بینظیر انکم سپورٹ و دیگر) کے حقدار ہوں گے۔ اگر کسی سرکاری نوکری میں ان کے آبائی ضلعے کا کوٹہ ہوگا تو یہ باآسانی وہ نوکری حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے لاکھوں تارکین کراچی جیسے بڑے شہر میں رہتے ہیں اور مردم شماری میں شمار ہوئے بغیر اس کے انفراسٹرکچر کو استعمال کرتے ہیں۔ اب یہ حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں سہولیات کو بہتر بناتے ہوئے ان تارکین کو رہائش اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ یہ تمام تارکین اپنے گاؤں اور علاقوں میں باعزت زندگی گزار سکیں۔

شہری رہائش اور آب و ہوا کے موافقت کے ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ ناکافی بنیادی ڈھانچے کے نظام کے ساتھ مل کر بے قابو شہری ترقی موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب نقل مکانی کرنے والوں کو شہروں میں خطرات سے زیادہ حساس بناتی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کراچی میں ہر سال 45,000 سے زیادہ نئے تارکین آتے ہیں جو موسمیاتی آفات بشمول سیلاب، خشک سالی اور ساحلی کٹاؤ کی وجہ سے اپنے آبائی شہروں سے نکلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں 2010 کے سیلاب متاثرین اب بھی موجود ہیں جب کہ 2022 کے سیلاب کے بعد بھی تارکین کی ایک بڑی تعداد نے کراچی کا رخ کیا اور یہاں آباد ہوئے – ان متاثرین کا کہنا یہ ہے کہ ان کے آبائی علاقوں میں نہ گھر ہیں نہ روزگار اور نہ ہی کوئی سہولت میسر ہے تو یہ واپس جائیں تو کیسے جائیں؟

آب و ہوا و موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نقل مکانی سے پیدا ہونے والے انسانی بحران سے نمٹنے کے لئے جامع ہاؤسنگ پالیسیاں تیار کرنا اور شہری منصوبہ بندی کا استعمال ضروری ہے۔ یہ تحقیق کرنا بھی ضروری ہے کہ جب موسمیاتی تارکین وطن کراچی کی غیر رسمی کمیونٹیز میں آباد ہوتے ہیں تو وہ کس طرح سماجی و اقتصادی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں۔ جب کہ کراچی میں بے گھر کمیونٹیز کو صحت کی دیکھ بھال اور ذریعہ معاش کے ساتھ ساتھ رہائش تک محدود رسائی کا سامنا ہے۔ یہ ان کے خطرات کے لئے حساسیت کو تیز کرتا ہے۔

موسمیاتی نقل مکانی کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود، کراچی کی شہری پالیسیاں بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے نمٹنے کے لئے ناقص ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے پاس موسمیاتی بحرانوں کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کے لئے محدود وسائل ہیں۔ شہری منصوبہ بندی بدستور کمزور ہے۔ ہم نے دیکھا کہ حکام موسمیاتی موافقت کی حکمت عملیوں کو کراچی کے ترقیاتی ماڈل میں ضم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ سستی رہائش کا فقدان، بنیادی ڈھانچے کی ناقص منصوبہ بندی اور عوامی خدمات میں ناکافی سرمایہ کاری اس بحران کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

موجودہ صوت حال یہ ہے کہ کراچی بریکنگ پوائنٹ پر پہنچ گیا ہے۔ ایک جانب معاشی تارکین ہیں جو صرف معاش کی تلاش میں ملک کے دوسرے حصوں سے کراچی آئے اور یہیں بس گئے پھر اس کے ساتھ ہی موسمیاتی تبدیلیوں سے مجبور ہوکر نقل مکانی کرنے والے ہیں جو کہ گویا بے گھری کی زندگی گزار رہے ہیں اور سطح سمندر کی بلندی، گرمی کی لہروں اور شہر کے گرد و نواح میں کم ہوتی زراعت کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب شہر کے وہ مکین ہیں جن کی تیسری اور چوتھی نسل اسی شہر میں پیدا ہوئی اور اب وہ شہر کے تباہ ہوتے انفراسٹرکچر کو دیکھ رہے ہیں، جس میں رہائش، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، پانی اور روزگار کی شدید کمی بے نقاب ہوتی جا رہی ہے۔ کئی سالوں سے بے قابو شہری پھیلاؤ، کمزور طرز حکمرانی اور آفات کی منصوبہ بندی نہ ہونے نے شہر کو اس بحران سے دوچار کر دیا ہے کہ کراچی کو اب اپنے انتہائی پسماندہ رہائشیوں کے لئے ناقابل رہائش شہر قرار دیا جانے لگا ہے۔

یہ حالات فوری اننظامی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں: یعنی موسمیاتی تبدیلیوں اور ممکنہ آفات سے نمٹنے سے متعلق بنیادی ڈھانچہ، مضبوط تباہی کے ردعمل کے نظام اور بے گھر افراد کے لئے سماجی تحفظ کا ایک نظام وضع کیا جائے۔ لیکن صرف پالیسیاں کافی نہیں ہیں بلکہ ان پر عمل درآمد کب کیسے اور کون کرے گا یہ تعین بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے حکومت اور اداروں کو، این جی اوز اور کمیونٹیز کی تمام سطحوں پر تعاون کی ضرورت ہوگی۔

کراچی میں اس بڑھتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے کے لئے حکومت کو فوری پالیسی ردعمل کی ضرورت ہے۔ اس موسمیاتی نقل مکانی کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے اور دوبارہ آبادکاری کے پروگراموں کے ذریعے کمیونٹی تک سماجی، اقتصادی اور بنیادی رسائی کی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ آب و ہوا میں سرمایہ کاری ان آفات کو کم کر سکتی ہے، جب کہ مضبوط ڈیزاسٹر رسپانس سسٹم اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لئے تعاون کے ساتھ، لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ کمزوروں کو بااختیار بنانے کے یہ تمام اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حل سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کی ضروریات پر مبنی ہوں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید بڑھے گا اور ایک وقت آئے گا جب شہر کا انتظام چلانا ممکن نہیں رہے گا۔

اربن پلانر، ریسرچر کراچی اربن لیب آئی بی اے