قدرت نے پاکستان کو وہ سب کچھ تھالی میں سجا کر دیا ہے جس کی دنیا تمنا کرتی ہے۔ شمال کے برف پوش پہاڑوں سے لے کر مری کی صنوبر سے ڈھکے پہاڑیوں تک، ہمارے پاس وہ جغرافیائی خاکہ موجود ہے جو ہمیں دنیا کی بہترین سیاحتی منزل بنا سکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیاحت ہماری قومی معیشت اور دنیا میں پاکستان کے نرم و مثبت امیج (Soft Power) کی ضامن بنتی۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ جوابدہی کے شدید فقدان اور انتظامی عدم توجہی نے اس قدرتی اثاثے کو مقامی تجارتی مافیاز کے ہاتھوں یرغمال بنوا دیا ہے، جہاں آنے والے سیاحوں اور خاندانوں کو معزز مہمان نہیں بلکہ 'شکار' سمجھا جاتا ہے۔
ہر سال اربوں روپے کے سرکاری فنڈز چمکدار اشتہاری مہمات پر خرچ کیے جاتے ہیں تاکہ دنیا کو پاکستان کی خوبصورتی دکھائی جائے لیکن جیسے ہی کوئی عام شہری یا فیملی سفر پر نکلتی ہے، وہ امیج زمینی حقائق کے آگے پاش پاش ہو جاتا ہے؛ من مانے دام، معیار پر سوال اٹھانے پر ہجوم کا گھیراؤ، اور مقامی پولیس کا وہ رویہ جو اس بھتہ خوری پر آنکھیں بند رکھتا ہے۔ جب ریاست کی قلمرو مقامی مافیا کے منافع پر ختم ہو جائے، تو ایسی تشہیر ایک خوبصورت دام (Trap) میں پھنسانے کے سوا کچھ نہیں کرتی!
تجارت کا ایک 'جبر آموز' اصول تو ہر دکان پر لکھا ہوتا ہے کہ "خریدا ہوا مال واپس نہیں ہوگا"، لیکن مری کے سیاحتی مافیا نے اس قانون کو ایک قدم آگے بڑھا دیا ہے: "اگر آپ خریدی ہوئی ناقص سروس میں خرابی کی نشاندہی کریں گے، تو نہ صرف رقم ڈوبے گی بلکہ آپ پر تشدد اور تذلیل بھی کی جائے گی!"
یہ کوئی فرضی کہانی نہیں، بلکہ ملکہ کوہسار مری کے سب سے حساس اور مرکزی حصے 'جی پی او چوک / مال روڈ' پر ایک پڑھے لکھے سویلائزڈ خاندان کے ساتھ پیش آنے والا وہ المیہ ہے جو اس جڑوں تک گل سڑے نظام کی صحیح معنوں میں عکاسی کرتا ہے۔
مری کے سب سے پررونق، مصروف اور حساس ترین 'مال روڈ' پر ایک خاندان کے ساتھ پیش آنے والے کربناک واقعے نے ریاست اور انتظامیہ کے تمام دعووں کا پول کھول دیا ہے۔ 24 جولائی کو پیش آنے والا یہ واقعہ کوئی وائرل میڈیا کا ڈرامہ نہیں، بلکہ ایک حتمی، دستاویزی اور ریکارڈ شدہ حقیقت ہے، جہاں ہمہ وقت سیکیورٹی کی موجودگی میں ایک معزز فیملی کو مقامی ہوٹل انتظامیہ اور ایجنٹوں کے ہاتھوں شدید تذلیل، ہراسانی اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔
لاہور سے شدید بارش، سڑکوں کی بندش اور تعمیراتی کام کی کوفت برداشت کرتے ہوئے شام گئے مری پہنچنے والی ایک فیملی کو انتہائی اوور چارجنگ کے باوجود ایک غیر ہائی جینک اور غیر معیاری ہوٹل کا سامنا ہوا، تو انہوں نے کینسل کرنے کی درخواست کی۔ لیکن قصہ مختصر کینسلیشن کی سہولت دینے کے بجائے ہوٹل انتظامیہ نے انتہائی بدتمیزی کرتے ہوئے زبردستی مکمل رقم اینٹھنے کی کوشش کی اور فیملی کی جانب سے محض پنجاب کمپلینٹ سنٹر کال (ثبوت موجود) پر ہوٹل عملے نے فیملی کو گھیر لیا۔حد تو یہ ہے کہ جب ایک فرد نے چوک میں کھڑی پولیس کی گشتی گاڑی کے پاس جا کر مدد مانگی، تو پولیس اہلکاروں نے اپنی ڈیوٹی سے مجرمانہ غفلت برتتے ہوئے ہیلپ لائن پر کال کرنے کا طعنہ دیا اور گاڑی لے کر چلے گئے۔
