Get Alerts

مشرقی پاکستان کے بعد بلوچستان بھی؟ ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے

اسلام آباد میں بلوچستان کے معدنی وساٸل پر معاہدے کرنے والوں کو یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس وقت بلوچستان میں 30 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں اور جو کسی نہ کسی طرح اسلام آباد یا لاہور کی یونیورسٹیوں تک پہنچتے ہیں وہ دن دہاڑے غاٸب ہو جاتے ہیں۔

مشرقی پاکستان کے بعد بلوچستان بھی؟ ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے

بلوچستان کے دارالحکومت کوٸٹہ سمیت تقریباً بارہ شہروں میں بلوچ علیحدگی پسند تحریک بی ایل اے نے یلغار کی۔ جوابی کاررواٸی میں پاکستان کے سکیورٹی فورسز کے 10 جب کہ بی ایل اے کے 80 کے قریب افراد مارے گئے۔

اس بات میں کوٸی شک نہیں کہ بلوچستان میں اس وقت امریکی، اسراٸیلی اور بالخصوص انڈیا کی خفیہ ایجنسیاں سرگرم ہے اور وہ سانحہ مشرقی پاکستان کی طرز پر بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن رکیے یہ مسئلہ اتنا اسان نہیں اور بات ادھر ختم نہیں ہوتی۔

بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی میں سوٸی کے مقام پر گیس کے وسیع ذخاٸر 1952 میں دریافت ہوئے اور 1955 سے یہ استعمال میں لانا شروع کیا گیا۔ آج مجھے اور اپ کو اسلام اباد میں اور پورے پاکستان میں سوٸی گیس تو مل رہا ہے لیکن کیا آپ کو پتہ ہے جس ضلع کی یعنی ڈیرہ بگٹی کی یہ پیداوار ہے وہاں پر آج 70 سال بعد بھی تقریباً 60 سے 70 فیصد لوگ اس نعمت سے محروم ہیں۔وہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے آپ کے پاس کیا جواب ہے؟

یہی نہیں پچاس سے زاٸد کھربوں ڈالرز معدنیات رکھنے والے اس صوبے کے 71 فیصد لوگ آج بھی خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں آپ کے لئے ان کے پاس کیا جواب ہے؟ اسلام آباد کے میرٹ اور سرینا ہوٹلز میں بیٹھ کر آپ اس صوبے کے معدنیات کے معاہدے کر رہے ہیں جہاں لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں وہ بی ایل اے کا شکار نہیں بنیں گے تو کیا ہوگا؟

اسلام اباد کے گرم کمروں میں بیٹھ کر منرل واٹر پی پی کر پالیسیز بنانے والوں کو پتہ ہوگا کہ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر رسیورسز کے مطابق بلوچستان کی 99 فیصد آبادی پینے کی صاف پانی سے محروم ہے۔ اسلام آباد میں بلوچستان کے معدنی وساٸل پر معاہدے کرنے والوں کو یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس وقت بلوچستان میں 30 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں اور جو کسی نہ کسی طرح اسلام آباد یا لاہور کی یونیورسٹیوں تک پہنچتے ہیں وہ دن دہاڑے غاٸب ہو جاتے ہیں۔

جناب عالی مشرقی پاکستان آپ سے انڈیا نے علیحدہ کیا تھا لیکن ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانکیے۔ بلوچستان کے حوالے سے پالیسیز بناتے وقت وہاں کے لوگوں کے زمینی حقاٸق بھی سامنے رکھیے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لوگ سونے اور معدنی وساٸل سے مالامال زمین پر ننگے پیر گھوم رہے ہیں۔ ہر ملبہ فتنہ الہندوستان پر ڈالنے کی بجائے اپنی پالیسیز پر بھی نظر ثانی کریں۔