Get Alerts

آئین کی بالادستی سے ہی بقا ممکن ہے

1973 کا آئین ریاست کے تین ستونوں، مقننہ، عدلیہ اور ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار کا تعین کرتا ہے۔ ٹرائیکوٹومی  (trichotomy) کے اصول کا مقصد ایک دوسرے کے  دائرہ  اختیارمیں عدم مداخلت ہے، لیکن ہماری تاریخ اور موجودہ آئین کے 50 سالوں میں اس کی کئی بار خلاف ورزی ہوئی ہے۔  ماورائے  آئین  اقدامات اور ماضی میں عدلیہ کی طرف سے ان کی توثیق انتہائی افسوسناک عمل  رہے  ہیں

آئین کی بالادستی سے ہی بقا ممکن ہے

مقننہ خودمختار ہے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی بالادستی ہر چیز سے بالاتر ہے   قانون ساز درحقیقت آئین کے فریم ورک کے اندر عوام کی طرف سے دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہیں   آئین  بالاتر  ہے، فرائیڈے ٹائمز، 31  مارچ   2025 

1973 کا آئین ریاست کے تین ستونوں، مقننہ، عدلیہ اور ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار کا تعین کرتا ہے۔ ٹرائیکوٹومی  (trichotomy) کے اصول کا مقصد ایک دوسرے کے  دائرہ  اختیارمیں عدم مداخلت ہے، لیکن ہماری تاریخ اور موجودہ آئین کے 50 سالوں میں اس کی کئی بار خلاف ورزی ہوئی ہے۔  ماورائے  آئین  اقدامات اور ماضی میں عدلیہ کی طرف سے ان کی توثیق انتہائی افسوسناک عمل  رہے  ہیں  آئین، ٹرائیکوٹومی اور بحران، بزنس ریکارڈر، 7 اپریل 2023 

1947  میں  پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک     یکے بعد دیگرے آنے والی سویلین اور فوجی حکومتیں سماجی و اقتصادی تفاوت، مرکز اور صوبوں کے درمیان سیاسی و معاشی  عدم توازن، غربت، کم مراعات یافتہ طبقے کے تئیں بے حسی، عسکریت پسندی، مذہبی اور سیاسی عدم برداشت کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

پچھلے  78  سالوں میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود    الگ مسلم ریاست  کے قیام کے  اصل محرکات،   نظریہ پاکستان  اور سیاست میں فوج  کے کردار کے بارے میں نہ ختم ہونے والی بحثیں  جاری ہیں، مگر  مسائل دن بہ دن گھمبیر سے  گھمبیرترین   ہو رہے ہیں۔

یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے1973 کے آئین(آئین)  کے وجود میں آنے کے پچاس سال سے زائد عرصے میں  کسی بھی منتخب وزیراعظم نے اپنی 5 سالہ مدت پوری نہیں کی، بشکریہ نام نہاد جمہوری جماعتوں اور پاک سرزمین  کی اصل طاقت  کے  درمیان  عوام  دشمن اتحاد۔ اس تاریخ سے سیاست دانوں نے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔ وہ باہم  سیاسی بات چیت کے ذریعے متنازعہ مسائل کو حل کرنے کے لیے نہ ماضی میں  تیار تھے اور نہ ہی اب  ، بلکہ انھیں اعلیٰ عدالتوں میں لے جانے کو ترجیح دیتے  رہے ہیں ۔ اب تو  اعلیٰ  ترین عدالت میں نام نہاد آئینی بینچ اور  بنچوں کا    حال بھی سب کے سامنے ہے۔

 آج کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے، کوئی  بھی سمجھ سکتا ہے کہ پاکستان کو اپنے قیام کے بعد سے ہی کیوں آئینی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور مساوات پر مبنی حقیقی جمہوری نظام کے قیام کے  لئے ایک مشکل چیلنج کا سامنا  رہا ہے۔ طویل فوجی  حکومتوں اور "کنٹرولڈ ڈیموکریسی"  (controlled democracy)کے تجربات کے درمیان پاکستانیوں کو ان کی خود مختاری  (independence)کے حق سے  محروم کیا گیا ہے، جس کے لیے برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے لیے بہت سے لوگوں نے اپنی جانیں اور بہت سے اپنی عزتیں قربان کیں۔

آمرانہ  فوجی حکمرانوں اور ان  کے  طفیلی سیاستدانوں نے   آزادی کے کچھ برس بعد ہی تمام ریاستی  اداروں، خصوصاً  عدلیہ کو  بے بس کر دیا  تھا۔  ملک کی  اعلیٰ  ترین عدالت   آنے والے دنو ںمیں ہر غیر آئینی حکو مت  کے لیے منظوری دینے والا  ریاستی  بازو  بن  گئی۔ تاہم، 9 مارچ  2007  کا    انفرادی  انکار ایک   اداراجاتی  آزادی کا آغاز تھا،  جو 16 مارچ 2009 کو ججوں کی بحالی پر منتج ہوا۔اب اس کو پھر سے طفیلی سیاستدانوں  کی مدد سے چھین لیا گیا ہے۔

16 مارچ 2009 کے  بعد، سپریم کورٹ آف پاکستان نے بہت سے قابل ذکر فیصلے سنائے، خاص  طور پر2012  میں اصغر خان کے مقدمے ( 2012SCMR 2008)  کا فیصلہ۔   

 اپنی  ماضی کی غلطیوں   کا کفارہ ادا کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے انسانی حقوق مقدمہ نمبر 19 آف 1996   میں تاریخی فیصلہ صادر کیا   ،جس پر آج تک  عمل نہیں ہو  سکا۔ اس حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی اس بات کی گواہی  ہے کہ اگست 2008 میں جنرل پرویز مشرف کے صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد تمام سویلین حکومتیں، اگرچہ جمہوریت کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، وہ دراصل حقیقی آقاؤں کی اطاعت کرتی رہی ہیں اور ان کے خلاف  کسی بھی عدالتی فیصلے پر عملدرامد کا تصور بھی نہیں کر سکتی ہیں۔

2009سے 2023 تک، سپریم کورٹ  کے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت کئی سوموٹو  (suo mutu)کیسز میں فیصلوں ،  بشمول پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 دنوں میں ہونے والے انتخابات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی۔  بہت سے حلقوں، خاص طور پر اقتدار میں رہنے والوں،  کی طرف سے ہمیشہ سخت تنقید کی جاتی رہی ہے کہ عدلیہ "اپنی آئینی طور پر متعین حدود سے تجاوز کر رہی ہے"۔ پاناما کیس میں، یہ ان تینوں وکلاء کا بنیادی زور تھا ، جنہوں نے تین بار منتخب وزیر اعظم، ان کے خاندان اور قریبی رشتہ دار، وزیر خزانہ کی نمائندگی کی،  جن کو ڈی فیکٹو (de facto) پرائم منسٹر  کہا جاتا  تھا۔وہ آج کل ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ کے عہدوں پر فائز ہیں۔   

آئینی (چھبیسویں ترمیم) ایکٹ، 2024 (26 ویں ترمیم)، جسے 21 اکتوبر 2024 کو پارلیمنٹ نے انتہائی  عجلت میں منظور کیا اور اسی دن صدر پاکستان کی منظوری حاصل کی، عدلیہ کو مسخر کرنے  اور آئین کے آرٹیکل 184(3)   کا اہتمام اور اختتام کرنے کے لئے کے لیے ڈیزائن کیا گیا  ۔

 عدالتی اصلاحات کے حوالے سے متنازعہ اور مبہم ہونے کی وجہ سے یہ  ترمیم در اصل  انصاف کی فراہمی کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ اس  ترمیم نے بنیادی طور پر "عدلیہ کے اختیارات کو  محدود کرنے" کا کام کیا ہے۔    "انصاف تک آزادانہ اور منصفانہ رسائی کے حق" اور "قانون کی حکمرانی" کی خلاف ورزی کی بنیاد  پر اس ترمیم کو  بین الاقوامی اور ملک گیر تنقید کا نشانہ بنایا  گیا ہے۔

چھبیسویں ترمیم  کی متعدد شقوں کا مقصد بظاہر ملک کے  عدالتی نظام کو درپیش خرابیوں کو دور کرنا ہے،  مگر اصل محرک سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ریاستی نظام پر ان لوگوں کے مکمل کنٹرول کو یقینی بنایا جائے، جو بندوق کی طاقت رکھتے ہیں ! 