پولیس کی گاڑی جاتے ہی ہوٹل عملے اور ایجنٹوں کے ہجوم نے کھلے عام فیملی پر تشدد اور حملہ کیا۔ شدید خوف اور دباؤ کے تحت جب سنٹرل سسٹم پر ایمرجنسی کال لاگ ہوئی، تب جا کر مالی تاوان وصول کر کے فیملی کو جانے دیا گیا، جسے آدھی رات کو ہی مری اور اپنا پورا پاکستان ٹور پلان چھوڑ کر اسلام آباد میں پناہ لینی پڑی۔
جب جی پی او چوک جیسے اہم چوک پر کوئی مافیا سیاحوں کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنا کر صاف نکل جائے، تو یہ ہماری پوری سیاحتی حکمت عملی کی موت کا اعلان ہے۔۔ مزید برآں، ایسے واقعات کے بعد سامنے آنے والا یہ معذرت خواہانہ اور غیر منطقی بیانیہ کہ "چونکہ آپ نے خود اس مقام اور ہوٹل کا انتخاب کیا تھا، لہٰذا پیش آنے والے حالات کی ذمہ داری بھی آپ پر ہی عائد ہوتی ہے"، ہمارے اجتماعی انتظامی زوال کی نشان دہی کرتا ہے۔
اس منطق کی سادگی کو سمجھنے کے لیے ایک عام مثال ملاحظہ کیجیے: اگر کوئی شہری کسی معیاری ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جائے اور اس کی پلیٹ میں سے کاک روچ یا چھپکلی نکل آئے، تو کیا ریسٹورنٹ انتظامیہ اپنی غلطی تسلیم کرنے اور معیار سدھارنے کے بجائے الٹا گاہک پر چڑھائی اور بل زبردستی لے کرکہ سکتی ہے کہ "آپ ہمارے ہاں کھانا کھانے آئے ہی کیوں تھے؟"
کیا کسی قانون پسند شہری یا سیاح کا محفوظ ماحول، عزتِ نفس اور انصاف کا تقاضا کرنا اس کا انتظامی جرم ہے؟
اصل المیہ یہ ہے کہ ایسے بے شمار واقعات روزانہ کی بنیاد پر دبا دیے جاتے ہیں اور میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اس مخصوص اور دستاویزی واقعے پر بھی نگران اور ذمہ دار اداروں کا طرزِ عمل گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔ شکایت درج کروانے کے بعد جن فوری، شفاف اور مؤثر انتظامی یا قانونی اقدامات کی توقع کی جاتی ہے، وہ تاحال نفاذ کے منتظر ہیں۔ نہ کسی ذمہ دار کی فوری جوابدہی سامنے آئی ہے اور نہ ہی متاثرین کے ازالے کا کوئی اشارہ ملا ہے۔ یہ عدمِ تحرک اس بات کا عکاس ہے کہ کس طرح تجارتی مافیاز کی پشت پناہی اور انتظامی غفلت عام شہری کی جان، مال اور عزت کو ثانوی حیثیت دے دیتی ہے۔
اگر ملک کے کسی نمایاں ترین تفریحی مقام کے مرکزی حصے (مال روڈ) پر قانون کی حکمرانی اور ریاست کی انتظامی قلمرو اس حد تک کمزور دکھائی دے، تو یہ سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ ملک کے دور دراز اور عام علاقوں میں، جہاں میڈیا کی رسائی بھی نہیں ہوتی، عام شہری کی سیکیورٹی اور حقوق کی کیا صورتِ حال ہوگی؟
