لاہور: 2018 سے قائم رضاکار تنظیم ، پیپلز کمیشن فار منارٹیز رائٹس (پی سی ایم آر) کےلاہورمیں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں پی سی ایم آر کی کونسل کے اراکین نے شرکت کی جن میں محترمہ فاطمہ عاطف (سیاسی و سماجی کارکن)، محترمہ لبنٰی جرار نقوی (صحافی)، ڈاکٹر اے ایچ نئیر (ماہرِ تعلیم)، ڈاکٹر ریاض احمد شیخ (ڈین برائے سماجی علوم، ذیبسٹ) اور مسٹر پیٹر جیکب (چیئرمین، پی سی ایم آر) شامل تھے۔ اجلاس میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور سفارشارت تیار کی گئیں۔
شرکاء نے بلا تاخیر نیشنل کمیشن فار منارٹیز رائٹس (این سی ایم آر) کے چیئرمین اور اراکین کے میرٹ اور شفافیت پر مبنی تقرر سمیت دیگر اہم مطالبات پر زور دیا۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ حکومت اسے فعال بنانے کے لیے مالی سال 2027–2026 کے وفاقی بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
محترمہ فاطمہ عاطف نے این سی ایم آر ایکٹ 2025 کے فوری نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا:" اس ایکٹ کی منظوری پاکستان میں اقلیتی حقوق کے تحفظ کی سمت میں ایک تاریخی قدم تھا، تاہم محض قانون سازی ہی کافی نہیں ہوتی۔ اس ایکٹ کو پاس ہوئے پانچ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ کمیشن ابھی تک غیر فعال ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر چیئرمین کا تقرر کر کے کمیشن کو اس کے قانونی مینڈیٹ کے مطابق مزید تاخیر کے بغیر فوری طور پر فعال کیا جائے۔"
ڈاکٹر اے ایچ نیّر نے کلاشا برادری کی صورتحال کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا:'"الاشا پاکستان کی قدیم اور منفرد نظام العقائد میں سے ایک ہے، لیکن قانونی تحفظ کے اعتبار سے یہ اب بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ کلاشا کے لیے عائلی قانون ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اس قانون کے بغیر شادی، وراثت اور ان کی ذاتی حیثیت سے متعلق حقوق غیر محفوظ ہیں۔ ہم خیبر پختونخوا اسمبلی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس قانون کو کلاشا برادری کی مشاورت کے ساتھ پر منظور کرے تاکہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔"
پیٹر جیکب نے غیر امتیازی اور متوازن تعلیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا:"آئین کا آرٹیکل 22(1) پانچ دہائیوں سے موجود ہے، لیکن اس پر عملدرآمد اب بھی انتہائی مخدوش ہے۔ اقلیتی طلبہ کو آج بھی ایسے نصاب پڑھنا پڑتا ہے جو ان کے عقائد کا حصہ نہیں ہے۔ غیر امتیازی تعلیم محض ایک تجویز نہیں بلکہ ایک آئینی ذمہ داری ہے۔علاوہ ازیں اقلیتی مز اہب کی تعلیم کے لئے اسکولوں کو تربیت یافتہ اساتذہ فراہم کیے جائیں تاکہ ہر بچہ پورے وقار کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکے۔"
ڈاکٹر ریاض احمد شیخ نے کہا:"بری تبدیلیِ مذہب پاکستان میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ ہر شہری کے اپنے عقیدے پر قائم رہنے کے حق کا تحفظ کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت جبری تبدیلیِ مذہب کے خلاف ایک جامع قانون منظور اور نافذ کرے، اور خاص طور پر اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ان خواتین اور بچوں کے تحفظ پر توجہ دی جائے جنہیں سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔"