Get Alerts

بلوچ مزاحمت سے مفاہمت تک: میر ہزار خان مری کی سیاسی جدوجہد کا تجزیہ

"مزاحمت سے مفاہمت تک" بلوچ سیاست کے بدلتے منظرنامے اور مفاہمتی حکمت عملیوں کی اندرونی کہانی

بلوچ مزاحمت سے مفاہمت تک: میر ہزار خان مری کی سیاسی جدوجہد کا تجزیہ

بلوچ قوم پرست سیاست اور میر ہزار خان مری: ایک گہرا مطالعہ
عمار مسعود کی تحریر کردہ اور خالد فرید کے تعاون سے مکمل کی گئی کتاب "میر ہزار خان مری: مزاحمت سے مفاہمت تک" بلوچ قوم پرست سیاست کی ایک اہم شخصیت، میر ہزار خان مری، کی سیاسی زندگی اور فیصلوں کا بھرپور اور گہرا جائزہ پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں بلوچستان میں مزاحمتی تحریک کے عروج، ریاستی جبر، اور بالآخر مفاہمت کے عمل تک کا تفصیل سے احاطہ کر کے بتاتی ہے کہ ایک سخت گیر مزاحمتی رہنما کیسے قومی دھارے میں واپس آیا۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ بلوچ مزاحمت کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

اس کتاب میں میر ہزار خان مری کے سیاسی سفر کو مختلف اہم ادوار میں تقسیم کر کے دکھایا گیا ہے۔ اس میں 1970 اور 1973 کی مسلح بغاوت، افغانستان میں ان کی جلاوطنی، سوویت جنگ کے دوران بلوچ گروپوں کی تقسیم، اور جنرل ضیاء الحق کے دور کی مفاہمتی کوششوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب میر ہزار خان مری کو بطور ایک مدبر اور حقیقت پسند سیاستدان پیش کرتی ہے، جو محض مزاحمت اور تصادم پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنی قوم کے وسیع تر مفادات کے پیش نظر سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں رہے۔

کتاب کی گہرائی اس بات میں ہے کہ یہ نہ صرف میر ہزار خان مری کے ذاتی فیصلوں اور کردار کا تجزیہ کرتی ہے بلکہ بلوچ مزاحمتی تحریک کے اندرونی اختلافات، سرداری نظام کی پیچیدہ سیاست، اور ریاست پاکستان کی جانب سے اپنائی گئی "گاجر اور چھڑی" (carrot and stick) جیسی حکمت عملیوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ یہ کتاب بلوچ معاشرت اور سیاست کے ان پوشیدہ پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ ہمیں سمجھاتی ہے کہ کس طرح مختلف فریقوں کے مفادات اور حکمت عملیاں ایک خطے کی تاریخ کو تشکیل دیتی ہیں۔

یہ کتاب بلوچستان کی پیچیدہ تاریخ، قوم پرست سیاست کے ارتقاء، اور ریاستی مفاہمت کی حکمت عملیوں کو سمجھنے والوں کے لیے ایک اہم اور لازمی مطالعہ ہے۔ یہ ہمیں نہ صرف ماضی کے واقعات سے روشناس کراتی ہے بلکہ موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ "میر ہزار خان مری: مزاحمت سے مفاہمت تک" ایک ایسی جامع دستاویز ہے جو محققین، طلباء اور عام قارئین، سبھی کے لیے یکساں مفید ہے۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اور ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