ہمارے ملک کا بنیادی المیہ یہ بن چکا ہے کہ ہم مسائل کی جڑ کو ختم کرنے کے بجائے صرف عارضی تسلیوں اور سطحی اصلاحات سے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب آپ ایک سوراخ بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آگے سے دس نئے سوراخ کھل جاتے ہیں۔
کسی بھی سڑتے ہوئے ساختاتی مسئلے کا حل اس پر ظاہری پٹی یا "میک اپ" کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی مکمل اور گہری جراحی (Structural Surgery) ہوتی ہے۔
یہ مافیا کلچر کے خاتمہ اور پاکستان کے سیاحتی وقار کی بحالی کے لیے سٹرکچرل تبدیلی شاید ایک خواب ہے لیکن کم سے کم ان انتظامی اقدامات کی فوری ضرورت ہے
- بلاامتیاز قانونی کارروائی اور فوری انصاف: رسمی طور پر درج کی گئی اس شکایت پر تمام ملوث عناصر اور ان کے پشت پناہوں کے خلاف بغیر کسی تذبذب کے سخت قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو پہنچنے والے معاشی و نفسیاتی نقصان کا مناسب معاوضہ (Compensation) ادا کروا کر ان کا فوری ازالہ کیا جائے۔
- زیرو ٹالرنس لائسنسنگ: ٹورزم ڈیپارٹمنٹ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے آپریٹنگ لائسنس کو سیاحوں کے تحفظ اور مناسب قیمتوں سے مشروط کرے۔۔۔ بدسلوکی، زبردستی یا بھتہ خوری کا ایک ثابت شدہ واقعہ بھی متعلقہ ہوٹل کو مستقل طور پر سیل کرنے اور بلیک لسٹ کرنے کا باعث بننا چاہیے۔
- مستقل نگرانی اور شفافیت: سیاحتی اور عوامی مقامات پر آزاد مانیٹرنگ اور شکایت کے فوری ازالے کا ایک خودکار اور شفاف ڈیجیٹل سسٹم قائم کیا جائے تاکہ گاہک یا سیاح کو مافیا کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
- غفلت برتنے والی پولیس کا احتساب: مافیاز صرف تب پنپتے ہیں جب مقامی پولیس ان کی سرپرستی کرتی ہے۔۔۔ مصیبت میں پھنسے شہریوں کو نظرانداز کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت محکمہ جاتی انکوائری قائم کی جائے تاکہ پولیس اور مافیا کا گٹھ جوڑ ٹوٹ سکے۔
- صرف "میک اپ" نہیں، سرجری: محض سیکیورٹی اہلکاروں کی معطلی یا نمائشی دورے مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہیں۔ پورے ٹورزم اور ہوٹلنگ سیکٹر کا مکمل قبلہ درست کرنا ہوگا، جہاں سروس فراہم کرنے والوں کے لیے سخت کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہو اور خلاف ورزی پر مستقل بلیک لسٹنگ کی جائے۔
اصل چیز یہ ہے اگر ہم نے اب بھی سطحی تدابیر پر اکتفا کیا اور اس دیمک زدہ انتظامی نظام کی بنیادوں کی جراحی نہ کی، تو ہم یونہی ایک سوراخ بند کرنے کی ناپائیدار کوششوں میں مصروف رہیں گے اور پورا ملک ان مافیاز کے ہاتھوں یرغمال بنتا رہے گا۔۔ پاکستان کے پاس قدرتی خوبصورتی کی کوئی کمی نہیں، اسے صرف انتظامی عزم اور سیاحوں کو عزت اور تحفظ دینے کی ضرورت ہے