آکسفورڈ یونیورسٹی کے رائٹرز انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم کی جانب سے شائع ہونے والی نئی رپورٹ "کلائمیٹ چینج اینڈ نیوز آڈینسز رپورٹ 2025" میں دنیا کے 8 ممالک، جن میں برازیل، فرانس، جرمنی، بھارت، جاپان، پاکستان، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں، میں عوام کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خبروں تک رسائی، اعتماد اور رویّوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے نتائج بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں عالمی سطح پر دلچسپی برقرار ہے، مگر خبروں تک رسائی کم ہوئی ہے۔ عوام کا کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لیے سیاسی قیادت پر اعتماد کم اور سائنسدانوں پر بھروسہ برقرار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی یا مصنوعی ذہانت کے کلائمیٹ چینج میں کردار پر رائے منقسم نظر آئی۔
رپورٹ کا لنک: Climate change and news audiences report 2025: Analysis of news use and attitudes in eight countries
رپورٹ میں جولائی 2023 سے جولائی 2025 کے درمیان 24 میں سے 21 مہینوں میں عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے تقریباً ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ (1.5°C) سے زیادہ ریکارڈ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جو سائنسدانوں کے مطابق شدید موسمی واقعات میں اضافے کی وارننگ ہے۔ یہ وہ حد ہے جسے پیرس معاہدے میں خطرناک موسمی اثرات کی حد سمجھا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس حد سے اوپر جانا شدید اور ممکنہ طور پر ناقابلِ واپسی موسمی اثرات اور خطرناک موسم کا باعث بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی سال 2022 کی اسٹڈی کے مقابلے میں 2025 میں موسمیاتی خبروں میں کمی کے باوجود سائنسدانوں پر اعتماد میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ سیاسی قیادت پر اعتماد کم ہوا ہے۔
موسمیاتی خبروں میں کمی
رپورٹ کے مطابق بڑے ممالک میں کلائمیٹ نیوز میں کمی دیکھی گئی ہے۔ فرانس، جرمنی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ میں لوگوں نے پہلے کے مقابلے میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خبریں کم دیکھیں، پڑھیں یا سنیں۔ اس کے برعکس، برازیل، بھارت اور پاکستان میں موسمیاتی خبروں کا مجموعی رجحان نسبتاً مستحکم رہا۔
رپورٹ میں موسمیاتی خبروں میں کمی کی دو بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں: ٹیلی ویژن پر موسمیاتی کوریج کم ہوئی ہے، اور 45 سال سے زائد عمر کے افراد میں کلائمیٹ نیوز میں دلچسپی بھی کم ہو چکی ہے۔ اسٹڈی رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ پچھلے تین سالوں میں نوجوانوں اور آن لائن ذرائع استعمال کرنے والوں میں موسمیاتی خبروں کی کھپت میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ یہ تبدیلی عوامی دلچسپی میں کمی نہیں، بلکہ میڈیا کے پلیٹ فارمز اور کوریج پیٹرن میں تبدیلی ہے۔ چونکہ روایتی ٹی وی پر ماحولیاتی بحران سے متعلق مواد گھٹ گیا ہے اور ناظرین ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، اس لیے موسمیاتی خبروں کی مجموعی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کی کوریج کے حوالے سے لوگوں میں اس بات پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ کلائمیٹ نیوز کی رپورٹنگ نہایت اہم ہے۔ آٹھ ممالک میں اوسطاً 80 فیصد سے زائد افراد کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر رپورٹنگ کرتے وقت نیوز میڈیا کو رہنمائی فراہم کرنے والی غیر جانبدار خبریں دینی چاہئیں۔
سروے میں تقریباً آدھے افراد کہتے ہیں کہ وہ موسمیاتی معلومات کے لیے نیوز میڈیا پر اعتماد کرتے ہیں، اور 2022 کے بعد زیادہ تر ممالک میں یہ اعتماد تقریباً مستحکم رہا ہے۔ کلائمیٹ نیوز کے لیے میڈیا کی خبروں پر اعتماد سب سے زیادہ پاکستان میں (72%) جبکہ سب سے کم فرانس میں (36%) ریکارڈ کیا گیا۔
سیاسی قیادت پر اعتماد
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ کئی ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو نظرانداز یا سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال اُس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل میں ہونے والی عالمی کلائمیٹ کانفرنس COP30 کے افتتاح میں دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ شرکت نہیں کی، جبکہ وہ ماضی میں موسمیاتی تبدیلی پر شکوک کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ ایسے بیانات اور اقدامات عالمی موسمیاتی قیادت پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔
ڈیٹا کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے عوامی رائے میں سیاسی قیادت پر اعتماد مجموعی طور پر کمزور نظر آتا ہے۔ صرف تقریباً تین میں سے ایک فرد کو یقین ہے کہ ان کے سیاسی رہنما درست ترجیحات طے کر رہے ہیں، صحیح فیصلے لے رہے ہیں اور دیگر ممالک کے لیے مثبت مثال قائم کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً 55 فیصد افراد نے سیاسی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اعتماد کی سطح ممالک کے درمیان مختلف رہی۔ بھارت میں سیاسی قیادت پر نسبتاً زیادہ اعتماد دیکھا گیا، جبکہ فرانس، جاپان اور جرمنی میں اعتماد کی شرح کم رہی۔ سروے رپورٹ میں ایک چھوٹا طبقہ، جو سمجھتا ہے کہ گلوبل وارمنگ حقیقت نہیں، سیاسی قیادت پر قدرے زیادہ اعتماد رکھتا ہے بنسبت اُن افراد کے جو گلوبل وارمنگ کو حقیقت مانتے ہیں۔
میڈیا کی موسمیاتی تبدیلی کی کوریج کے بارے میں رائے کا رجحان بھی ملا جلا رہا۔ تقریباً ایک تہائی افراد سمجھتے ہیں کہ میڈیا سیاسی رہنماؤں کے اقدامات کی مؤثر رپورٹنگ کرتا ہے۔ سیاسی طور پر دائیں بازو کے افراد نسبتاً زیادہ پُراعتماد، جبکہ بائیں بازو کے افراد کم پُراعتماد دکھائی دیے۔
سروے نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جو افراد نیوز میڈیا پر زیادہ اعتماد رکھتے ہیں یا موسمیاتی مسائل میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، وہ میڈیا کی سیاسی کوریج کو زیادہ مثبت انداز میں دیکھتے ہیں، جبکہ کم اعتماد یا کم دلچسپی رکھنے والے افراد زیادہ شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔
موسمیاتی خبروں کی کوریج کی اہمیت پر نمایاں اتفاق پایا جاتا ہے۔ آٹھ ممالک میں اوسطاً 80 فیصد سے زائد افراد کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر رپورٹنگ کرتے ہوئے نیوز میڈیا کا کردار بطور آگاہی یا تعلیم، غیر جانبدار رپورٹنگ اور میڈیا کا واچ ڈاگ کردار اہم ہے۔
تحقیق کے مطابق برطانیہ اور امریکہ میں لوگوں کو لگتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ میڈیا اتنا اچھا کام نہیں کر رہا، یعنی توقعات اور کارکردگی میں بڑا فرق ہے۔ دوسری جانب بھارت اور پاکستان میں لوگوں کی رائے میں میڈیا کی کارکردگی اور ان کی توقعات کے درمیان فرق نسبتاً کم ہے۔
اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال اور موسمیاتی تبدیلی پر اس کے اثرات
مصنوعی ذہانت تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے طور پر موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے طریقوں کو بدل رہی ہے۔ ایک طرف اے آئی قابلِ تجدید توانائی کے نظام کو بہتر بنانے، موسمیاتی ماڈلنگ اور پیش گوئی کو زیادہ درست کرنے میں مددگار سمجھی جا رہی ہے۔ دوسری طرف خدشات بھی موجود ہیں کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے توانائی کے استعمال اور بجلی کی طلب میں اضافہ کر سکتی ہے۔
اے آئی کے استعمال اور اس کے موسمیاتی تبدیلی پر اثرات سے متعلق نتائج کے مطابق آٹھ ممالک میں اوسطاً تقریباً ایک تہائی افراد (35%) کا خیال ہے کہ اے آئی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مجموعی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگی، جبکہ تقریباً ایک چوتھائی (26%) اسے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، ایک بڑی تعداد غیر یقینی کا شکار ہے۔ 22% افراد کے مطابق اے آئی نہ فائدہ مند ہوگی نہ نقصان دہ، اور 17% نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں اے آئی کو فائدہ مند یا نقصان دہ سمجھنے والوں میں سروے میں واضح ہوا کہ پاکستان اور بھارت میں زیادہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اے آئی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ سب سے زیادہ مثبت رویہ بھارت (52%) اور پاکستان (49%) میں دیکھا گیا، جہاں تقریباً نصف لوگ سمجھتے ہیں کہ اے آئی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں فائدہ مند ہوگی۔ اس کے برعکس، فرانس میں زیادہ لوگ شک و شبہ کا شکار ہیں، جہاں 35% افراد اسے نقصان دہ سمجھتے ہیں اور صرف 23% اسے فائدہ مند مانتے ہیں۔
یاد رہے کہ اے آئی کے توانائی استعمال اور کاربن فٹ پرنٹ کے بارے میں تحقیق بتاتی ہے کہ اس کا اثر ماڈل، ڈیٹا سینٹر اور استعمال کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایک اے آئی سوال/جواب میں روایتی ویب سرچ کے مقابلے میں زیادہ بجلی خرچ ہو سکتی ہے، کیونکہ بڑے ماڈلز کو طاقتور سرورز پر چلایا جاتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی مانگ ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی ضرورت اور کاربن اخراج میں اضافہ کر سکتی ہے۔