Get Alerts

بھارت پاکستان کے ساتھ امن کے لئے تیار، چین ثالثی کرائے گا

بھارت امریکی بزنس مین سنت سنگھ چٹوال نے باقاعدہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے تقریباً 33 منٹ فون پر بات کی اور حکومت کو جنگی پالیسی سے فوراً پیچھے ہٹنے سمیت امریکہ میں لابنگ کے لئے طریقہ کار واضح کیا جس کے لئے پہلا ٹارگٹ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت سے پرہیز کرنا اور چین کے ذریعے پاکستان کو امن کی پیشکس کرنا ہے

بھارت پاکستان کے ساتھ امن کے لئے تیار، چین ثالثی کرائے گا

یہ بات حقیقت ہے کہ بھارت کے اکثریتی عوام اور اقلیت میں حکمران ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ امن کے خواہاں رہے ہیں۔ یہاں تک کہ گذشتہ 10 سالوں میں بھی جب نریندر مودی جیسے فاشسٹ شخص کی حکومت تھی، بھارتی پارلیمان سے لے کر عوام کی اکثریت امن کے ہی خواہاں رہے۔ پاکستان کے اندر تو ہمیشہ سے بھارت سے دوستی کا بیانیہ عوامی بیانیہ تصور ہوتا ہے اور پاکستان نے کبھی بھارت دشمنی یا ہندو دشمنی کو عوام میں نہیں اُچھالا، ہاں یہ ضرور ہے کہ جب جب بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈا پھیلایا گیا یا ہمارے خلاف جارحیت ہوئی تو پاکستان کے عوام نے آرمی اور حکومت کے ساتھ یک زبان ہو کر بھارت کو کرارا جواب دیا۔ عسکری سطح پر 10 مئی نے لیکن دنیا بھر کا نظریہ بھی تبدیل کر دیا۔

بھارت کو جنگ ہارنے کے بعد جب سفارتی سطح پر اور بھارت کے اندر شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تو بھارت ایک اور بیوقوفی کی جانب بڑھنے کو تیار ہو گیا کہ دوبارہ پاکستان پر حملہ کیا جائے یا کوئی فالس فلیگ دوبارہ کیا جائے تا کہ ہزیمت کو مٹایا جا سکے مگر تابوت میں آخری کیل ڈانلڈ ٹرمپ کا بھارت پر ٹیرف 50 فیصد کرنے کا فیصلہ ثابت ہوا۔

بھارت نے شروعات میں اس بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیا مگر حیران کن طور پر ایک اہم ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی کہ بھارت کے ارب پتی بزنس مین حضرات نے حکومت پر ناصرف پریشر ڈالنا شروع کیا بلکہ باقاعدہ دھمکی لگانا شروع کر دی کہ اگر سفارتی معاملات خوش اسلوبی سے حل نہ کیے تو بہت جلد ہم اپنی تمام سرمایہ کاری بیرون ملک شفٹ کر لیں گے۔

اہم ذرائع نے بتایا کہ دھمکی لگانے والے دو بزنس مین اور ان کے گروپ کی مجموعی سرمایہ کاری جسے پہلے فیز میں منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے وہ 4 بلین ڈالر کے قریب ہے۔ جب کہ ان دو گروپس کے سربراہ بھارت میں پرائیوٹ بزنس گروپس کی متعدد ایسوسی ایشنز کی سربراہی بھی کرتے ہیں جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ دو گروپ اپنی سرمایہ کاری کو بیرون ملک شفٹ کرتے ہیں تو دیگر گروپس بھی اپنا کاروبار بھارت سے منتقل کرنا شروع کر دیں گے۔

اسی معاملے کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت امریکی بزنس مین سنت سنگھ چٹوال نے باقاعدہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے تقریباً 33 منٹ فون پر بات کی اور حکومت کو جنگی پالیسی سے فوراً پیچھے ہٹنے سمیت امریکہ میں لابنگ کے لئے طریقہ کار واضح کیا جس کے لئے پہلا ٹارگٹ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت سے پرہیز کرنا اور چین کے ذریعے پاکستان کو امن کی پیشکس کرنا ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ آئندہ عرصے میں چین کی ثالثی سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔ حالیہ چینی وزیر خارجہ کا دورہ بھارت و پاکستان اس کی ایک کڑی ہے۔ اگر ثالثی کامیاب رہی تو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے بھارت دستبرداری کا اعلان کرے گا جہاں سے معاملات کو مزید بہتری جانب لے جایا جائے گا۔ چین کے ذریعے پاکستان سے تعلقات کو بہتر کرنے سے امریکہ پر دباؤ بڑھایا جائے گا اور یہ باور کرایا جائے گا کہ بھارت چین کی جانب مکمل جا سکتا ہے جس کے بعد امریکہ میں لابنگ کی جائے گی اور ملاقاتیں شیڈول کی جائیں گی۔

البتہ اس تمام تر صورتحال کے پیش نظر اگر پاک بھارت تعلقات میں چین کی ثالثی کے باعث بہتری آتی ہے تو چین، بھارت اور پاکستان مل کر ایران اور افغانستان کو شامل کر کے ایک نیا تجارتی بلاک بھی بنا سکتے ہیں جس کے لئے واحد شرط پاک بھارت بارڈر پر امن کا قیام اور تجارتی تعلقات کی بحالی ہے۔

عظیم بٹ لگ بھگ 8 برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ بطور سماجی کارکن ملکی و غیر ملکی میڈیا فورمز اور ٹیلی وژن چینلز پر پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ سردست وہ سماء ٹی وی کے ساتھ بطور ریسرچر اور پروڈیوسر وابستہ ہیں۔ ان کا ٹویٹر ہینڈل یہ ہے؛ Azeembutt_@