 حقیقی طاقت کے حامل بہت مدت سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے کچھ ججوں پر "غیر چیلنج شدہ (کھوئی ہوئی) کمان" دوبارہ حاصل کرنے کے بارے میں فکر مند تھے۔ قانونی جواز کے سنگین مسئلے سے دوچار حکومت  اور جبر اور زیادتیوں کے الزامات سے متاثر  یہ قدم محض مکمل   کنٹرول کے بارے میں ہے۔ چھبیسویں ترمیم   ہر گز آئینی  اور جمہوری اصولوں کے مطابق پیش  نہیں کی گئی تھی ۔ اس سے ریاستی اداروں خصوصاً    عدلیہ کی سالمیت اور آزادی کو مزید نقصان    پہنچا ہے ۔  

 اس ترمیم  کے پیچھے بنیادی وجہ سپریم کورٹ میں  بنچوں کی تشکیل اور عوامی اہمیت کے مقدمات کی شنوائی پر جاری رسہ کشی  تھی،  جس نے پاکستان کے تقریباً  ہر شہری کو حیران کردیا تھا۔ عام لوگ معزز جج صاحبان   کے درمیان اتنی واضح تقسیم کی توقع نہیں کر سکتے تھے۔ اس طرح کی تقسیم کی توقع ان ججوں سے کم از کم  نہیں کی جا سکتی تھی،  جنہوں نے ان لوگوں سے اپنا راستہ منقطع کیا جنہوں نے ایک بار مرحوم جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کی توثیق کی تھی،  اور  اس کو آئین میں ترمیم کا حق  تک دے ڈالا تھا۔

17ستمبر 2023 کو، بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے29ویں چیف جسٹس  کا حلف ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں ایک قابل ذکر تبدیلی کی نشاندہی  تھی ۔ تاہم، یہ بھی  16 مارچ 2009 کو ججوں کی بحالی اور پھر چیف جسٹس چوہدری محمد افتخار کی ناپسندیدہ  میراث کی طرح  ایک اور فریب نظر  ثابت ہوا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے پیشرو، بشمول، میاں ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ، گلزار احمد، اور عمر عطا بندیال،  کو متنازعہ فیصلوں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی موضوعی تشریحات کے ساتھ متعدد مبینہ "غلط جوڈیشل ایکٹوازم" کے لیے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔  فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کے الزامات اور سیاسی ایجنڈوں سے منسلک فیصلوں نے ان کی میراث کو متنازع بنا یا ،اور  یہ ہی حال جسٹس فائز عیسیٰ  کا بھی ہوا ،جو  25 اکتوبر 2024 کو ریٹائر ہوئے۔

پاکستان میں، بلاشبہ، سیاسی معاملات  کے کیسز میں اعلیٰ عدلیہ کی خصوصی    دلچسپی نے ، عوامی تحفظات  کو جنم دیا ، خاص طور پر جب  عام لوگوں کے مقدمات کو  وقت پر نمٹانے میں تمام عدالتیں ناکام رہی ہیں   ۔   یہ عدم توازن سپریم کورٹ اور تمام عدالتی سطحوں پر مقدمات کے بہت بڑے   baclog سے ظاہر ہے، جو نظام کی نا اہلی کو واضح کرتا ہے اور اس طرح جمہوریت کے بنیادی ستون، انصاف کی فوری فراہمی کے حوالے سے،  ظاہری بے حسی کو نمایاں کرتا ہے۔

بہت سے لوگوں کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس ترقی ان کے پیشرووں کی مبینہ عدالتی حد سے بڑھ کر کام کرنے کی روش سے ایک  خوش آئند رخصتی تھی، لیکن یہ سراب ثابت ہوا!  اب پاکستانی قوم پر امید ہے کہ 30ویں چیف جسٹس مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی انصاف تک رسائی، ججوں کے معیار اور تنازعات کے فوری حل کے  لئے عدالتی نظام میں مثبت اصلاحات لائیں گے۔

چھبیسویں ترمیم  نے آئین کے آرٹیکل175  اے  ترمیم کرکے چیف جسٹس آف پاکستان اور ہائی کورٹس کے ججوں کی تقرری کا ایک نیا طریقہ کار وضع کیا ہے،  جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کو تبدیل کرتے ہوئے کسی بھی فیصلہ سازی کے عمل میں اکثریت ججز کی بجاۓ   ارکان پارلیمنٹ اور حکومتی  نمایدگان  کو دے دی گئی  ہے۔

22 اکتوبر 2024 کو 26ویں ترمیم کی منظوری کے بعد، مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی  کو پاکستان کے 30ویں چیف جسٹس کے طور پر نامزد کیا گیا،  جب کے ان سے سینئر دو نامور ججوں، مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ اور مسٹر جسٹس منیب  اختر، کو نظرانداز کر دیا  گیا ۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے 23 اکتوبر 2024 کو مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی کو   notify کیا اور انہوں نے 26 اکتوبر 2024 کو تین سال کی مدت کے لیے اپنے عہدے کا حلف لیا۔

مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی کے  سامنے سب سے بڑا چیلنج پاکستان میں  قانونی کارروائیوں کا طویل دورانیہ ہے، جو اکثر حتمی طور پر پہنچنے سے پہلے کئی دہائیوں پر محیط ہوتا ہے۔ کیا آئینی بینچ  کا  قیام اس مسئلے کو حل  کرےگے؟  بہت سے معاملات میں، سیاسی  کیسز سے متعلق نہیں، آئین کی کسی شق کی تشریح شامل  ہوتی ہے۔ 26 ویں ترمیم کے بعد ایسے تمام مقدمات کی سماعت صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں نئے داخل کردہ آرٹیکل  191اے  اور 202 اے کے تحت آئینی بنچوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔اب تک کا تجربہ بتا رہا ہے کہ  سپریم کورٹ کا آئینی  بینچ وہ مقاصد حاصل نہیں کر پا رہا ،جس کے لئے اس کا قیام عمل میں  لایا گیا تھا، البتہ طاقت کا مرکز اب "عدالتی مداخلت "کے خوف سے محفوظ ہے!

 بدقسمتی سے، پاناما کیس کے نتیجے میں سیاسی پولرائزیشن اور  منتحب احتساب نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے معاشرے کے تمام طبقات، خاص طور پر وکلاء، میڈیا، سماجی اور سیاسی کارکنوں کی جانب سے کی جانے والی  مشترکہ جدوجہد کو کمزور کر دیا۔ کتنا المیہ ہے کہ 2009 میں سویلین دور شروع ہونے کے بعد بھی لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لیے رو رہے ہیں۔

 2009 میں تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے وعدہ کردہ "انصاف" کے بارے میں اب  مکمل مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ قانون کی حکمرانی اور گڈ گورننس اور 1973 کے آئین کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ اکیلے ہی ریاست میں بار بار ہونے والی افراتفری کے حالات کو ختم کر سکتے ہیں۔

تاہم، ہائی کورٹس میں اربوں کے ٹیکس کے مقدمات اپنے حق میں کروانے میں ایگزیکٹو کی کھلی اور صریح مداخلت نے 26ویں ترمیم کے نتیجے میں سب کچھ بے نقاب کر دیا ہے۔ نیو ایسٹ انڈیا کمپنی، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)،  کے لئے مقامی گمشتہ (کمپنی بہادر کے ایجنٹوں کے لیے ایجاد کردہ مقامی اصطلاح) ،  کا کردار ادا کرتے ہوئے   ،آج کے حکمران ریاست پر  شہریوں اور بڑے کاروباری اداروں  کا جو کچھ بھی  یقین بچا ہے،  اسے تباہ کر رہے ہیں۔

ہماری تاریخ عوام دشمن اور آمرانہ    حکمرانوں    کے ہاتھ سے برباد ہوئی ہے فوجی اور سویلین دونوں یکساں طور پر اس میں شامل ہیں۔ 

اصغر خان کے کیس نے ان گھنائونے واقعات کا انکشاف کیا کہ کس طرح طاقتور  افرادنے عوام کے مینڈیٹ کو نظر انداز کرنے اور مسخ کرنے کی کوشش کی۔ یہ عمل ہمیشہ سے  جاری ہے اور 8  فروری  2023کے  انتخاب واحد مثال نہیں  ۔ یہ جمہوری سیاست کے قیام میں اجتماعی ناکامی کا سب سے بڑا عنصر ہے، باوجود اس "کھلے اعلان" کہ فوج اب "غیرجانبدار" ہے ، نہ صرف سیاست میں بلا روک ٹوک مداخلت، بلکہ ان کی ماورائے آئین کارروائیوں کی توثیق کرنے میں عدلیہ کا کردار بھی ہماری تاریخ میں یکساں طور پر قابل عمل  رہا ہے۔

 دیگر تمام اداروں کی طرح آزادی کے بعد کے دور میں عدلیہ بھی کمزور جمہوری روایات، معاشی مفادات کے درمیان لڑائی، بااثر سیاستدانوں کی دشمنی اور جاگیرداروں کے گروہوں اور سول ملٹری بیوروکریسی کے درمیان اقتدار کی تلخ کشمکش کا شکار رہی۔

اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ نے سیاسی نظام کو کمزور کرنے کے لیے ذمہ دار چہروں کی نشاندہی کی لیکن ادارے کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ یہ ان کی "انفرادی حرکتیں" تھیں۔ اعتراف کیا گیا کہ ایک بینک نے سیاسی مقاصد کے لیے بھاری رقم جاری کی تھی۔ بعد میں، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے رپورٹ کیا، "کچھ بھی ثابت نہیں ہوا"! 

