Get Alerts

ڈسٹرکٹ اپر چترال میں لڑکیوں کے لیے الگ کالج کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، لیکن طالبات سراپا احتجاج کیوں ہیں؟

"میرے گھر سے نئے کالج کا فاصلہ تین گھنٹے کا ہے، چھ گھنٹے تو سفر میں ہی گزر جائیں گے۔ پڑھیں گے اور آرام کب کریں گے؟ ٹرانسپورٹ بھی نہیں دے رہے ہیں۔"

ڈسٹرکٹ اپر چترال میں لڑکیوں کے لیے الگ کالج کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، لیکن طالبات سراپا احتجاج کیوں ہیں؟

ذرائع کے مطابق پہلے اس کالج کا کچھ پتا نہیں تھا۔ اچانک ایک گھر کرائے پر لیا گیا اور جو طالبات ایک قائم شدہ کالج میں پڑھتی ہیں، جہاں کے اساتذہ انتہائی قابل اور تجربہ کار ہیں اور پڑھائی کا ایک اچھا ماحول ہے، اچانک ان کا اس کالج میں داخلہ ممنوع کر دیا جاتا ہے۔

اس کے لئے اوپر سے آرڈر جاری کیا جاتا ہے، بلکہ ایک ڈی ای او (DEO) کا تبادلہ کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک اصول پسند انسان تھا۔ پھر اپنا من پسند ڈی ای او تعینات کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے رات کے وقت آرڈر جاری کرایا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں میں نے کچھ گاؤں والوں سے بات کی جو اس کیس سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق ڈی ای او کے ذریعے ایک آرڈر نکالا گیا جو سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ اس میں محترمہ ڈپٹی سپیکر کو بھی سی سی (CC) کیا گیا ہے۔

اس نوٹیفکیشن کے مطابق آئندہ کے لئے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول مستوج میں فرسٹ ایئر میں طالبات کے داخلے کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کو طالبات کی اعلیٰ ثانوی تعلیم کے لئے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔

اعلیٰ حکام کی زبانی ہدایات کے مطابق، آپ کو ان احکامات کی سختی سے تعمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں سکول کی ایک متاثرہ طالبہ سے، نام نہ بتانے کی شرط پر، بات کی۔ ان کا کہنا ہے:

"ہم کالج میں ایک ماہ سے پڑھ رہے ہیں، پھر اچانک ہماری مرضی کے بغیر اپنی پسند ہم پر مسلط کی جا رہی ہے۔ ہم 28 طالبات کالج کے افتتاح میں بھی گئی تھیں۔ اس وقت ہم ڈپٹی سپیکر سے ملے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ مجھ سے فاصلہ رکھو، پھر جب ہم نے ٹرانسپورٹ کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہم ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری نہیں لے سکتے؛ ایک تو کالج آپ کے لئے بنایا اور اب ٹرانسپورٹ بھی ہم دیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ "میرے گھر سے نئے کالج کا فاصلہ تین گھنٹے کا ہے، چھ گھنٹے تو سفر میں ہی گزر جائیں گے۔ پڑھیں گے اور آرام کب کریں گے؟ ٹرانسپورٹ بھی نہیں دے رہے ہیں۔"

پاکستان کے آئین اور انتظامی قوانین کے مطابق، سپیکر، ڈپٹی سپیکر یا کوئی بھی رکنِ اسمبلی، ضلعی، صوبائی یا قومی سطح کے کسی بھی انتظامی ادارے کے روزمرہ کے داخلی یا انتظامی امور میں بلاواسطہ مداخلت، احکامات جاری کرنے یا تبادلوں پر اثر انداز ہونے کا آئینی حق نہیں رکھتا۔

اس نوعیت کا ایک اور کیس ڈگری کالج اپر چترال میں سامنے آیا تھا، جس میں پی ٹی آئی اپر چترال کے نمائندوں کا نام آ رہا تھا۔ اس کیس میں ایک پرنسپل اور پروفیسر کا تبادلہ سیاسی بنیادوں پر کیا گیا تھا اور کالج کئی مہینوں تک فزکس کے کسی استاد کے بغیر چلتا رہا۔

پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل کے مطابق، اس کیس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ سامنے والے طاقتور ہیں، طالبات صرف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہیں اور سٹے (امتناعی حکم) لے کر اپنا تعلیمی عمل جاری رکھ سکتی ہیں۔

چترال سے تعلق رکھنے والے سکالر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کے مطابق، یہ کالج فراڈ ہے اور پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ (سیاسی نمبر بنانے) کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

ان کے مطابق، کسی کالج کی فیزیبلٹی بنتی ہے، زمین خریدی جاتی ہے، ٹینڈر دیا جاتا ہے اور آخر میں سٹاف ہائر (بھرتی) ہوتا ہے، جس میں 45 ٹیچنگ سٹاف سمیت کل ملا کر 110 تک کا سٹاف بھرتی کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بورڈ سے الحاق (افیلی ایشن) ہوتا ہے کہ کالج کس بورڈ کے ساتھ منسلک ہے۔ یہاں ایسا کچھ نہیں ہے، بس ایک گھر کرائے پر لیا گیا اور کلاسز شروع کر دی گئیں۔

ان طالبات کو امتحان بھی دینا ہے۔ اس کے بعد یہ طالبات بوائز ڈگری کالج مستوج یا بونی کے ساتھ الحاق کریں گی۔