Get Alerts

الفاظ کا زوال اور خبر کی بے حرمتی

خبر کی اصل روح، یعنی ذمہ داری، توازن اور سماجی شعور، کہیں پیچھے رہ گیا ہے، جب کہ الفاظ کی بے احتیاطی نے صحافت کو ایک نئی صنف میں بدل دیا ہے جو ادب سے نہیں بلکہ بازار سے قریب تر ہے۔ یہاں الفاظ کا انتخاب سچائی سے زیادہ ریٹنگ کے تابع ہے اور زبان کی تہذیب خبر کی رفتار میں کہیں گم ہو چکی ہے

الفاظ کا زوال اور خبر کی بے حرمتی

وقت کے ساتھ ساتھ ہر سماج میں تبدیلی آتی ہے، اقدار بدلتی ہیں، ترجیحات نئی صورت اختیار کرتی ہیں اور اظہار کے پیرائے بھی نئے قالب میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہی اصول ادب، ڈرامہ، افسانہ، شاعری اور بالخصوص صحافت پر بھی صادق آتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں صحافت کی بنیاد ہی ادب کے بطن سے نکلی تھی۔ ابتدائی اخبارات اور رسائل ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں کے ہاتھ میں تھے۔ اس لئے زبان میں شائستگی، تہذیب، رمزیت اور وقار نمایاں تھا۔ خبر بھی ایک طرح کا بیانیہ ہوتی تھی جس میں الفاظ صرف اطلاع نہیں دیتے تھے بلکہ سماج کی اخلاقی حدود کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔

اردو صحافت کے ابتدائی دور پر نظر ڈالیں تو ہمیں مولوی محمد باقر، سر سید احمد خان، مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرت اور حسرت موہانی جیسے لوگ نظر آتے ہیں جو بیک وقت ادیب بھی تھے اور صحافی بھی۔ ان کی تحریروں میں زبان کی نزاکت، محاورے کی صحت اور قاری کے جذبات کا احترام بنیادی اصول تھا۔ خبر لکھتے وقت یہ خیال رکھا جاتا تھا کہ الفاظ نہ صرف سچ بولیں بلکہ شائستگی کے دائرے میں بھی رہیں۔ اسی لئے سماجی طور پر حساس معاملات، خاص طور پر خواتین سے متعلق واقعات، براہِ راست اور عریاں زبان میں بیان نہیں کیے جاتے تھے بلکہ علامتی اور مہذب انداز اختیار کیا جاتا تھا۔

دو تین دہائیوں قبل کی صحافتی زبان کا اگر آج کے میڈیا سے موازنہ کیا جائے تو واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔ اس دور میں اگر کسی خبر میں کسی خاتون کے ساتھ بدسلوکی یا دست درازی کا واقعہ پیش آتا تو اسے یوں لکھا جاتا کہ "ملزم کو رنج تھا کہ مقتول اس کی بہن یا بیٹی کے ساتھ غلط حرکات کرتا تھا"۔ یہاں "غلط حرکات" جیسا مبہم مگر مہذب لفظ پورے واقعے کی سنگینی کو بھی ظاہر کر دیتا تھا اور قاری کے ذہن کو غیر ضروری تفصیلات سے بھی محفوظ رکھتا تھا۔ زبان کا یہ پردہ دراصل سماج کی اخلاقی حساسیت کا آئینہ دار تھا۔

لیکن وقت بدلا، سماج بدلا اور اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کا مزاج بھی بدلتا چلا گیا۔ الیکٹرانک میڈیا کے فروغ، ریٹنگ کی دوڑ اور فوری شہرت کی خواہش نے صحافت کو ادب سے بتدریج دور کر دیا۔ اب صحافت محض اطلاع رسانی نہیں رہی بلکہ ایک صنعت بن گئی، جہاں خبر کو بیچنے کے لئے سنسنی، اشتعال اور چونکا دینے والی زبان کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا جانے لگا۔ نتیجتاً صحافتی زبان کا وہ تہذیبی پردہ آہستہ آہستہ اترنے لگا جو برسوں سے قائم تھا۔