اس کیس نے ایک ایسے نظام کی نزاکت کو بے نقاب کر دیا، جہاں قانون کی حکمرانی نہ کبھی  تھی اور نہ آج ہے۔ اب بھی بغیر کسی  استثنیٰ کے اس  کی  کھلی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ 

اصغر خان کیس  مرکزی ملزم کی نظرثانی کی درخواست اور اپریل 2019 میں ایف آئی اے کو تحقیقات جاری رکھنے کا حکم اب کسی کے لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے، یہاں تک کہ آئینی بینچ   اور  نام نہاد متحرک میڈیا کے لیے بھی نہیں۔

جیسا کہ "پریس اور قوم ایک ساتھ اٹھتے اور گرتے ہیں"، عدلیہ کے لیے بھی ایسا ہی ہے۔ بلاشبہ ریاست کا کوئی بھی ادارہ سماجی، اقتصادی، سیاسی حالات سے الگ تھلگ کام نہیں کرتا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ سپریم کورٹ کو ایک بار پھر ایک تاریخی چیلنج کا سامنا ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ دوسروں کے احتساب کا  فیصلہ کرنے والوں کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

 جوہری اور میزائلوں سے مزین  واحد اسلامی ملک کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع   کے دعویدار اور  اعلیٰ ترین ججوں  سے احتساب شروع ہونا چاہیے۔ انہیں رضاکارانہ طور پر آگے آنا چاہیے اور خود، شریک حیات اور زیر کفالت افراد کی حقیقی آمدنی/اثاثوں/ذمہ داریوں کا اعلان کرنا چاہیے۔ ایک بار جب اعلیٰ عدلیہ   اور جنرلز رضاکارانہ طور پر یہ  اعلانات عوام کے سامنے  رکھ دیں گے تو    تمام طاقتور لوگوں کو 1973 کے آئین کی بالادستی کا یقین ہو جائے گا   ۔ آئین اور قانون کی بالا دستی  کو الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرنا ہو گا۔

16 مارچ 2009 کے تناظر میں، قوم انصاف کی فراہمی کے لیے حقیقی طور پر پرجوش تھی۔ سبھی نمائندہ جمہوریت کے قیام اور موثر احتساب کی توقع کر رہے تھے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کا مشاہدہ کیا۔ 

پاکستان میں نظم و نسق  کی بحالی اور انصاف کی فراہمی اور حقیقی جمہوری نظام  اور معاشی انصاف کا قیام آج تک محض  خواب ہے۔

 چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری بنام صدر پاکستان  اور ڈاکٹر مبشر حسن بنام 

فیڈریشن آف پاکستان و دیگر کے فیصلوں کے نتیجے میں قانون کی حکمرانی، سماجی انصاف اور معاشی مساوات کی امید وقتی طور پر ابھری، لیکن بے رحمی سے  اس کا راستہ روک دیا۔اس کے ذمہ دار وردی والوں کے  علاوہ عدلیہ کے سربراہ  بھی ہیں۔

ہمیں بحیثیت قوم 1973 کے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر سختی سے عمل کرنے کا عزم کرنا  ہو گا۔ اگر ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، خاص طور پر   دستور پاکستان ، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت یا ادارے سے تعلق رکھتے ہوں، تو پھر آئین کی بالادستی اور جمہوری نظام کا کیا مطلب ہے؟

اب وقت آگیا ہے کہ تمام عوام نواز قوتیں اور عوام ایک حقیقی جمہوری حکمرانی، مساوی معاشرہ اور سب کے احتساب  کے لیے  عہد نامہ پر دستخط کریں۔ احتساب محض تب    نہ  ہو جب کوئی سیاست دن  اپوزیشن میں ہو۔ احتساب سب کا  ہو۔   ان کا بھی جو نظریہ پاکستا ن کے  نام نہاد محافظ ہونے کا دعویٰ  کرتے ہیں اور بیرون ملک اثاثوں کا انبار لگاتے ہیں ۔     اپنے  احتساب سے بچنے کے لئے نظریہ اور مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔ احتساب کا عمل سب کے لیے ہونا چاہیے، اکیلے سیاستدانوں کا نہیں    یہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے اور 1973 کے آئین  کے آرٹیکل  10 اے کے تمام تقاضوں کو پورا  کرتے ہوئے۔

مضمون نگار وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایڈجنکٹ فیکلٹی، ممبر ایڈوائزری بورڈ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سینیئر وزٹنگ فیلو ہیں۔