اس تبدیلی کے ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ صحافیوں کی جگہ نام نہاد صحافی آ گئے۔ نمائندے، رپورٹر، اینکر اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سب خود کو صحافی کہلانے لگے۔ نہ پیشہ ورانہ تربیت، نہ زبان و بیان کی سمجھ اور نہ ہی صحافت کے بنیادی اصولوں سے واقفیت۔ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا نے ایک ایسی کھیپ تیار کی جن کے پاس نہ صحافت کی ڈگری تھی اور نہ ہی صحافت کا شعور۔ ان کے لئے خبر ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک تماشہ بن گئی، جسے زیادہ سے زیادہ چونکا دینے والے الفاظ میں پیش کرنا ہی کامیابی سمجھا جانے لگا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں زبان کے انتخاب میں خواتین کا استحصال سب سے زیادہ نمایاں ہوا۔ اب اخبارات اور ٹی وی سکرینوں پر 'جنسی درندگی'، 'براہِ راست زیادتی'، 'جنسی حملہ' اور 'ریپ' جیسے الفاظ عام ہو گئے۔ بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حقیقت نگاری ہے اور سچ کو سچ کہنے کا تقاضا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت کو بیان کرنے کے لئے عریاں اور بے رحم زبان ہی واحد راستہ ہے؟ کیا خبر کی ترسیل کے لئے ایسے الفاظ ضروری ہیں جو متاثرہ فرد کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوں؟

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ واقعات بیان کیے جا رہے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کس انداز میں بیان کیے جا رہے ہیں۔ پرانی صحافت میں زبان سماج کو مہذب رکھنے کا ذریعہ تھی، جب کہ آج کی صحافت میں زبان خود ایک ہتھیار بن چکی ہے جو جذبات کو بھڑکاتی ہے، خوف پھیلاتی ہے اور سنسنی کو فروغ دیتی ہے۔ خواتین کے ساتھ ہونے والے واقعات اب ہمدردی اور وقار کے ساتھ نہیں بلکہ تفریح اور ریٹنگ کے زاویے سے پیش کیے جاتے ہیں۔ یوں متاثرہ خاتون ایک انسان نہیں رہتی بلکہ خبر کا 'مواد' بن جاتی ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اب میڈیا میں 'غلط حرکات' خاتون کے ساتھ نہیں بلکہ خبر کے ساتھ ہوتی ہیں۔ خبر کی اصل روح، یعنی ذمہ داری، توازن اور سماجی شعور، کہیں پیچھے رہ گیا ہے، جب کہ الفاظ کی بے احتیاطی نے صحافت کو ایک نئی صنف میں بدل دیا ہے جو ادب سے نہیں بلکہ بازار سے قریب تر ہے۔ یہاں الفاظ کا انتخاب سچائی سے زیادہ ریٹنگ کے تابع ہے اور زبان کی تہذیب خبر کی رفتار میں کہیں گم ہو چکی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت کو دوبارہ اپنی ادبی اور اخلاقی جڑوں سے جوڑا جائے۔ زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری سمجھا جائے۔ صحافی کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کا ایک لفظ کسی فرد کی عزت، کسی خاندان کے وقار اور کسی معاشرے کی سوچ کو متاثر کر سکتا ہے۔ صحافت اگر واقعی معاشرے کا آئینہ ہے تو اس آئینے میں شائستگی، وقار اور انسانی احترام کا عکس بھی ہونا چاہیے، ورنہ یہ آئینہ صرف چہرے نہیں دکھائے گا بلکہ سماج کی بدنما حقیقتوں کو مزید بدنما بنا دے گا۔

مصنف کالم نگار، فیچر رائٹر، بلاگر، کتاب 'صحافتی بھیڑیے' کے لکھاری اور ویمن یونیورسٹی صوابی میں میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